اسیر فرزند سے ملنے کی حسرت میں بزرگ والد فوت

اننت ناگ +سرینگر// جنوبی کشمیر کے بٹہ گنڈ اسلام آباد(اننت ناگ) سے تعلق رکھنے والا105برس کا امام مسجد پیر غلام نبی12 برسوں سے اسیر اپنے فرزند کے آخری دیدار میں تڑپنے کے بعد پیوند خاک ہوا،اور اس کا انتظار بھی ختم ہوا۔ سیاحتی مقام ویری ناگ کے مضافاتی علاقے بٹہ گنڈ میں 105برس کے غلام نبی پیر کا فرزند پیر محمد اشرف گزشتہ12برسوں سے مختلف جیل خانوں میں نظر بندی کے ایام کاٹ رہا ہے اور انکی رہائی کیلئے اہل خانہ کی تمام کاوشیں بے سود ثابت ہورہی ہے۔ فردوس احمد نے کشمیر عظمیٰ کو اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا انکے والد پیر غلام نبی اپنے فرزند کے آخری دیدار کی حسرت میں ایک عرصے سے تڑپ رہے تھے ،،مگر اسکا بیٹا نہ ہی زنداںخانے سے واپس آیا،اور نہ ہی پیری کی حالات میں بزرگ والد اس کی ملاقات کیلئے قید خانے میں جاسکا۔ان کا کہنا تھا’’ پیر غلام نبی کا اگر کوئی خواب تھا،تو وہ صرف یہ کہ وہ اپنے قید بیٹے سے ملاقات کرسکیں اور اس سے کم از کم ایک بار بغلگیر ہوسکیں،مگر آخر تک نہ ہی انکی حسرت پوری ہوئی۔بٹہ گنڈ میں پیر غلام نبی کا انتقال ہوا،جس کے بعد مقامی و دیگر علاقوں کے لوگ بھی وہاں پہنچے جہاں پر مرحوم بزرگ کے ایثار،صبر اور قربانیوں کے مثالیں پیش کر رہے تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پیر محمد اشرف کو2006میں گرفتار کیا گیا ہے جس کے بعد انہیں سینٹرل جیل سرینگر کے علاوہ،کورٹ بلوال جیل،امپھالہ جیل اور دیگر جیلوں میں نظر بند رکھا گیا۔اہل خانہ کے مطابق22برس کا پیر محمد اشرف عرف مولوی چستی محکمہ تعمیرات عامہ میں بطورر ڈیلی ویجر کام کرتا تھا جب اس کو ڈورو میں ہوئے ایک دستی بم دھماکہ کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا اگر چہ پیر محمد اشرف پر عائد13 پی ایس ائے بھی کالعدم قرار دئے گئے تاہم اس کے باوجود بھی ابھی تک انکی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ جس کیس میں انہیں نظر بند رکھا گیا ہے اس میں بھی عدالت نے ضمانت دی ہے تاہم وہ بھی بے سود ثابت ہوئی۔اہل خانہ کا کہنا ہے ’’ انہوں نے امسال فروری میں حکمران جماعت کے ایک مقامی لیڈر اور وزیر اوقاف فاروق اندرابی سے بھی ملاقات کی اور اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی،جبکہ مذکورہ وزیر نے ہماری موجودگی میںجب پرنسپل سیکریٹری امور داخلہ کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا تو انہوں نے پیر محمد اشرف کو رہا کرنے سے صاف انکار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ ریاستی پولیس کے سربراہ کا ہے‘‘۔بزرگ شہری غلام نبی پیرکاایک فرزند فاروق احمد پیر جنوری 2002میں فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران جاںبحق ہوا جبکہ ایک اور ایک اور فرزند فردوس احمد شاہ بھی5برسوں تک اسیر تھا۔