افسانچے

زرد کیڑے
افسانچہ

مشتاق مہدی

کسی نے اسے کہا۔تمہاری دم لمبی ہے۔پھر کچھ حواریوں اور خوش آمدیوں نے اس بات کو آگے بڑھایا ۔اُسے یقین دلایا کہ دم اس کی واقعی لمبی ہے اور خوبصورت بھی۔
بس پھر کیا تھا ۔اُس کے ذہن میں بات بیٹھ گئی ۔کچھ زرد چھوٹے چھوٹے کیڑے دماغ میں پیدا ہوگئے اور تیزی سے اندھی
کوٹھڑی میں ادھر اُدھر ناچنے لگے۔منظر زرد اور مٹیالا ہو گیا ۔اب جو بھی
دم والا جانورقریب آتا۔۔۔اُس کی دم میں اُسے کوئی نہ کوئی نقص نظر آتا۔
یا چھوٹی نظر آتی یا ٹیڑھی یا رنگ کے حساب سے بھدی۔
اِس کیفیت میں یا کہنا چاہئے کہ نفسیاتی عارضے میںوہ ایکعرصے سے مبتلا ہے۔
صاحب جان جو اس بستی کا ایک معروف بزرگ تھا، لوگوں کی بازاری نظروں سے اکثر چھپا رہتا ۔اُسے بیمار سے ہمدردی تھی اورحالتِ زار پر افسوس بھی۔ لیکن کچھ کر نہیں پاتھا۔خادموں نے اس کی پریشانی بھانپ لی تھی۔ایک روز اُس کے خادم خاص نے کہا۔
’’ استاد حکم دیں۔میں اس کی دم کاٹ دوں ‘‘
’’ نہیں۔۔۔۔۔یہ میرا کام نہیں ہے ۔میں دعا کرسکتا ہوں ۔دعا ہی کروں گا۔ اللہ اسے دشمن ابلیس کے شر سے بچائے۔۔۔! ‘‘
���
مدینہ کالونی۔ ملہ باغ حضرت بل سرینگر،فون نمبر9419072053

 

خوابوں کے سفروالاراستہ
افسانچہ

ثناءاللہ

بلال ایک چھوٹے شہر کا رہائشی تھا۔ اس کا دل خوابوں اور امن کی تلاش میں لگا ہوا ہوتا تھا۔ ایک دن، وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک پہاڑ کی چڑھائی پر نکلا۔
پہاڑ کا منظر خوبصورت تھا اور ہر قدم پر نئی راہیں ملتی تھیں۔ بلال نے اپنے دوستوں کو ہدایت دی کہ وہ مل کر اوپر کی طرف چلیں۔
سب دوست خوابوں کی تلاش میں مصروف ہو گئے لیکن راستے میں مشکلات بھی آئیں۔ ایک لمحے کے لئے لگا کہ سب ہار چکے ہیں، لیکن بلال نے اپنے دوستوں کو حوصلہ دیا اور مزید آگے بڑھنے کو کہا۔
آخرکار، وہ اوپر پہنچے اور وہاں ایک خوبصورت باغ دیکھا۔ ہر طرف پھولوں کی خوشبو بکھر رہی تھی اور ہوا میں لطافت محسوس ہو رہی تھی۔ بلال کا دل خوشی سے بھر گیا اور اس نے اپنے دوستوں کو دیکھا کہ ہر مشکل کا مقابلہ کرنے سے انسان کامیاب ہوتا ہے۔
یہ قصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حیات میں چیلنجز آ سکتے ہیں، مگر ہمیشہ حوصلہ اور استقامت بنی رہنی چاہیے۔ بلال کی طرح، ہمیں بھی خوابوں کی تلاش میں ہمیشہ محنت و مشقت کا سامنا کرنا چاہیے۔

���
دارالہدی ،بہار
[email protected]

خیال
رشحاتِ قلم

حفیظ اللہ وانی

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں ان لوگوں کے بارے میں اظہار خیال کروں جنہیں اپنے ماتحتوں کے احساسات ،جذبات ،خواہشات اور حاجات کا بالکل بھی خیال نہیں ہوتا ۔
اس اولاد کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اپنے بوڑھے والدین کو کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ غضب الٰہی بھڑک اٹھتا ہے وہ خوب پچھتا تا ہے اور ملال کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اور ایسا ہونا یقینی ہے کیوں کہ جس وقت وہ والدین کو حالات کے حوالے چھوڑ کر جا رہا تھا تو رفیق و شفیق والدہ ، جن کا یہ اکلوتا سہارا تھا نے شکایت بھری لہجے میں راز و قطا روتے ہوئے کہا تھا ۔
جا بچھڑ جا مگر خیال رہے
یوں نہ ہو عمر بھر ملال رہے ۔
اس والد کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جسکی کرختگی ، ترش مزاجی ، بے مروتی نے تابعدار اور حساس مزاج کے حامل بیٹے کو منشیات کی طرف دھکیل دیا ، جو اس خیال سے اکیس سال اس درد کو خاموشی سے سہتا رہا کہ کبھی نہ کبھی والد اُس کے جذبات کو سمجھ پائے گا ۔مگر افسوس باپ کو بیٹے کے نیک خیالات کا خیال نہ رہا۔ بیٹا اب نشے میں دُھت ہو کر بے خودی کے عالم میں گنگناتا رہتا ہے۔
وہ شرارتیں وہی شوخیاں میرے عہد طفل کے قہقہے
کہیں کھو گئے میرے رات دن ، اسی بات کاتو ملال ہے
اُن رہبرانِ قوم و ملت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جنہیں علامہ اقبال علیہ رحمہ نے
سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
درس دیا تھا ۔ مگر افسوس کہ انہوں نے الٹا ملک و ملت کو ہی لوٹ لیا اور قوم کے غیور افراد سوال کرتے رہے ۔
تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر
یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا
مجھے رہزنوں کا گِلہ نہیں
تیری رہبری کا سوال ہے
مگر افسوس کہ ان رہزنوں کو درسِ اقبال کا خیال نہ رہا ۔
اُس عاشق کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جسکی معشوقہ ہمیشہ وجد میں کہا کرتی تھیں۔
تیرے خیال کے دیوار و در بناتے ہیں
ہم اپنے گھر میں بھی تیرا ہی گھر بناتے ہیں
مگر وہ وقت بھی زمانہ دیکھ لیتا ہےکہ عاشق معشوقہ کو جرمِ محبت کی سزا دے کر چلا جاتا ہے اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا ہے اور معشوقہ چیخ چیخ کر کہتی ہے
محبتوں میں ہر ایک لمحہ وصال ہوگا یہ طے ہوا تھا
بچھڑ کے بھی ایک دوسرے کا خیال ہو گا یہ طے ہوا تھا
مگر افسوس عاشق کو دردِ محبّت کا خیال نہ رہا۔ جبھی تو کسی کو کچھ یوں سوجھا
نہ جانے کیوں مگر دیکھو میرا دل چاہتا ہے کہ
وفا کو آگ لگ جائے محبت بھاڑ میں جائے
نہیں نہیں ایسا بلکل بھی نہیں ۔بس اتنا خیال رکھئے گا کہ محبتوں کی قضاء نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ھے کہ ان واقعات پہ اظہار خیال کروں مگر میرا خیال ہے کہ مجھے اظہار خیال کرنا نہیں آتا ۔ کیوں کہ میں ادنٰی سا طالب علم ہونے کے ناطے عاجز ہوں مگر جاتے جاتے میں محترم قارئین سے گزارش کرتا جاؤں اگر آپ بُرا نہ مانہیں تو ، کہ آپ ایک اچھا شہری ہونے کے ناطے اپنے ماتحتوں کا ضرور خیال رکھیں تاکہ ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل و تکمیل ممکن ہوسکے ۔

���
واڑون کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛7889923743

نگاہِ حسرت
افسانچہ

جنید طلحہ

سب کھانا کھا رہے تھے اور اچانک ماں کی آنکھوں سے آنسوں چھلک پڑے۔ یہ دکھ بھرا منظر سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ۔آخر ان برستے قطروں کی کیا وجہ ہے ؟ ماں کیوں رو پڑی ؟۔حال زار و زبوں ہوا کہ ماں کو کوئی کچھ کہہ بھی نہ سکا۔ بالآخر چارسو سناٹا چھا گیا لیکن ہر کوئی کچھ کہنے سے قاصر رہا لیکن کچھ دیر ہی کے بعد ماں بے ساختہ بول پڑی کہ آخر یہ انتظار میرا کب تلک ؟۔ کب تک میں چار دیواری میں ماری ماری پھرتی رہوں گی اور کب تک میں ان آنکھوں کو تسلی بخشوں؟ آخر کب مجھ سے مرا بچھڑا ہوا لال مجھ سے دوبارہ ملنے آجائے۔
���
آونورہ شوپیان،کشمیر
[email protected]