اسمبلی انتخابات کرانے کیلئے تیار الیکشن کمیشن کو انتظامات کے بارے میں معلومات دی گئیں

  قوم کی رٹ قائم ہوچکی،میںچنائو کے بعد ہی جموں و کشمیر چھوڑوں گا:سنہا

جموں//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ جب بھی الیکشن کمیشن آف انڈیا اسے ایسا کرنے کی ہدایت کرے گا تو ان کی انتظامیہ یونین ٹیریٹری میں اسمبلی انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے۔ انتخابات کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کے لیے بعض سیاسی رہنماں پر تنقید کرتے ہوئے، ایل جی سنہا نے کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات کے کامیابی سے انعقاد کے بعد ہی جموں و کشمیر چھوڑیں گے۔سنہا نے ایک کانفرنس، سمواد سے خطاب کرتے ہوئے کہا”الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جموں اور کشمیرسے انتظامات کے بارے میں جو بھی معلومات مانگی ہیں، انہیں جمع کر دی گئی ہیں، میں اس پلیٹ فارم سے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جب بھی ای سی آئی ہمیں بتاتا ہے، جموں و کشمیر انتظامیہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے‘‘۔جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کا حوالہ دیتے ہوئے، ایل جی سنہا نے روشنی ڈالی کہ اسمبلی انتخابات کرانے کا حق خصوصی طور پر الیکشن کمیشن آف انڈیا کے پاس ہے۔

 

انہوں نے عوام کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کے لیے سیاسی رہنماں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا”میرا کام جموں و کشمیر میںقوم کی رٹ کو یقینی بنانا تھا اور یہ قائم ہو چکا ہے۔ یہ (میرا)کام تھا اور میں نے اسے انجام دیا ہے‘‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’دہشت گرد تنظیموں کے تمام اعلی کمانڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے، جو ابھی تک زندہ ہیں ان کا جلد خاتمہ ہو جائے گا، یہاں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کے درمیان اچھا تال میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا “ہمارے پڑوسیوں کی طرف سے یہاں پریشانی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کچھ واقعات رونما ہوئے، کچھ جوانوں کی شہادت ہوئی، ہم ان ہلاکتوں کا بدلہ لیں گے”۔کشمیری پنڈتوں کے بارے میں، انہوں نے 3,000 لوگوں کو ملازمتیں اور گھر فراہم کرنے میں حکومت کی کوششوں کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی ان کی آباد کاری کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت کا اظہار کیا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے وزیراعظم پیکیج کے تحت اب تک 3000کشمیری مہاجرین کو سرکاری ملازمتیں اور رہنے کیلئے گھر فراہم کئے ہیں ،اور ہم مہاجرین کی کشمیرمیں بازآبادکاری کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات روبہ عمل لانے میں مصروف ہیں ۔پنچایتوں کی مدت بھی اگلے سال کے اوائل میں ختم ہو رہی ہے لیکن ان دیہی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں تاخیر ہونے کا خدشہ ہے۔