اسمبلی انتخابات سے متعلق مرکز کا مؤقف سمجھ سے بالاتر

سرینگر//جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات سے متعلق حکومت کے مؤقف کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ ہم الیکشن کیلئے تیار ہیں اور حکومت بھی دعویٰ کرتی ہے کہ حالات الیکشن کیلئے موزوں ہیں ،تو پھر رکاوٹ کس چیز کی ہے؟ انہوں نے کہاکہ گذشتہ ماہ جب ہم الیکشن کمیشن سے ملنے گئے تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہاکہ حدبندی ہوگئی ہے، ووٹر فہرستیں بھی مکمل ہوگئی ہیں اور جو کچھ کمی رہ گئی ہے وہ بھی جلد پوری ہوجائیگی اور ہم الیکشن کیلئے تیار ہے ۔ دوسری جانب حکومت کا بھی مؤقف ہے کہ جموںوکشمیر میں حالات سازگار ہیں اور الیکشن کیلئے موزوں ہیں ۔ اگر حکومت بھی تیار ہے، الیکشن کمیشن بھی تیار ہے تو پھر انتخابات کے انعقاد میں دیری کیوں ہورہی ہے؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

 

ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کوکرناگ میں ایک تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔ الیکشن کمیشن کے دورے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کمیشن کے ذمہ داروں نے ایسے کسی بھی دورے کی نفی کی ہے اور کہا ہے کہ ابھی تک کمیشن کے جموںوکشمیر دورے کا کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔NCERTکی طرف سے نصابی کتابوں سے مغلوں کی تاریخ کو حذف کئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ تاریخ مٹ نہیں سکتی، آپ کتنا ہی اسے کتابوں سے کیوں نہ نکالیں، آپ شاہ جہاں کو کیسے بھول جائینگے، اورنگ زیب کو کیسے بھول جائینگے ،اکبرکو کیسے بھول جائینگے ، بابر کو کیسے بھول جائینگے، ہمایوںاور جہانگیر کو کیسے بھول جائیں گے، 800سال مغلوں نے حکومت کی ہے،کبھی کسی ہندو نے خطرہ محسوس نہیں کیا، کسی سکھ یا عیسائی کو خطرہ نہیں لگا؟‘‘انہوں نے سوال کیا کہ ’’یہ کیا تماشہ ہورہاہے؟جب یہ لوگ تاج محل دکھائیں گے تو کیا کہیں گے؟ کس نے بنایا؟وہ کون تھا؟ یہاں دفن کون ہے؟ فتح پورہ سیکری اور آگرہ کے بارے میں کیا کہیںگے؟ یہ لوگ کیا کیا چھپائیں گے؟لال قلعہ کو کیسے چھپائیں گے؟ ہمائیوںکے مقبرہ کو کیسے چھپائیں گے؟کس کس چیز کو چھپائیں گے؟‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔تاریخ بدلے گی نہیں، تاریخ ہے اور تاریخ رہے گی، ہم نہیںرہیںگے لیکن تاریخ رہے گی۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپوزیشن اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اتحاد ہی ایک چیز رہ گئی ہے جس سے ہم ایک جُٹ ہوسکتے ہیں۔ الگ الگ رہ کر ہم مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں، اسی لئے مرکز میں بھی اتنی جماعتیں بیٹھ کر یہی سوچ رہی ہیں کہ کس طرح ہم لوگ اکٹھے ہوسکیں جس سے ہم لوگ الیکشن میں کامیابی حاصل کرسکیں۔ اس پر بحث ہورہی ہے اور انشاء اللہ مجھے اُمید ہے کہ اس کے بہت اچھے نتائج نکلیںگے۔