افسانچے

نشان

مہیش کالیا پٹرول پمپ کے نزدیک کھڑا گردن میں لٹکتے ہوئے لاکٹ کو بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ادھر ادھر ہلا رہا تھا۔۔آج کسی سیاسی پارٹی نے اسٹیٹ بند کی کال دی تھی اس لئے ہر طرف ہو کا عالم تھا۔سڑکیں خالی اور سنسان تھیں۔دور دور تک کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی۔۔مہیش کالیا خوش تھا کہ آج اسے آرام کرنے کا موقع ملا۔۔۔۔وہ اپنے گاؤں اور گھر والوں کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔چھ ماہ پہلے وہ گاؤں سے شہر آیا تھا اور اسے پٹرول پمپ میں نوکری ملی تھی۔۔وہ اس نوکری سے مطمئن نہیں تھا اور کسی اچھی نوکری کی تلاش میں تھا۔۔۔وہ نوکری کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اس نے ایک کمسن اور خوبصورت لڑکی کو سکوٹی پر آتے دیکھا۔
لڑکی نے اس سے کہا۔۔۔۔بھیا تھوڑا پٹرول ملے گا۔ مجھے کسی ضروری کام سے کہیں جانا ہے۔
مہیش کالیا نے لڑکی کو غور سے دیکھا اور کہا۔۔آج تو پٹرول پمپ بند ہے۔ ہاں میرے پاس اندر کمرے میں پانچ لیٹر پٹرول موجود ہے۔ میں تمہیں وہ پٹرول دونگا مگر ایک شرط پر۔۔۔‌‌وہ یہ کہ تم مجھے یہاں سے تین کلو میٹر دور ایک جگہ تک لفٹ دوگی۔ میرے پاس بائیک نہیں ہے۔
لڑکی نے شرط منظور کرلی ۔مہیش کالیا نے لڑکی کی سکوٹی میں پٹرول ڈال دیا اور پٹرول پمپ کے سکیورٹی اہلکار سے کچھ کہہ کر جیب سے فون نکال کر کسی کے ساتھ بات کی اور پھر لڑکی سے کہا۔۔۔چلو
تین کلو میٹر دور ایک سنسان جگہ مہیش کالیا نے لڑکی کو رکنے کا اشارہ کیا۔۔لڑکی اب واپس مڑنا ہی چاہتی تھی کہ تین غنڈوں نے اسے دبوچ لیا اور اسے ایک ویران مکان میں لے گیے اور اس کی اجتماعی عصمت دری کرکے اس کا گلا گھونٹ دیا اور لاش کو سکوٹی کے پہیوں تلے رکھ دیا تاکہ ایسا لگے کہ وہ حادثہ کا شکار ہو گئی ہے
وہ چاروں وہاں سے چل دیئے اور ٹیکسی کا انتظار کرنے لگے۔۔اچانک مہیش کالیا کے فون پر مسیج ظاہر ہوئی۔
بھیا جلدی گھر آجاؤ۔ بہت بری خبر ہے ہماری بہنا رادھا کی لاش جنگل کے نزدیک ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ غنڈوں نے اس کی اجتماعی عصمت دری کی ہے
غنڈوں کا پتہ پولیس کو بہت جلد ملے گا کیونکہ قاتل وہاں اپنا نشان چھوڑ گیا ہے پولیس کو لاش کے پاس ایک سنہری گھڑی ملی ہے۔ بھیا جلدی آجاو میں بہت اکیلا ہوں۔
اچانک مہیش کالیا کا ہاتھ گردن کی طرف گیا۔۔وہ تقریباً چیخ پڑا۔۔۔۔ارے میرا لاکٹ۔۔۔۔۔۔
���
 

داسی

اس وقت اسے داسی کی بہت یاد آرہی تھی مگر وہ آن لائن نہیں تھی۔۔۔۔اس نے بیقراری کے عالم میں سگریٹ سلگایا اور زور زور سے کش لینے لگا۔۔۔ابھی ایک گھنٹہ پہلے اس کا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا۔اور وہ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور وہ دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔اب وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا
او داسی کہاں ہو تم۔۔۔۔آئی نیڈ یو، آئی نیڈ یو۔۔۔
داسی اس کی فیس بک دوست تھی۔  اس نے داسی جیسی خوبصورت عورت نہیں دیکھی تھی۔ وہ اکثر اس کے ساتھ چیٹنگ کرتا دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بےحد پیار کرتے تھے۔۔داسی نے اسے اپنا دیوانہ بنا کے رکھا تھا۔وہ اب داسی کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔۔اس کو بیوی کے روٹھ کر چلے جانے کا کوئی غم نہیں تھا۔ وہ صرف داسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔ اسے بار بار داسی کا سینڈ کیا ہوا شعر یاد آرہا تھا۔۔۔۔۔
تم میرے سوامی میں تمری داسی ۔۔۔۔ تم بن پیا میں رہوں گی پیاسی۔۔۔وہ بیقراری کے عالم میں سگریٹ کے زور دار کش لگا رہا تھا۔۔۔اس نے پھر سے فون پر نظر دوڑائی
او دیٹ از گریٹ۔ O That is great۔وہ آن لائن ہے۔۔۔اسکا مسیج ملا۔۔
ہائے میرے کنگ کیسے ہو۔ میں تو تمہاری یاد میں تڑپ رہی ہوں۔ کب مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ کر میری پیاس بجھاؤگے۔۔۔
کنگ نے جواب لکھ دیا۔۔‌جب تم چاہو میں تیار ہوں میں تو تمہارا دیوانہ ہوں۔مجھے اس وقت تمہاری سخت ضرورت ہے میں بالکل اکیلا ہوں۔۔چلو کہیں چلتے ہیں
ٹھیک ہے ہوٹل سن شاین کا منیجر میرا بچپن کا دوست ہے۔ میں آج شام چھ بجے کمرہ نمبر زیرو ون ٹُو ون میں تمہارا انتظار کروں گی۔ داسی نے مسیج کیا
کنگ نے نیا سوٹ پہنا اور اپنی محبوبہ سے ملنے چلا گیا۔
اس نےکمرہ نمبر زیرو ون ٹو ون کا دروازہ کھولا۔۔۔اندرصوفے پرایک ہٹا کٹا خوبرو مرد بیٹھا مسکرا رہا تھا
تم کون ہو۔۔۔کنگ نے حیران ہو کر پوچھا۔
میں تمہاری داسی۔۔۔۔۔۔
کنگ واپس مڑا اور باہر جانے کے لیے دروازے کا ہینڈل گھمایا مگر
دروازہ باہر سے بند تھا۔۔۔۔۔
���
 
 

اگر

پونم کے پتی۔شنکر کو ایک اچھی خاصی نوکری ملی تھی۔ تنخواہ امید سے کہیں زیادہ تھی مگر۔مسئلہ یہ تھا کہ اسے صبح سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک ڈیوٹی پر حاضر رہنا پڑتا تھا۔‌ان کی شادی چھ ماہ پہلے ہوئی تھی اور ان کے پاس اپنا مکان نہیں تھا۔ اس لئے شنکر نے یہ نوکری قبول کرلی ۔پونم دن بھر گھر میں بیٹھی رہتی اور ٹی وی پر فلموں سے دل بہلاتی۔۔شنکر رات کے بارہ بجے تھکا ہارا‌آجاتا اور کپڑے بدل کر بیڈ پر لیٹ جاتا اور چند لمحوں کے بعد کمرے میں اس کے خراٹے سنائے  دیتے۔۔۔ پونم اسے نیند کی بانہوں میں دیکھ کر سونے کی کوشش کرتی مگر نیند کی دیوی اس سے کے گلے نہیں لگتی۔۔۔۔
پونم شام کے وقت ایک سڑک کے کنارے چہل قدمی کر رہی تھی اور اپنے پتی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کب وہ یہ نوکری چھوڑ دے ۔۔۔وہ چلی جا رہی تھی کہ اچانک کسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے کار تک لایا۔۔۔اس بدمعاش نے اسے سیٹ کے ساتھ باندھ لیا اور خود ڈرائیو کرنے لگا ‌‌پونم ہاتھ پیر مار رہی تھی مگر بےسود۔۔۔۔
وہ بدمعاش اسے ایک جھونپڑی میں لے گیا اور اس کی عزت کے ساتھ کھیلنے لگا۔پونم نے چیخنا چلانا شروع کیا۔۔۔اچانک ایک ہٹا کٹا آدمی جھونپڑی کا دروازہ توڑ کر اندر آیا اور بدمعاش کو پکڑ کر اس پر گھونسوں کی بارش شروع کی۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ کہتا گیا۔۔۔۔حرام خور خبیث کی اولاد۔ عورت ذات کی عزت سےکھیلتا ہے شرم نہیں آتی۔۔ہم کو نہیں جانتا۔۔ہم نعمان افغانی‌ تمہارا کچومر بنائے گا۔۔۔بدمعاش یہ سن کر کانپ اٹھا اور کسی طرح اپنا آپ چھڑا کر دم دبا کر بھاگ گیا
نعمان افغانی‌ نے اپنا کوٹ اتارکر پونم کو پہنایا اور اس سے کہا۔ چل بہن تجھے گھر پہنچادو ں۔پونم کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
دو روز بعد پونم بیڈ پر لیٹی تھی کہ اس کا شوہر آیا۔۔حسب معمول کپڑے بدلے۔ بستر پر لیٹ گیا اور چند لمحوں بعد خراٹے لینے لگا
پونم نے پیاسی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔۔‌اچانک اس کے ذہن میں ایک آوارہ خیال کلبلایا
اگر اس وقت وہ داڑھی والا افغانی نہیں آتا تو۔۔۔۔۔
 
 

امتحان

آج وہ ایک مشہور و معروف سیاستدان بن چکا تھا اور اس نے اپنی ایک پارٹی بھی بنائی تھی۔ وہ اپنے عالیشان عمارت کے ڈراینگ روم میں بیٹھا نمکین چاے کی چسکیاں لے رہا تھا کہ اس کے خادم نے اس کے سامنے اخبارات رکھدیئے اور کہا کہ صاحب آپ سے کوئی ملنا چاہتا ہے۔۔۔سیاست دان خاورچودھری نے اخبارات ہاتھ میں لیتے ہویے کہا۔۔۔تھوڑی دیر بعد اسے اندر آنے دینا۔
وہ اخبارات میں صرف یہ دیکھ رہا تھا کہ کس کس اخبار میں اسکی تصویر چھپی ہے۔
ایک ادھیڑ عمر کا آدمی اندر آیا  اور آداب بجا کر کھڑا رہا۔
تشریف رکھیئے۔۔۔خاور چودھری نے اس سے کہا۔
سر میں آپ کی پارٹی جوائن کرنا چاہتا ہوں مجھے بچپن ہی سے سیاست دان بننے کا شوق ہے۔ میں اپنے محلے کی سدھار کمیٹی کا صدر ہوں اور ایک این جی او کا چیرمین بھی۔۔۔۔ ‌اندر آے ہوے آدمی نے ادب سے کہا
خوش آمدید محترم۔۔۔۔۔۔ خاورچودھری نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
رجب صاحب۔۔میز پر پڑے میگزین پرایک تصویر بنی ہے اس پر زرا تبصرہ کریں۔۔۔خاو ر چودھری نے اس سے کہا۔
محمد رجب نے میگزین اٹھایا۔ تصویر کو غور سے دیکھا اور کہا۔۔۔۔۔سر تصویر کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شخص خاندانی چور ہے۔انتہائی گھٹیا ۔۔۔لچا لفنگا اور آوارہ آدمی ہوگا۔شرابی کبابی اور جواری بھی۔۔۔۔اور۔۔۔۔‌اس کی بات کاٹ کر چودھری نے بڑے اطمینان سے کہا۔۔۔یہ تصویر میرے سگے بھائی کی ہے!
محمد رجب نے فوراً جواب دیا۔۔۔میں نے غور سے نہیں دیکھا۔۔۔پتہ نہیں میری عینک کہاں ہے۔ وہ جیبیں ٹٹولنے لگا اور اندر کی جیب سے عینک نکالی اور آنکھوں پر چڑھاکے تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔۔سر لگتا ہے کسی خاندانی شریف زادے کی تصویر ہے۔ ضرور کوئی عالم وفاضل اور خاندانی رئیس ہوگا۔ شرافت اور معصومیت اس  کے چہرے سے ٹپکتی ہے، بالکل جیسے آپ کے چہرےسے۔۔۔۔۔۔چودھری نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
رجب صاحب یہ میرا بھائی نہیں ہے۔
محمد رجب نے بھی اطمینان سے جواب دیا۔۔۔میں نے کب کہا کہ یہ آپ کا بھائی ہے۔
چودھری اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور رجب صاحب کے شانے تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔مبارک ہو آپ امتحان میں کامیاب ہوئے۔۔آپ ایک کامیاب سیاست دان بن سکتے ہیں
کل پارٹی کے صدر دفتر پر تشریف لایئے۔۔۔