افسانچے

مساوی حقوق

’’نجمہ اگر کوئی مجھ سے ملنے آئے اور میرے متعلق پوچھے تو کہنا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں‘‘۔سہیل نے اپنی زوجہ سے کہا۔
’’وہ کیوں‘‘ نجمہ نے پوچھا۔ 
’’ہمارے دفتر میں بڑا فراڈپکڑا گیا ہے اس لئے میں باہر ہی رہنا چاہتا ہوں‘‘سہیل نے کہا۔
تھوڑی دیر بعد ڈور بیل بج گئی۔نجمہ دروازے کی طرف لپکی اور سہیل ادھ کھُلی کھڑکی سے دیکھنے لگا۔ایک گبرو جوان تھا لیکن اُسکا جانا پہچانا نہیں ۔نجمہ نے آنے والے سے کہا ’’میرے شوہر آج گھر پر ہی ہیں ‘‘ــ۔وہ اُلٹے پاؤں واپس لوٹا۔سہیل نے نجمہ سے پوچھا’’یہ کون تھااور اُسکو کیوں کہاجبکہ میں نے منع کیا تھا‘‘۔ ’’کیا یہ ضروری ہے کہ وہ آپ سے ہی ملنے آیا تھا‘‘۔۔نجمہ نے کہا۔
 
 

ایکٹنگ

  اشفاق کو صبح سویرے اطلاع ملی کہ اُسکا دوست اسحاق اس دنیا میں نہیں رہا، صبح تڑکے دل کی دھڑکن بند ہونے سے اسکی موت ہوگئی۔
اشفاق دیوانہ وار دوست کے گھر کی طرف لپکا۔وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ میرے دوست پچاس سال کے بعد ساتھ کیوں چھوڑا۔ہم نے اکٹھے جینے مرنے کا وعدہ کیا تھا۔یہ بے وفائی کیوں کی ۔
ہجوم میں کچھ تاڑنے والے نوجوان بھی تھے۔ایک نے کہا دیکھو اسکو کہتے ہیں ایکٹنگ۔جیسے اسکا کوئی عزیز مرگیا ہو،دوسرے نے کہا شاید کوئی لین دین ہو، اسلئے جاندار ایکٹنگ کر رہا ہے۔تیسرے نے کہا شاید گھر سے ہی آنکھوں میں گلسرین ڈال کے آیا ہے۔دیکھو!دیکھو!اُس نے ایکٹنگ میں جان ڈالنے کیلئے کپڑے بھی پھاڑ ڈالے۔
  کپڑے پھاڑ کر اشفاق مُردہ دوست کے ساتھ لپٹ گیا۔اور لپٹا ہی رہا۔اُن کو مشکل سے الگ کیا گیا۔تھوڑی دیر کے بعد بستی سے ایک ساتھ دو جنازے اُٹھائے گئے۔
 
 

ماتم پُرسی

جواد اور سائمہ کی تُو تُو میں میں تمام حدود پار گئی۔نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔آخر جواد کے والد نے رات کے آخری پہر میں مداخلت کی اور لڑائی کی وجہ پوچھی بیٹے نے کہا ’’سائمہ سے پوچھو‘‘
سائمہ بلک بلک کر رورہی تھی اور روتے روتے اپنے سُسر سے کہا ’’میری کوئی خطا نہیں کل مجھے سبھوں کے ساتھ سہیلی کے والد کے چہارم پر جانا ہے۔تین دن میں لگاتار گئی اور تین سوٹ باری باری پہنے۔۔باقی سوٹ تو میں باقی فنکشنوں پر پہنتی آئی ہوں۔اب مجھے کل چہارم پر جانا ہے ۔میں کیا پہن کر جاؤں گی جبکہ میں نے اُسے پہلے ہی کہا تھا۔۔کہ مجھے نیا سوٹ خرید کر لائے۔۔۔‘‘
 
 

بچہ

ابوجی!ممی کو ہسپتال کیوں لیجا یا گیا۔مُنے نے اپنے والد سے پوچھا۔تمہاری ممی کے پیٹ میں بچہ ہے۔وہ اُس کو جلدہی جنم دینے والی ہے۔ویسے تم کیا چاہتے ہو۔بہن چاہے یا بھائی۔ ابوجی نے مُنے سے 
  پوچھا۔ مُنے نے کہا مجھے بہن ہی چاہیے۔ ابوجی نے کہا ،وہ کیوں؟ مُنے نے کہا کہ اگر بھائی ہوگا وہ بڑا ہوکر میرا حصہ دار بنے گا۔بہن بیچاری سُسرال چلی جائے گی۔۔
 
موبائل نمبر؛8899039440