اسکولوں پر فورسز کا قبضہ

 سرینگر//حریت (گ) نے 9؍اور 12؍اپریل کو ہورہی ووٹنگکے سلسلے میں فورسز کی جانب سیکئی کالجوں اور اسکولوں کو تحویل میں لینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ریاستی جبر اور زورزبردستی کے سوا کوئی نام نہیں دیا جاسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں بچوں کی تعلیم کے کئی قیمتی دن ضائع کئے جارہے ہیں۔ حریت کے مطابق یہ زور زبردستی اس حقیقت کا بھی ثبوت ہے کہ مجوزہ انتخابات حقیقی معنوں میں کسی جمہوری عمل کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ یہ محض ایک فوجی ڈرل ہے، جس میں لاکھوں مسلح سپاہی تعینات کرکے خوف وہراس کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ حریت ترجمان نے مقامی لوگوں کے حوالے سے کہا کہ وسطی اور جنوبی کشمیر میں سینکڑوں تعلیمی اداروں پر فورسز نے قبضہ جمایا ہے اور کسی پیشگی اطلاع کے بغیر بچوں کی چٹھی کردی گئی ہے۔ بعض مقامات پر اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے اگرچہ اس زورزبردستی پر اعتراض بھی جتایا ہے، البتہ ان کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے اور سی آر پی ایف کی ٹکڑیاں زبردستی کالجوں اور اسکولوں پر قابض ہوگئی ہیں۔ حریت ترجمان نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ مجوزہ انتخابی ڈرامے کے انعقاد کے لیے تعلیمی اداروں کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا ہے، جبکہ اس فوجی آپریشن کے لیے کئی دوسرے متبادل بھی دستیاب ہوسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس جب کبھی قومی کاز کے لیے یا قتل وغارت گری کے خلاف علامتی احتجاج کے طور ایک دن کی ہڑتال بُلائی ہے، تو ہندنواز بچوں کی تعلیم کا اِشو بناکر آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں، البتہ الیکشن ڈرامے کے انعقاد کے لیے بچوں کی تعلیم کے کئی قیمتی دن غیر ضروری طور ضائع کئے جارہے ہیں اور اس پر کسی ہندنواز سیاستدانوں کو کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی ہے اور وہ اسکول اور کالجوں پر قبضہ جمانے کے لیے ایک لفظ نہیں بولتے ہیں۔ حریت ترجمان نے مزید کہا کہ کشمیریوں کی جان، عزت، اقتصادیات، تعلیم غرض کوئی بھی چیز محفوظ نہیں ہے۔ فورسز جب چاہتی ہیں ہلہ بول دیتی ہیں اور انہیں روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہوتا ہے۔