افسانچے نور شاہ

ایک سوال
کوه قاف سے اُترنے والی پری جب میرے سامنے کھڑی ہو گئی تو میں واقعی گھبرا گیا۔
’’بتاؤ مجھے کیوں اس دھرتی پر آنے کے لئے مجبور کیا گیا ۔۔؟
’’میں جب اپنی سوچوں کی گہرائی میں اترتا ہوں تو تم یاد آ جاتی ہو۔۔‘‘
’’میں یاد آتی ہوں ۔۔ کیوں؟‘‘
’’تمہیں اپنا حالِ دل سنانے کے لئے‘‘
’’کیسا حالِ دل ؟ ۔۔ کیا ہے تمہارے سینے کے اندر ؟‘‘
’’ایک خواہش ۔۔۔ ایک تمنا ۔۔۔ ایک آرزو‘‘
’’وہ کیا۔۔؟‘‘
’’تم اس دھرتی پر آ جاؤ، ہمیشہ کے لئے۔۔۔ اور اپنا گھر بسائو‘‘
’’یہ گھر کیسے بسایا جا سکتا ہے۔۔؟‘‘
’’مجھے اپنا بنا کر مجھ سے شادی کر کے۔۔‘‘
’’پھر کیا ہوگا۔۔؟‘‘
’’ہماری اولاد ہوگی جو زندگی کی شفافیت کا درس دے گی ، انسانی عظمت کا احساس دلائے گی اور ہمارا نام روشن کرے گی ۔‘‘
’’اور اگر ہماری اولاد اس دھرتی پر منشیات کا سودا کرے گی تو ۔۔! بولو،خاموش کیوں ہو گئے؟۔۔۔ جواب دو۔۔!‘‘
اور اس سوال کے بعد وہ اُڑ کر کوہ قاف کی وسعتوں میں غائب ہو گئی۔۔۔!

تلاش
پہاڑوں کے دامن میں لہلہاتے کھیتوں کے درمیان گو جر بستی میں تیندوے کے جان لیوا حملے میں تین معصوم معصوم سے بچے اپنے مستقبل کو سدھارنے اور سجانے کی تمنا میں رنگ بھرنے کے لئے اسکول جاتے جاتے زندگی کی سانسوں سے محروم ہو گئے۔ گو جر بستی میں کہرام مچ گیا۔ بستی کے مردو زن گھروں سے باہر آئے۔ ایک پر درد ہنگامہ بپا ہوا۔ آنسوؤں کی بارش نے سینے میں بھی برف پگھلا دی اور پھر احتجاج پر احتجاج ہونے لگے ۔ متعلقہ اہلکار بھی غفلت کی نیند سے بیدار ہوئے۔ خوف اور ڈر کے ماحول میں بستی ، کھیت اور جنگل ہر طرف ہر تیندوے کی تلاش شروع ہوئی اور یہ سلسلہ کئی روز صبح سے شام گئے تک چلتا رہا لیکن تیندوے کی پر چھائی تک کہیں نظر نہ آئی ۔
اور اس شام سارے اہلکار اس بات سے مطمئن ہو گئے کہ تیند دا بھاگ چکا ہے، یہ جگہ چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا ہے اور اب خطرہ بھی ٹل چکا ہے۔ اس کی تلاش اب غیر ضروری بننے لگی ہے اور وہ اپنے تھکے تھکے قدموں سے اپنے اپنے گھروں کی جانب جانے ہی والے تھے کہ گل محمد اچانک چلا اٹھا۔۔
’’ارے محمد رمضان کہاں ہے کچھ دیر پہلے تو میرے ساتھ تھا ۔‘‘
اور محمد رمضان نامی اہلکار واقعی وہاں موجود نہ تھا۔ تلاش شروع ہوئی ۔۔۔۔
تیندوا ایک اور شکار کر چکا تھا۔ محمد رمضان کی لاش ٹھیک اسی جگہ دیکھی گئی جہاں تیندوا تین بچوں کو نگل چکا تھا۔۔۔!

 

 

لل دید کالونی، راولپور سرینگر،
موبائل نمبر؛8899637012