اعلیٰ حکام کے فیصلے تک فیس جمع نہیں کریں گے: نجی سکول ایسوسی ایشن

سرینگر//پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ چند زونل ایجوکیشن افسروں اور کلسٹرسربراہوں کی طرف سے نجی سکولوں کو 5ویںسے 9ویںجماعت تک سٹیٹ انسٹیچوٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے لئے گئے امتحانات کیلئے پرنٹنگ چار ج نہ دینے پر ہراساں کررہے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ مذکورہ افسران اس معاملے پر وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر نجی سکولوں پر پرنٹنگ چارج جمع کرنے کا دبائو ڈال رہے ہیں۔ اپنے بیان میں ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اس ضمن میں پہلے ہی وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم سے بات  کی گئی ہے جنہوں نے یقین دلایاہے کہ اس معاملے پر چند روز کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ ایسوسی ایشن چیئرمین جی این وار نے کہا ’’ اعلیٰ حکام نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے اور پھر بھی چند زونل ایجوکیشن افسران اور کلسٹر ہیڈ چند لوگوں کی پشت پناہی پر نجی سکولوں کو ہراساں کرکے تعلیم کے نظام کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افسران 2017کے تعلیمی سال کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ایسوسی ایشن نے کہا کہ سرکار کا حکمنامہ پہلے ہی متنازعہ بن گیا ہے اور اس کو حل کرنے کیلئے ریاستی سرکار کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ غلام نبی وار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ایک سروے منعقد کی ہے جس میں سرکاری سکولوں میںگرتے ہوئے تعلیمی معیار کی نشاندہی کی گئی ہے اور اصولی طور پر مذکورہ افسران کو سرکاری سکولوں کو نشانہ بنانا تھا مگر وہ سرکاری سکولوں کو چھوڑ کر نجی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سروے میں نجی تعلیمی اداروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا اور اسکے بائوجود بھی نجی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری سکولوں کی حالت خراب ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہم نے سال 2014اور 2016میں سٹیٹ انسٹیچوٹ آف ایجوکیشن کو پرنٹنگ چار ج دیا مگر سیلاب اور نامساعد حالات کی وجہ سے امتحانات منعقد نہ ہوسکے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو امتحانات ہوئے اور مذکورہ سالوں کا پرنٹنگ چارج بچوں کو واپس بھی نہیں دیاگیا ۔وار نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کیلئے بوجھ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے فیصلہ لیا ہے کہ وہ تب تک فیس ادا نہیں کریں گے جب تک نہ اعلیٰ حکام کی طرف سے اس ضمن میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔