افسانچے

ہلال بخاری

 

حلال حرام
دو چور ایک دن کسی کے گھر ایک بکرا چرانے گئے۔ وہاں پہنچے تو گیٹ کے باہر کتے نے بھونک کر انکا استقبال کیا۔ مگر یہ بھی کہاں ماننے والے تھے۔ انہوں نے بکرے کے ساتھ ساتھ کتے کو بھی دبوچ کر چُرا لیا اور اپنے خفیہ ٹھکانے کے سیاہ تہہ خانے میں چھپا لیا۔
شام کو ان چوروں کے ٹھکانے پر اچانک انکے دو عزیز مہمان چور آئے۔
بڑے چور نے چھوٹے چور سے مخاطب ہو کر کہا،
“دیکھو اس وقت رات ہونے کو ہے،خانے کا کوئی انتظام نہیں ہوسکتا۔ تم تہہ خانے میں جاکر اس بکرے کو زبح کرو جو ہم نے آج چرایا ہے۔”
یہ سن کر چھوٹے چور نے جواب دیا،
“تہہ خانے میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں۔ میں نے سنا ہے کہ اندھیرے میں زبح کرنا مکرو ہے۔ ”
یہ سن کر بڑے چور نے زور سے ہنس کر کہا،
“ارے یار چوری کے مال میں حلال حرام کیا۔ یہ خاص مہمان ہیں انکو بکرا کھلا کر خوش کرنا ضروری ہے۔”
چھوٹا چور اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکا اور تہہ خانے کی طرف روانہ ہوا۔
اس نے مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کیا۔
چاروں چوروں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔
کھانا کھانے کے بعد ایک مہمان نے ہنستے ہوئے بڑے چور سے مخاطب ہوکر کہا،
” اب یہ بتاو کہ آج کا دن کیسا رہا۔ کچھ حاصل کیا کہ نہیں ؟”
تو بڑے چور نے بڑے فخر سے اسے جواب دیا کہ کس طرح آج انہوں نے ایک بکرے کے ساتھ ساتھ ایک کتے کو بھی چرا لیا۔ پھر اس نے اپنے معزز مہمان سے مخاطب ہو کر کہا،
” ہمارے گھر میں اور کچھ نہ تھا۔ اس لئے آج آپ نے اسی بکرے کو تناول کیا ہے۔”
یہ سن کر وہ سب ہنسنے لگے۔ جب وہ ہنس رہے تھے تو تہہ خانے سے جانور کی آواز آئی۔ ان سب چوروں کو لگا کہ یہ بکرے کی آواز تھی، کتے کی نہیں۔ وہ سب حیران و پریشان ہوکر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
پھر بڑے چور نے حیرت کی انتہا میں اپنے شاگرد سے مخاطب ہو کر پوچھا،
” تم نے ہمکو کیا کھلایا ہے ؟ ”
چھوٹا چور جو خود اندیشے کا شکار ہوا تھا، مسکرا کر جواب دیا،
” چوری کے مال میں حلال حرام کیا۔”
یہ سن کر وہ سب شدت حیرت سے کانپنے لگے۔ اُن کو اب اپنے حلقوں سے بدبو اور اُلٹی کا احساس ہونے لگا۔
ان میں سے کسی کو ہمت نہ ہوئی کی تہہ خانے میں جاکر اپنے اندیشے کی جانچ کر سکے۔

مطابقت
میرا بیٹا حدید جو ابھی معصوم ہے، کل میرے ساتھ مارکیٹ آیا تھا۔ وہاں پر مختلف اشیاء کی خرید وفروخت کے دوران وہ دیر تک میرا اور بیچنے والوں کے منہ تکتا رہا۔ پھر گھر واپس آتے ہوئے اس نے مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھا،
” ابو جان کیا ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے؟”
“ہاں”
“انسان کی بھی؟ ”
” اور کیا”
“میری کیا قیمت ہے ؟”
یہ سوال سن کر میں کچھ دیر سوچتا رہا پھر میں نے کہا،
” جس طرح ہر چیز کی قیمت اسکی ضرورت اور فراہمی طے کرتی ہے اسی طرح سے ایک انسان کی قیمت اس کی صلاحیت ، اہمیت اور اس کی اس دنیا میں مطابقت سے ہوتی ہے۔”
جب تک ہم گھر کے قریب پہونچے حدید سوچتا رہا۔ پھر میں نے پوچھا،
” سمجھ آیا ؟”
“ہاں، مگر میں اپنی مطابقت کو سمجھنا چاہتا ہوں”
” زندگی آپکو مطابقت کا سبق خود بخود سمجھا دے گی”
میں نے کہا اور مجھے گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے حدید مطمئن نظر آیا۔

ترکِ موالات
کل میں نے اپنے بیٹے حدید سے اپنے ہمسایوں کے متعلق بہت سی باتیں کی تھیں۔
میں نے اسے سمجھایا تھا کہ ہمارے ارد گرد رہنے والے لوگ کس طرح کے ہیں۔ میں نے کہا تھا، “کچھ خود غرض ہیں، کچھ بے ایمان ہیں اور کچھ مغرور ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ انسانیت نام کی خوبی سے نا آشنا ہیں۔”
اگلے دن جب میں گھر آیا تو پتہ چلا کہ حدید آج اسکول کے سوا اور کہیں نہیں گیا ہے۔ وہ کسی سے نہیں ملا۔
جب میں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا،
” آپ نے کل جو بھی ہمارے ہمسایوں کے بارے میں کہا وہ آج بھی میرے ذہن میں ہے اور وہ باتیں آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔”
یہ سن کر میں کچھ دیر سوچنے لگا۔ پھر اپنے آپ سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے کہا۔
” بیٹا لوگوں کی خامیاں اور خوبیاں ایک طرف مگر ہم ان سے ترک موالات کا سوچ بھی نہیں سکتے کیونکہ اگر ہم غور کریں تو ہم بھی ان سے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔”
یہ سن کر حدید میرا منہ تکنے لگا اور مجھے ایسا احساس ہوا کہ اسے زندگی کا ایک اہم سبق حاصل ہوا ہے۔

 

ہردوشورہ کنزر ، ٹنگمرگ