اسپتالوں میں ادویات کودستیاب رکھا جائے:ڈاک

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے جمعرات کو کہا کہTocilizumab دوائی کووِڈ – 19 مریضوںکی اموات کو کم کرتی ہے۔برطانیہ کی ایک تحقیق  کا حوالہ دیتے ایسوسی ایشن نے کہا کہ شدید کووڈ 19 بیماری میں مبتلا اسپتال میں داخل مریضوں کوTocilizumab دیئے جانے پر موت کے خطرے کو کم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق  سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ یہ دوائی اسپتال میں مریض کے قیام کو مختصر کرتی ہے اور وینٹیلیٹر کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم اس دوائی کو دے کرکشمیرکے اسپتالوں میں متعدد مریضوں کی زندگیاں بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن اب کشمیر کے اسپتالوں میں یہ دوائی ختم ہوئی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی جان دائوپر لگی ہے۔انہوں نے حکومت پر زوردیا کہ وہ کووِڈمریضوں کے لئے اس دوائی کو اسپتالوں میں مہیا رکھیں۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ کسی بھی مریض جسے اس دوائی کی ضرورت ہوگی کواس دواتک رسائی ہونی چاہیے۔ اصل میں یہ دوائی گھٹیاں کی بیماری کیلئے تیار کی گئی تھی جواس بیماری میں سائیٹوکون سٹارم کوختم کردیتی تھی اور کووِڈ میں بھی یہ دوا وائرس سے پیدا سائٹوکوم اسٹارم کوختم کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سائٹوکائنزکی زیادہ مقدار میں پیداہونانظام تنفس کو ناکام بنا دیتاہے جس کی وجہ سے مریض متعدداعضاء کے کام نہ کرنے سے فوت ہوتا ہے ۔