اصلاحِ احوال کیسے ہوگا؟

یونین ٹریٹری جموں و کشمیر کی موجودہ انتظامیہ اگرچہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا دعویٰ کرتی چلی جارہی ہے اور اس سلسلے میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالتے وقت جو کچھ اہم فیصلے لے چکی ہے ،اُن کے تحت بعض اقدامات کر بھی چکی ہے ، کئی امور پر عملدرآمد کا کام جاری رکھی ہوئی ہے اور بعض کاموں پر عملدرآمد شروع کرنے پر توجہ مرکوزکر رکھی ہے لیکن یو ٹی انتظامیہ کی ان کوششوں کے باوجود لوگوں کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔کشمیرمیں امن و سکون کی صورت حال میں اگرچہ مثبت بہتری پیدا ہوگئی ہے تاہم وادی کے عوام کو درپیش مسائل کی صورت حال وہی ہے جو تواتر کے ساتھ کئی عشروں سے چلی آرہی ہےاور ان پر ہر سوچنے والا ذہن اندوہ کرب محسو س کرتاہے۔چنانچہ ساٹھ سال سے زیادہ مدت گذر نے کے بعد بھی کشمیری مسلسل یہاں کے تقریباً سبھی اداروں کی شکست و ریخت ،اصولوں کی پامالی ،استحصال اور کار فرما شخصیات کی نا رسائیاں اور خود غرضیاں دیکھ رہے ہیں،لیکن پھر بھی کوئی ایسا حکمران،بیرو کریٹ،اعلیٰ آفیسر یا خدا کا کوئی اور بندہ ایک مصمم ارادہ اور پُر عزم حوصلے کے ساتھ آواز بلند نہیں کرتا کہ خدارا! اب بس کرو ،اب ہم اپنے لوگوں ،اپنے عوام ،اپنے بھائیوں اور اپنے معاشرے کی اس سے زیادہ لوٹ کھسوٹ،بدعنوانی ،ذلت اور رسوائی برداشت نہیں کرسکتے،اس کے خاتمے کے لئے منظم اور ٹھوس کاروائی کا اہتمام کرتے اور جس شیطانی چکّر میں ہم ایک طویل مدت سے گھوم رہے ہیں ،اُس سےنکل باہر آنے کی کوشش کرتے ۔حالانکہ سبھی جانتے ہیں کہ کشمیر کی تباہی ،پسماندگی ،لوٹ کھسوٹ اور رسوائی میں ملوث اکثر اشخاص اور ادارے ایسے ہیں جو آج بھی خود نگری سے محروم ہیں اور خود سری ،خود غرضی اور گمراہی میں اپنی خامیوں اور غلطیوں کی اصلاح سے قاصر ہیں،اور اپنی ہر غلطی اور کوتاہی کی ذمہ داری دوسروں کے سَر ڈال کر مطمئن ہیں۔معاشرے کو مذلت میں پہنچادیا گیا ہے مگر کسی کو اپنی کوتاہی اور غلط روی کا احساس ہی نہیں۔ہر کوئی کسی اور کو طعنہ دے کر حالات کی خرابی میں اپنے کردار سے برّی ہوجاتا ہے۔بغور جائزہ لیا جائے تو آج بھی نمایاں طور اس ساری تباہی کا سبب وہی عنصر نظر آتا ہے جو اپنی غلطیوں اور خامیوں کی اصلاح سے قاصر ہے ۔اس بات انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ بیروکریسی ہمیشہ ایسی قانون سازی کرتی ہے جس میں اُسے بے پناہ اختیارات حاصل ہوں اور بغیر کسی مداخلت کے من مانے اختیار سے ہی خرابی،بے راہ روی اور بد نظمی کی صورت حال فروغ پاتی ہے،بے ضابطگیاں بڑھ جاتی ہیں ،لوٹ کھسوٹ ،رشوت اور بدعنوانیاں زور وشور سے جاری رہتی ہیں،جن کا انسداد نہایت مشکل بن جاتا ہے۔بظاہر اصلاح و احوال کی بھی کوشش کی جائے ،اس میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن جاتی ہے۔اپنی اس وادیٔ کشمیرکا کوئی بھی سرکاری شعبہ کیا ایسا ہے جس میں سیاست داخل نہیں نہیں کی گئی تھی،کیا سیاست زدہ کوئی بھی محکمہ سیاست گری کے باعث اپنے فرائض انجام دیتا تھا،ملازمین یونین ازم کے تحت کیا کچھ نہیں کیا جاتا،یہی وجہ ہے سرکاری مشینری کبھی بھی ایمانداری اورغیر جانبداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکی۔سرکاری انتظامیہ کا جو حصہ بدعنوانیوں اور رشوت ستانیوں کا عادی بن چکا تھا ۔وہ بدستور اپنی بد اعمالیوں اور کالی کرتوتوں پر پردہ ڈالتا رہا۔حالانکہ ارباب حکومت کو ان باتوں کی واقفیت ہوتی تھی لیکن وہ بھی اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کے حصول کے لئے انہیں برداشت کرتے رہتےاور اسی روش کے تحت بیشتر افراد کو ایسے عہدوں پر فائزکیا جاتا رہا ،جن کے وہ قابل ہی نہیں تھےمگر پھر بھی ہر محکمہ میں اِنہی افراد کی اجارہ داری قائم رہتی تھی۔چنانچہ جو لوگ اُن کے ماتحت کام کرتے رہے ،وہ آج اپنے ہی پیشروئوں کے نقش ِ قدم پر چل رہے ہیںاور یو ٹی انتظامیہ کے اعلیٰ عہداروں اور دوسرے بیروکریٹوں کے آلۂ کار بن کر وہی سب کچھ کررہے ہیں جو اُن کے پیشرو کررہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی اصلاح ِ احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہےاور ہر سرکاری شعبہ میں وہی کچھ ہورہا ہے جو عرصۂ دراز سےاُن کی روایت رہی ہے۔گویاجن مقاصد کے پیش نظر سرکاری محکموں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ،وہ آج بھی یکسر فراموش کئے جارہے ہیں۔لوگوں کو درپیش مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ دن بہ دن پیچیدہ ہوتے چلے جارہے ہیںاور لوگوں کی آوازیں صدابہ صحرا ثابت ہورہی ہیں۔