افسانچے

مرد

نئی نویلی دُلہن بے قراری سے دولہے کا انتظار کررہی تھی۔
وہ کمرے میں آیا اور دُلہن کے پاس جانے کی بجائے کونے میں رکھے ہوئے صوفے پر بیٹھ کر سگریٹ کے دھویں سے کھیلنے لگا۔ وہ بہت پریشان تھا، اِس لئے ایک سگریٹ بجھاتا تو دوسرا سلگالیتا۔ کمرہ دھویں سے بھر گیا۔ دُلہن کا دم گھٹنے لگا، وہ سمجھ گئی کہ اُسے کسی طوفان کا سامنا ہے۔ وہ پلنگ سے اُٹھی اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی دُلہے کے پاس آگئی۔
’’کیا بات ہے؟ آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں،کہیں یہ شادی آپ کی مرضی کے خلاف تو نہیں ہوئی ہے؟‘‘ دلہن نے دھیرے دھیرے کہا۔
’’دولہے نے آدھا سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے ایک لمبی سانس لیکر کہا ’’مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا ہوں، میں کسی اور سے پیار کرتا ہوں۔ میری شادی میری مرضی کیخلاف ہوئی ہے۔‘‘
’’کون ہے وہ خوش نصیب جس سے آپ پیار کرتے ہیں‘‘ دلہن نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔
’’وہ میرا پیار ہے، میری زندگی ہے، میرا سب کچھ ہے، میں اُس کے بغیر جی نہیں سکتا‘‘۔ دُولہے نے آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔
’’تو آپ اُسے یہاں لے آیئے، آپ دوسری شادی کیجئے، میں آپ دونوں کی سیوا کروں گی…‘‘ دُلہن نے اعتماد کے ساتھ کہا۔
’’وہ …تم…تم…یہ تم…کہہ رہی ہو… یُو آر گریٹ، دُولہے نے حیرانگی کے عالم میں اُسے گلے سے لگایا اور دُلہن نے بھی اپنے آپ کو اُس کے حوالے کیا۔ 
دُلہن کا سر اُس کی چھاتی پر تھا اور وہ کسی گہری سوچ میں گُم تھا۔ اچانک اُس نے دلہن سے پوچھا ’’کیا تم نے کسی سے پیار کیا ہے؟‘‘
دلہن چند لمحے خاموش رہی پھر دانتوں سے اپنا نچلا ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا 
’’ہاں میں نے بھی پیار کیا ہے‘‘۔
’’کس کے ساتھ؟‘‘
’’محلے کے سب سے خوبصورت نوجوان کے ساتھ‘‘۔
’’اُس کے ساتھ گھوما کرتی تھی؟‘‘
’’ہاں بہت، کیا مزہ آتا تھا اُس کے ساتھ‘‘ دُلہن نے سر جھکا کر مسکراتے ہوئے کہا۔
’’واہ…واہ…کیا مزہ آتا تھا، بڑی بے شرمی سے اپنے یار کے قصے سنا رہی ہو، تمہیں شرم نہیں آرہی ہے، کتنی ذلیل ہو تُم، چل ہٹ دور ہوجا میری نظروں سے… ‘‘دولہے نے کھڑا ہوتے ہوئے کہا۔
’’میں مذاق کررہی تھی…‘‘ دلہن نے کہا ’’میرا کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا‘‘۔
’’شٹ اَپ، بکو مت، دفع ہوجائو‘‘ دولہے نے غصے میں کیا۔
’’مگر آپ بھی تو …شادی سے پہلے …دلہن نے ہکلاتے ہوئے کہا۔
’’میری بات اور ہے ، میں مرد ہوں‘‘
یہ کہہ کر وہ غصے میں جلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
 
 

قسمت

’’آپ کے سپنوں کامحل، آپ کی حویلی ’آسائش گاہ‘ اب ہر طرح سے مکمل ہے۔‘‘ بُری نظر سے بچنے کے لئے حویلی کے ہر کونے میں ایک ایک تعویز گاڑھ دیا گیا ہے۔ سامنے والے ورنڈا پر ’کالا توا‘ لٹکایا ہے۔ مین گیٹ پر اخروٹ کی لکڑی کی ایک تختی آویزان ہے، جس پر لکھا ہے ’’ھٰذا من فضلِ ربی‘‘۔ اب آپ پرسوں آیئے۔ میں حویلی کے آنگن میں آپ کا انتظار کروں گی اور آپ کے آنے کے بعد ہم دونوں ایک ساتھ حویلی کے اندر داخل ہوں گے۔ او کے، میں آپ کا انتظار کروں گی‘‘
یہ کہہ کر سکینہ خانم ، جو ڈاکٹر شجاعت علی کی اہلیہ تھیں، نے فون رکھ دیا۔
’’بھابی کا فون تھا‘‘… ڈاکٹر شجاعت علی کے دوست احسان الحق نے پوچھا۔
’’ہاں تمہاری بھابی کا فون تھا، کہہ رہی تھی سب کچھ تیار ہے، بس آپ کی کمی ہے۔‘‘ڈاکٹر شجاعت نے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے کہا ۔
‘‘کیا قسمت پائی ہے تم نے، دولت، شہرت، اِتنی بڑی حویلی… بڑے قسمت والے ہو… ‘‘احسان الحق نے کہا۔
’’قسمت؟ یہ قسمت بیچ میں کہاں سے آگئی دوست۔ارے بھئی، میں نے دن رات محنت کی، ایم بی بی ایس کے بعد تین اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں، دن رات محنت کرکے ملک کا مشہور و معروف نیورو سرجن بن گیا، سعودی عرب میں خون پسینہ ایک کرکے دولت کمائی اور اس میں سے کچھ حصہ خرچ کرکے ایک حویلی بنائی تاکہ بڑھاپے میں عیش و عشرت کی زندگی گذار سکوں‘‘… ڈاکٹر نے فخر سے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
’’قسمت ہی سب کچھ ہے، قسمت ساتھ نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے‘‘۔ احسان الحق نے چھت کو گُھورتے ہوئے کہا۔
چھوڑو بھئی تم سے بحث کرنا ہی فضول ہے۔ تم میری بات سمجھ نہ پائو گے۔ چلو بازار چلتے ہیں۔ کچھ ضروری چیزیں خریدنی ہیں۔
دونوں دوست بازار گئے اور ڈھیر ساری شاپنگ کی ، اب وہ دونوں کارمیں سوار گھر کی طرف جارہے تھے۔ اُس نے کار روک لی اور دوست سے کہا ’’تم دس منٹ ٹھہرو…میں حویلی کی لابی کے لئے ایک نایاب مورتی لاتا ہوں… یہ کہہ کر ڈاکٹر سڑک کی دوسری طرف چلا گیا۔
ایک بڑی مورتی اُس کے دونوں ہاتھوں میں تھی اور وہ سڑک کراس کررہا تھا تھا۔ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے اُسے ٹکر ماری، مورتی اُس کے ہاتھوں سے گر کر چکنا چور ہوگئی اور خود وہ سڑک کے بیچ میں دم توڑ بیٹھا۔ اُس کا دوست کار سے اُترا اور اُس کی طرف بھاگا۔
لاش حویلی کے باہر ایمبولنس میں پڑی تھی۔ احسان الحق نے اپنی بھابی سے کہا ’’بھابی حویلی کا گیٹ کھولیئے لاش کو اندر……‘‘
’’نہیں بھائی‘‘ سکینہ نے پتھرائے ہوئے لہجے میں کہا’’نئی نویلی حویلی میں کسی مردے کو لے جانا اچھا شگون نہیں ہے۔ آپ اِن کے غسل کا انتظام یہیں حویلی کے باہر کرائیں…!!!
 
موبائل نمبر؛7683062068