افسانچے

راجہ یوسف
اسلا م آباد،اننت ناگ ، فون نمبر9419734234

خودکفیل
سورج کول تارکی سڑک پر آگ کے تھپیڑے برسا رہا تھا، اور چکنے کول تار سے دھویں کی بھبکیاں اُٹھ رہی تھیں۔ اُس کی دھنسی ہوئی آنکھیں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کا طواف کر رہی تھیں۔ کالے اور کھردرے ہاتھ بڑی تیزی سے گندگی کے ڈھیر کو کھرچ رہے تھے۔ سیاہ جلد پر پسینے کے قطرے سورج کی تمازت سے چمک رہے تھے ۔
دور شہر کے مشہورا سٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریبات کی ابتداء ہوچکی تھی اور لاوڈسپیکر پر ایک نامور سیاسی رہنما کے الفاظ عوام کے کانوں میں رس گھول رہے تھے۔
ـ’’ بڑی کٹھنائیوں کے بعدہم ایٹم بم بنانے میں سپھل ہوگئے ہیں‘‘
اُس کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں اچانک چمک پیدا ہوئی۔۔ ۔ لوہے، تانبے اور پیتل کے کئی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔۔۔ اُس نے پسینہ پونچھا اور چمکیلی سڑک کو پیروں کی نمی سے تر کرتا ہوا کباڑی کی دکان پر پہنچا۔ پانچ روپئے کا نوٹ حاصل کرتے ہوئے اُسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اُس نے بڑی کٹھنائیوں کے بعدایٹم بم بنانے میں سپھلتا پراپت کی ہو ۔
جب بازار سے دو روٹیاں خریدنے کے بعد واپس اپنی جگہ پر پہنچ گیا تو لاوڈسپیکر کی مانوس آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔
’’اب ہمارے دیش میں روٹی کا مسئلہ ہے نہ کپڑے کااور نہ مکان کا۔ اب ہم خودکفیل ہیں‘‘
اور و ہ جھلسا دینے والی دھوپ سے بچنے کے لئے مین ہول میں گھس گیا ۔

دل بدلو
’’ رحمان بھائی! آج کے الیکشن میں کون سی پارٹی جیتے گی۔‘‘
’’صاحب جی ! ہم کو کسی کی ہار جیت سے کیا لینا دینا۔ ہم مزدور ہیں تو مزدور ہی رہیں گے نا۔‘‘
’’ رحمان بھائی،وہ تو بالکل الگ بات ہے۔ دیکھو اب غریب اور مزدور لوگوں کے بچے بھی پڑھے لکھے ہیں۔ اب تم اپنی ہی بات لے لو نا، تیری بیٹی BA Bed ہے، بیٹاMA ہے، پر ان کو نوکری کہاں ملی ہےاورکیا تم نہیں چاہتے ہو کہ تمہارے بچے بھی سرکاری ملازم ہو جائیں، وہ بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں‘‘۔
’’ارے صاحب ! ایسا کون ماں باپ نہیں چاہتا ہے۔۔۔ میں تو پچھلے 15روز سے اسی کوشش میں لگا ہوںاور مجھے پوری امید ہے کہ اب کے اس الیکشن کے بعد میرے بچوں کو نوکری ضرور مل جائے گی۔‘‘
’’ اچھاااا ۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ کیسے ؟؟؟‘‘میں غور سے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس نے بھی رازدارانہ لہجے میںکہہ دیا۔
’’میں روزانہ صبح ہی صبح’’قومی پالٹی‘‘ کے بڑے لیڈرکی بیٹھک پر جاتا ہوں، ان سے وعدہ لیا ہے کہ وہ میرے بچوں کو سرکاری نوکری دے دے گا۔شام کو اپنی ’علاقائی پالٹی‘والے کے گھر جاتا ہوں، اس کو تو بس میرے ہی بچوں کی فکر لگی ہے، وہ جیتا تو میرے بچوں کی نوکری پکی۔ پھر رہی وہ ’آفتاب والی پالٹی‘ وہ ’تارہ والی پالٹی ‘ اوراپنے علاقے کے آزاد امیدوار ۔۔۔ میں نے تو ان سبھی لوگوں سے وعدہ لیا ہواہے۔ کوئی نہ کوئی تو جیتے گا ہی ۔۔۔ جو جیتے گا اسی کو پکڑلوں گا ۔۔۔‘‘
’’ اور ووٹ ۔؟ ووٹ کس کو ڈالو گے؟؟؟‘‘
’’ صاحب جی ۔۔۔ میں ٹھہرا مزدور آدمی۔ اب کون ووٹ ڈالنے کے لئے اپناایک دن برباد کردے گا۔‘‘

یومِ مزدور
’’ رحیمو ۔۔۔ تم ابھی تک یہیں بیٹھے ہو ۔ٹائون ہال نہیں چلنا؟‘‘
’’ ٹاون ہال ۔۔۔ کس لئے ؟ ‘‘
’’ کیا ہوگیا تم کو ۔۔۔ تیری یاداشت ختم ہوگئی کیا۔ آج ہمارا دن ہے۔ مزدوروں کا دن ۔ فسٹ مئی۔‘‘
’’ مجھے نہیں جانا کسی فسٹ وسٹ میں۔‘‘
’’ ارے ۔۔۔ کیسی بات کرتا ہے۔ یہ ہمارا دن ہے اور ہمیں ضروری جانا ہے۔‘‘
’’ لیکن میں تو اب مزدور نہیں ہوں ۔ میں کیوں جائوں ۔‘‘
’’ سنو رحیمو ۔ مزدور کا چاہے ہاتھ کٹے یا پیر، وہ تب تک مزدور ہی رہتا ہے جب تک اس کی گردن نہ کٹ جائے۔‘‘
’’ گردن کٹنے سے ایک ہی آدمی کی موت ہوتی ہے جمال بھائی ۔ میرے ہاتھ کٹنے سے میرا سارا گھر پریوار مر رہا ہے ۔ سیٹھ سلام کے کارخانے میں میرا ہاتھ کٹ گیا اور اسی نے مجھے دھکے دے کر کارخانے سے یہ کہہ کر نکلوا دیاکہ اب میں کسی کام کے لائق نہیں رہا اور تم پیش پیش تھے۔ کتنے دن سے ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلا۔ میری رجو میری کمائی سیٹھانی کی طرح خرچ کرتی تھی اور حاجت مندوں کو دیتے دیتے اس کے ہاتھ نہیں تھکتے تھے ۔ لیکن آج وہی ہاتھ اور وںکے سامنے پھیلا پھیلا کر شل ہورہے ہیں۔ بھیک مانگ مانگ کر ہمارے بچوں اور مجھ اپاہج کو پال رہی ہے۔‘‘
’’ تم چلو میرے ساتھ آج وہیں بات کریں گے۔آج دن ہمارا ہے اور بات بھی ہماری ہوگی۔ ‘‘
آخر رحیمو کی جمال کے سامنے ایک نہ چلی اور وہ اس کے ساتھ ٹاون ہال پہنچ گیا۔ ٹاون ہال کھچا کھچ بھرا تھا اور وہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ کوٹ اور ٹائی پہنے کوئی صاحب مائیک پر نعرے لگا رہا تھا اور مزور ہاتھ اٹھا اٹھا کرجواب دے رہے تھے۔ رحیمو کو بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ وہ بڑی مشکل سے ایک کونے میں کھڑا ہوا ہی تھا کہ جمال نے اس کی قیض کھینچی اور و ہ دھب سے دیوار کے ساتھ رگڑتا ہوا زمیں پر بیٹھ گیا۔ اب اسے ا سٹیج تو نہیں دکھ رہا تھا لیکن ا سٹیج پر جتنے سوٹ والے لوگ کرسیوں اور صوفوں پر بیٹھے تھے ان میںاس شخص کو پہچان لیا تھا جس نے ہاتھ کٹتے ہی اس کو دھکے دے کر اپنے کارخانے سے نکلوا دیا تھا۔ وہ سیٹھ سلام تھا جوا سٹیج کی سب سے اونچی کرسی پر براجمان تھا۔ شاید اسے دیکھ کر ہی جمال جلدی بیٹھ گیا تھا اوراب سر جھکا ئے منہ چھپا رہا تھا۔

بٹوارا
’’ ماں میرے ساتھ رہے گی‘‘
’’ ناہیییں۔ ماں میرے ساتھ رہے گی‘‘
’’ خبردار ۔۔۔ کوئی بھی میری ماں کو مجھ سے چھین نہیں سکتا۔۔۔ ماں میرے ساتھ رہیگی‘‘
پنچ میں بیٹھے مسجد اوقاف کمیٹی کے سارے ممبران حیران و پریشان تھے۔ نہ کوئی ان کا فیصلہ مان رہا تھا اور نہ ہی وہ کسی نتیجے پر پہنچ رہے تھے۔ شور شرابے کی وجہ سے پورا محلہ جمع ہو چکا تھا۔
لڑائی تین بھائیوں کے بیچ تھی۔
لڑائی کی وجہ ماں تھی۔
ماں ۔۔۔ جو شوہر مرنے کے بعد پنشن خوار ہوگئی تھی۔

جبلت
آج اُن کے گروہ میں ایک اور ایسا آدمی شامل ہوگیا جو چاندکو تسخیر کرنا چاہتا تھا، اس لئے معمول کے مطابق انہوں نے اُس کابھی مذاق اُڑایا اور اس کو اپنی بڑائی کا احساس دلانے لگے۔
چاند کو وہ لوگ حقیر شئے سمجھتے تھے اور مریخ تسخیر کرنے کا خواب ذہن میں پالے ہوئے تھے۔انہوں نے نئے آدمی کو اس شرط کے ساتھ اپنے گروہ میں شامل کیا کہ وہ چاند کا خیال چھوڑ کر مریخ فتح کرنے کے منصوبے پرغور کرے۔
لیکن خود وہ سارے یاس اور نا اُمیدی سے آسمان تک رہے تھے ،اور ہر کوئی چاند پر جانے کا خواہش مند تھا۔

تمہاری ماں
میرے بیٹے میں یہ نہیں جتائوں گی کہ میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی ماں اپنی اولاد پر احسان نہیں کرتی ۔ وہ تو اولاد کی سلامتی کے لئے اپنی جان تک نچھاور کرتی ہے۔
جب تم پیدا ہوئے تو بہت ہی کمزور تھے۔ کئی روزتک اسپتال میں بھرتی رکھنا پڑا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ تمہار ا بچنا محال ہے ۔ میں راتوں کو جاگ جاگ کر اللہ کے حضور سربسجود ہوکر روتی رہتی تھی۔اللہ سے تمہاری زندگی کی بھیک مانگتی تھی۔ تمہارے سرہانے بیٹھی میں نے آنکھوں آنکھوں میں کتنی راتیں کاٹ لیں ۔
تمہاری صحت ، پڑھائی، خوشیوں اور چاہتوں کے لئے ہم نے اپنی ساری زندگی قربان کر دی ۔تمہاری پڑھائی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنی ساری جمع پونجی نچھاور کر دی ۔ تمہاری خوشی کے لئے اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹ دیا۔تمہاری شادی بڑی دھوم دھام سے کر دی ۔ اسی دوران تمہارے بابا ہم سے روٹھ کر چلے گئے۔ زندگی ان سے نبھا نہ کر سکی اور میں اپنے ہی گھر میں مالکن سے دائی بن کر رہ گئی ۔ تمہاری اور تمہاری بیوی کی نوکرانی ہوگئی ۔ تمہارے بچوں کی گورنس بن گئی ۔ لیکن تجھے خوش دیکھ کر میرا کلیجہ ٹھنڈا رہتا تھا۔ میں اور جانفشانی سے تم لوگوں کی خدمت میں لگی رہتی تھی۔ مجھے تمہاری خوشی کے بغیر اور چاہئے بھی کیا تھا ۔ لیکن اب جب سے میں کمزور ہوگئی۔ نحیف ہوگئی ۔ تم نے مجھے داماد کے گھر میں ڈال دیا ہے۔ تمہارے باپ کے انتقال کے بعد میں اکثر بیٹی کے گھر جاتی رہتی تھی لیکن ایک دو دن میں ہی تم مجھے واپس لے آتے تھے حالانکہ میں جانتی تھی کہ تمہیں اور تمہاری بیوی کو آفس بھی جانا ہوتا ہے۔ تمہارے گھر میں میری ضرورت ہے۔ اتنے دن سے صفائی ستھرائی کسی نے نہیں کی ہوگی ۔ گھر میں کام کاج اور تمہارے بچوں کو سنبھالنے والا میرے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ مجھے بھی خوشی ہوتی تھی کہ تم مجھے واپس بلا رہے ہو اور یہ سوچتی تھی کہ جیسی بھی رہوں گی لیکن اپنے بیٹے کے قریب رہوں گی۔
ـ ’’ میرا بیٹا میرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ‘‘ میں اکثر داماد سے کہتی اور وہ مسکرا کر رہ جاتا ۔ لیکن اب تمہارے بچے بڑے ہوگئے ہیں ۔ اب ان کو یا تمہارے گھر کو میری زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے کیوں کہ میں نحیف ہوگئی ہوں ۔ تمہارے نئے گھر میں جھاڑو پونچھابھی نہیں لگا سکتی ۔
لیکن بیٹے مجھے یہاں نہیں رہنا ہے ۔ مجھے کہیں بھی ڈال دو لیکن یہاں سے لیجائو مجھے ۔ بیٹے میں بہت سارے دن داماد کے گھر نہیں رہ سکتی ۔ حالانکہ میرا داماد مجھے اپنی ماں کی طرح رکھتا ہے ۔ لیکن جانے کیوں میں اس سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی ہوں ۔ میرے بیٹے میں جانتی ہوں تم لوگوں کو اب میری ضرورت نہیں ہے ۔ اس عمر میں اب مجھے مرنا چاہئے تھا لیکن کیا کروں، میں مرتی بھی نہیں ہوں ۔
ہاں بیٹے ایک بات بتا نا چاہتی تھی ۔ کل یہاں ایک پڑوسن آئی تھی ۔ باتوں باتوں میں اسی سے معلوم ہوگیا کہ دنیا میں ایسے کئی لوگ ہیں جو مجھ جیسی کمزور اور بے بس مائوں کو رکھنے کے لئے بڑے بڑے گھر بناتے ہیں ۔ جانے اس نے ان گھروں کا کیا نام بتایا، مجھے یاد نہیں رہا ۔ بیٹے مجھ پر ایک احسان کرو گے ۔ مجھے ایسے ہی کسی گھر میں ڈال دو ۔ اتنے دنوں سے داماد کے گھر میں رہ کے بڑی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے ۔
ملتجی ۔۔۔ تمہاری ماں