اسیران کیخلاف جاری جبر و تشدد غیر سراسرجمہوری: ملک

 سرینگر// لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے فرنٹ کے ضلعی آرگنائزر مشتاق احمد وانی ساکنہ حاجن کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پولیس نے ایک شبانہ چھاپے میں سیاسی کارکن مشتاق احمد وانی کو گرفتار کیا ہے اور انہیں تھانہ حاجن میںمقید رکھا جارہا ہے۔ یاسین ملک نے کہا کہ سیاسی میدان میں کام کرنے والے پرامن اراکین پر عذاب و عتاب نازل کرکے پولیس اور فورسز بدترین تشدد کو فروغ دے رہے ہیں جو انتہائی شرم ناک بھی ہے اور سراسر غیر جمہوری بھی ہے۔ ملک نے کہا کہ فرنٹ کے سینئر قائدین سراج الدین میر اور عبدالرشید مغلو بھی کالے قانون پی ایس اے کے تحت کورٹ بلوال جیل میں جبکہ ایک اور قائد شیخؒ نذیر احمد بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور جیلوں میں ان کی صحت بھی زور افزوں بگڑتی جارہی ہے جو انتہائی قابل تشویش ہے۔ بھارتی نیز جموں کشمیر کی جیلوں میں مقید کشمیریوں پر توڑے جارہے مظالم کو غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے  ملک نے کہا کہ کشمیر کو ایک پولیس ریاست میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں کسی کو اپنی بات کہنے کا کوئی حق نہیں بلکہ جہاں ہر مخالف سیاسی آواز کو فوجی اور پولیسی طاقت سے خاموش کرنے کا دور دورہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۴ سال کے بچے سے لیکر ۸۰ سال کے بزرگ اور علیل خواتین تک کو جیلوں اور قید و بند میں جکڑا گیا ہے اور آج بھی روزانہ کی بنیاد پر مذید لوگوں کو گرفتار کرکے جیلوں کی نذر کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے اپنی فورسز اور ایجنسیوں جن میں این آئی اے اور ای ڈی بھی شامل ہے کو استعمال میں لاکر سینئر مزاحمتی قائدسید شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، اکبرایاز، پیر سیف اللہ، راجہ میرج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی ،شاہد یوسف شاہ وغیرہ کو نام نہاد اور بے بنیاد کیسوں میں ڈال کر نیز سرینگر سے اغوا کرنے کے بعد دہلی کے تہاڑ جیل میں مقید کررکھا ہے جہاں ان کے ایام اسیری کو طول دینے کیلئے نت نئے حربے آزمائے جارہے ہیں۔ملک نے کہا کہ ظلم کی حد یہ ہے کہ ایک علیل خاتون سیدہ آسیہ اندرابی کو دو ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہید نسرین کے ہمراہ کئی ماہ سے پولیس کے جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں جبکہ اب این آئی اے کو بھی ان کے ایام اسیری کو طول بخشنے پر مامور کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سیاسی اسیروں سے متعلق جینوا کنونشن کا حصہ ہے اور اس حوالے سے اس ملک پر لازم تھا کہ قیدیوں کو تکلیف اور اذیتوں میں نہ ڈالتا لیکن انسانی حقوق کے ددوسرے معاملات کی مانند بھارت نے اس معاملے کو بھی فوجی اور پولیسی جوتوں تلے روندھ رکھا ہے اور دنیا میں کوئی اسے پوچھنے والا بھی نہیں۔