اعلانات بہت ہوئے لیکن عمل ندارد ، بنکر برسوں سے بن نہ پائے

مینڈھر//حکومت کی طرف سے ضلع پونچھ میں 200نئے بنکروں کی تعمیر کے اعلان پر سرحدی مکین اطمینان کے بجائے عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں ایسے اعلانات سن سن کر تھک چکے ہیں ۔ سرحدی پٹی پر بسنے والے لوگوں کاکہناہے کہ انتظامیہ نے یہ تو کہاہے کہ ایک ماہ کے اندراندر یہ دو سو بنکر بناکر دیئے جائیں گے مگر جب برسوں سے بنکر نہیں بن پائے تو ایک مہینے میں کیا پیشرفت ہونے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ سرپنچ چھجلہ چوہدری امان اللہ اورسرپنچ دبڑاج اشرف چوہدری نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکام سے تحصیل منکوٹ کے سرحدی علاقوں میں کئی سال سے بنکر نہیں بن پائے اور چھجلہ اور دبڑاج میں اس وقت تک ایک بنکر نہیں بنایاجاسکالیکن دعوئوں پر دعوے کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سرحدی علاقہ میں سب سے اہم کام بنکروں کی تعمیر تھی کیونکہ اسی سے لوگوں کی زندگیوں کو کسی حد تک محفوظ بنایاجاسکتاہے لیکن اس سلسلے میں حکام کی طرف سے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیاگیاہے اور لوگ مجبوراًدور دراز علاقوں میں رہ رہے اپنے رشتہ داروں کے گھروں منتقل ہونے پر مجبور ہورہے ہیں ۔ دونوں سرپنچوں نے بتایاکہ حالیہ گولہ باری کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور انہوں نے اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لی ۔ان کاکہناہے کہ اگر بنکر تیار کئے گئے ہوتے تو لوگ انہی میں قیام کرکے اپنے مال مویشیوں کا بھی خیال رکھ پاتے مگر شومئی قسمت کہ انہیں گھر بار چھوڑناپڑرہاہے اور پرسان حال کوئی نہیں۔ ان کاکہناتھاکہ اس بار ماضی سے ہٹ کر اقدامات کئے جائیں اور ان ٹینڈروں کو منسوخ کیاجائے جن کو حاصل کرنے والے یہ کام انجام نہیں دے پائے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ منجاکوٹ ایک سرحدی علاقہ ہے جسے حکومت نے اپنی نظروں سے اوجھل رکھاہواہے جس کی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں کو بہت نقصان سہناپڑاہے ۔ انہوں نے کہاکہ بنکروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ آج تک ہوئے نقصان کا معاوضہ بھی فراہم کیاجائے ۔