اعظم خان کے برتاؤ کی ایک آواز میں مذمت،اسپیکرجلد ہی کارروائی کریں گے

نئی دہلی//لوک سبھا میں جمعرات کو سماجوادی پارٹی کے رکن اعظم خان کے برتاؤکی آج سبھی پارٹیوں نے ایک آواز ہوکر مذمت کی اور اسپیکر اوم برلا نے جلد کارروائی کرنے کی یقین دہانی کی۔کئی سینئر وزرا او ربرسراقتدار اور اپوزیشن پارٹی کے اراکین کے ذریعہ جمعہ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھائے جانے پر مسٹر برلا نے کہا ‘‘میں نے آپ سب کی بات سنی ہے ۔سبھی پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ بلاکر اس پر جلد ہی فیصلہ کیا جائے گا۔اسپیکر نے ایوان کی میز پر ضروری کاغذات رکھوانے کے بعدجیسے ہی وقفہ صفر کی کارروائی شروع کی تو برسر اقتدار اور اپوزیشن کے کئی اراکین اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوگئے ۔مسٹر برلا نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سنگھمترا موریہ کو یہ مسئلہ اٹھانے دیا۔محترمہ موریہ نے کہا کہ جمعرات کو اسپیکر کی نشست پر براجمان محترمہ رمادیوی کے بارے میں جو تبصرہ کیاگیا وہ نا شائستہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسٹر خان کو ان کے تبصرے کے لئے معافی مانگنی ہوگی۔اس کے بعد اسپیکر نے ایک ایک کرکے کئی اراکین کو اس موضوع پر اپنی رائے رکھنے کی اجازت دی۔انہوں نے کہا کہ جو بھی چاہے اس مسئلے پر بول سکتا ہے ۔برسر اقتدارپارٹی کے کئی اراکین نے مسٹر خان کو معطل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔کئی اراکین اوروزرانے اسپیکر سے سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ مستقبل میں کوئی اور اس طرح کا برتاؤں نہ کرسکے ۔خواتین و اطفال کے فلاح و بہبود کی وزیر سمریتی ایرانی نے کہا کہ آج تک پارلیمنٹ میں کسی نے اس طرح کی حرکت نہیں کی ہے ۔پورے ملک نے دیکھا کہ کس طرح پورا ایوان شرمسار ہوا۔انہوں نے کہا‘‘ہم خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے ۔رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے ہمیں ملے خصوصی اختیار کا غلط استعمال نہیں کیاجاسکتا۔’’قانون اور انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ اسپیکر کی نشست پر براجمان رکن کے لئے جس طرح کی زبان کا استعمال کیاگیا وہ شرمندگی سے بھرا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج ملک کی جمہوریت ایوان کی طرف دیکھ رہی ہے ۔سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے ۔اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجانا چاہئے ۔پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے اراکین سے ایوان کا معیار برقرار رکھنے کی اپیل کی اور کہا کہ بغیر کسی لیکن ،مگرکے اس حرکت کی مذمت کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ایوان کو اسپیکر پر پورا بھروسہ ہے اور ساتھ ہی اسپیکر سے ایسی کارروائی کرنے کی اپیل ہے جو ایک مثال بن سکے ۔ایوان میں کانگریس کے لئے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ ہندوستان میں ہم خواتین کو ماں کی طرح احترام دیتے ہیں۔انہوں نے آگے کہا،‘‘جن لوگوں کی شکایت کی جارہی ہے ان کی بات سننے کو نہیں ملتی’’اس سے پہلے کہ وہ آگے کچھ اور کہتے بی جے پی اراکین نے مخالفت شروع کردی۔اسپیکر نے انہیں چپ کرایا تو مسٹر چودھری نے کہا کہ اس معاملے کو خصوصی اختیار والی کمیٹی اور ڈسپلنری کمیٹی میں بھیجا جانا چاہئے اور وہاں جو بھی فیصلہ ہوگا کانگریس اس کی حمایت کرے گی۔مسٹر چودھری کو اسپیکر نے بعد میں بھی دو بار بولنے کا موقع دیا اور انہوں نے جب سونیا گاندھی کو کبھی‘‘اٹلی کی کٹھپتلی’ کے نام سے ایوان میں پکارے جانے کا مسئلہ اٹھایا تو کانگریس اور بی جے پی کے اراکین میں جم کر بحث ہوئی۔دونوں پارٹیوں کے تقریباً سبھی اراکین اپنے اپنے مقامات پر کھڑے ہوکر بحث کرنے لگے ۔اسی فہرست میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بھی سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جس سے ایوان ایک مثال پیش کرسکے ۔ترنمول کانگریس کے کلیان بینرجی نے کہا کہ کسی بھی خاتون کے تئیں نازیبا الفاظ کا استعمال یا خراب برتاؤ نہیں کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جو خواتین کا احترام نہیں کرتے انہیں اس ملک کی ثقافت کے بارے میں نہیں پتہ۔اس سے خواتین کے ہی نہیں سبھی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے ۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی سپریا سولے نے کہا کہ اس طرح کی زبان قطعی قبول نہیں ہے ۔ان کا سر شرم سے جھگ گیا ہے ۔اس طرح کے برتاؤ کے تئیں ‘زیروٹالرینس’ کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آج اسے قبول کرلیا جاتا ہے تو مستقبل کے لئے یہ غلط مثال پیش ہوگی۔جنتا دل یونائیٹیڈ کے راجیو رنجن نے کہا کہ ایوان میں کوئی خواتین کے ساتھ ایسی بے احترامی کرے تویہ قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بھی سخت سے سخت کارروائی کرنے کامطالبہ کیا۔ڈی ایم کے کی کنی موجھی نے کہا کہ یہ سچائی ہے کہ خواتین باہر بھی بے عزت ہوتی ہیں،ایوان کے اندر بھی۔انہوں نے کہا کہ جب ایوان کے اندر خواتین کے ساتھ اس طرح کا برتاؤہوتا ہے تو ایوان کے باہر کیا امید کی جاسکتی ہے ۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے اسد الدین اویسی نے کہا کہ وہ ایوان کے اراکین کے جذبات کی عزت کرتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے پوچھا کہ ‘می ٹو’ معاملے میں نام آنے کے بعد استعفی دینے والے پچھلی حکومت میں وزیر رہے مسٹر ایم جے اکبر پر وزرا کے گروپ کی رپورٹ کہاں ہے ۔یواین آئی۔