اسپتالوںمیں انفلونزاء کٹ بہم رکھے جائیں

سرینگر//کووِڈ- 19عالمگیروباء کے دوران فلوسیزن کی شروعات پرمنگلوارکو ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے حکام  پرزوردیا کہ وہ کشمیرمیں انفلونزاکی جانچ کے کٹ بہم رکھیں۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ کووِڈ اور فلو کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں اورصرف علامات کی بناپر تشخیص کرنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ٹیسٹ سے ہی کووِڈ اورانفلونزا میں فرق کیاجاسکتا ہے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ ہمیں کووِڈ اور انفلونزا دونوں کاٹیسٹ کرنا ہے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ فرد کس وائرس کاشکار ہے تاکہ اُسے بروقت طبی علاج کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ دونوں کا ٹیسٹ کرنے سے صحت عامہ کے حکام کو معلوم ہوسکے گا کہ فلواور کووِڈ کس طرح پھیلتا ہے اور ان کے پھیلائو کو کس طرح کے اقدامات سے روکاجاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہماری لیبارٹریوں میں صرف کووِڈ ٹیسٹ کی سہولیات ہیں جبکہ انفلونزاکے ٹیسٹ کیلئے آلات دستیاب نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ متعدد مریض جنہیں سانس لینے کی بیماری اوربخار ہو،کا انفلونزاٹیسٹ کئے جانے کی ضرورت ہے لیکن انفلونزاٹیسٹ کیلئے کٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں یہ ٹیسٹ نہیں ہوسکتااوراس طرح ایسے مریضوں کی غلط تشخیص بھی ہوجاتی ہے۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر نے کہا کہ فلو کے گزشتہ دوسیزنوں میں سماجی دوری ،کم سفر،گھر میں بیٹھ کر کام کرنے  اور دیگر اقدامات کی وجہ سے انفلونزا کی شدت کم تھی۔لیکن اس سال فلو کاسیزن مختلف ہوسکتا ہے کیوں کہ طلاب اسکول آرہے ہیں،لوگوں نے کام پرجانا شروع کیا ہے اوربہت سے لوگوں نے احتیاط کرناچھوڑ دیا ہے۔