اعظم خان نے خواتین مخالف تبصرے پر معافی مانگی

نئی دہلی//سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان نے لوک سبھا میں خواتین مخالف تبصرہ کرنے کے لئے پیر کو پورے ایوان کے سامنے معافی طلب کی۔اس کے ساتھ ہی گزشتہ ہفتے شروع ہوئے اس تنازعہ کا خاتمہ ہوگیا۔صبح 11بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی ،لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے مسٹر خان کا نام پکارا۔واضح رہے کہ جمعہ کو برسر اقتدار اور اپوزیشن کی مختلف پارٹیوں کے اراکین نے یک آواز ہوکر مسٹر خان کے خلاف ایسے سخت قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا تھاجو مستقبل میں ایک نظیر بن سکے ۔اترپردیش کے رام پور سے رکن پارلیمنٹ اعظم خان نے کہا کہ تبصرہ کرتے وقت ان کے دل میں نشست کے تئیں کوئی غلط ارادہ یا جذبات قطعی نہیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں دو بار وزیر قانون رہ چکے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایک بار راجیہ سبھا رکن اور نو بار رکن اسمبلی رہے ہیں۔وہ بدنیتی پر مبنی بیان کبھی نہیں دے سکتے ۔انہوں نے کہا،‘‘پھر بھی اگر میرے الفاظ سے کسی کو دکھ پہنچا ہے تو میں معافی کا طلب گار ہوں۔’’اس سے پہلے بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی)کی رکن محترمہ رما دیوی نے کہا کہ وہ سن نہیں پائیں ہیں اور رکن کو اپنے الفاظ دہرانے چاہئے ۔پچھلے جمعہ کو جب مسٹر اعظم خان نے متنازعہ تبصرہ کیاتھا،اس وقت محترمہ رمادیوی ہی نشست پر براجمان تھیں۔اس پر سماجوادی پارتی کے لیڈر اکھیلیش یادو نے محترمہ رما دیوی کے بیان پر اعتراض کا اظہار کیا جس پر ان میں اور بی جے پی اراکین کے درمیان تلخ تکرار ہوئی۔محترمہ رما دیو نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے رکن کو ایوان کے باہر ایسے ہی تبصرے کرنے کی عادت ہے ۔مسٹر برلا نے کہا کہ سبھی اراکین کو ایوان کے وقار کو برقرار رکھنے کے تئیں محتاط رہنا چاہئے اور اب چونکہ متعلقہ رکن نے معافی مانگ لی ہے ،تو یہ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں کوئی رکن اس طرح کی حرکت نہیں دہرائے گا۔یواین آئی۔