اسلام کا فلسفہ عید اور اس کے تقاضے

 ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

اسلام ایک دین فطرت ہے۔ اس نے اپنے ماننے والوں کو خوشی اور مسرت کے مواقع بھی فراہم کئے ہیں۔ خوشی اور شادمانی کے بغیر کوئی معاشرہ انسانی جذبات کی تکمیل نہیں کر سکتا۔ غم و حزن، رنج و ملال اور آلام و مصائب ہی زندگی کا حصہ بن جائیں تو انسان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ اس لئے اسلام نے انسان کے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اور اسے خوشی و مسرت کے لمحات سے گزارنے کے لئے سال میں دو عیدیں رکھی ہیں، ایک عید الفطر اور دوسری عید الاضحی۔
آج مسلمان عید الفطر منارہے ہیں۔ رمضان کے تیس دن کے روزوں، مہینہ بھر کی تراویح، تلاوت قرآن اور قیام اللیل کی ادائیگی کے بعد عید کا یہ دن آیا ہے۔ عید الفطر ، دراصل رب کے حضور اس بات کا شکرانہ ہے کہ اس نے رمضان کی ساری عبادتوں کو ادا کرنے کا موقع عنایت فرمایا ۔ عید درحقیقت بندے کی جانب سے اظہار تشکرہے۔ آج مسلمان اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی کبریائی کا اعلان کر تے ہوئے عیدگاہ جاتے ہیں اور نماز عید ادا کرتے ہیں۔ خوشی اور مسرت کے اس موقع پر غریبوں اور ناداروں کی مدد کے لئے صدقہ ٔفطر کو واجب قرار دیا گیا۔ اس بات کی تاکید کی گئی کہ نمازِ عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کر دیاجائے ۔ صدقہ فطر کے پیچھے یہی فلسفہ ہے کہ عید کے دن کوئی بھی شخص بھوکا نہ رہے بلکہ آج کے دن ہر ایک کو پیٹ بھر کھانا ملے۔ عید ، ایک فرد یا ایک خاندان کی خوشی کا نام نہیں ہے بلکہ عید اجتماعی فلاح و بہبود اور سب کے لئے خوشیوں کا پیغام لاتی ہے۔ ہماری خوشیوں میں معاشرہ کا ہر فرد شامل ہو تو عید کی سچی خوشی محسوس ہو تی ہے۔ اسلام کے فلسفہء عید کی اساس ہی اس پر ہے کہ عیدین کے موقع پر اجتماعیت کا بھر پور مظاہرہ ہو۔ عید کے دن باہمی ہمدردی اور اخوت کا بھی مسلمان خاص طور پر لحاظ رکھیں۔ اسلام نے عید منانے کا جو پیمانہ مقرر کیا ہے وہ بھی دیگر ادیان سے بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ عید کے موقع پر کسی شور شرابے یا لہو ولعب کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مسلمانوں کی عیدیں تہذیب و شائستگی کی آئینہ دار ہو تی ہیں۔ خوشی اور مسرت کے اس موقع پر مسلمان کسی سے نفرت و عناد ، تعصب یا انتقامی جذبہ نہیں رکھتے بلکہ ہر ایک کو اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں۔ اسلام کا فلسفہء عید سادگی اور انکساری پر زور دیتا ہے۔ عید کے موقع پر فخر و مباہات کا اظہار ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔ عید کا دن شکران نعمت کے ساتھ اظہار عبودیت کا دن ہے۔ اس دن صرف اللہ کی بڑائی و بزرگی کا ورد کرتے ہوئے مسلمان عیدگاہ جاتے ہیں اور اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر اللہ سے اپنے تعلق ونسبت کا اظہار کر تے ہوئے اس کی بندگی کا عہد کرتے ہیں۔ عید کے دن کو یوم الجائزہ بھی کہا گیا ہے۔ خوشی و شادمانی کے ان پُر مسرت لمحات میں بھی انسان کو اس بات کی تاکید کی گئی کہ وہ اپنے اعمال کا جائزہ لے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ نیکی کے کام کئے بغیر عید کی خوشیوں کو سمیٹ رہا ہے اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ روزوں، نمازوں، تلاوت قرآن اور قیام اللیل کی ادائیگی کے بغیر اسے عید کی سچی خوشی حاصل ہو گئی ہے۔ ان لوگوں کے لئے حضرت شیخ عبد القادر گیلانی ؒنے فرمایا کہ عید کا دن ان کے لئے’’وعید ‘‘کا دن ہے جو رمضان کے تقاضوں کو پورا کئے بغیر عید مناتے ہیں۔ عید کا دن اپنا محاسبہ کرنے کا دن ہے۔ اس بات کا احتساب کیا جائے کہ واقعی ہم نے رمضان کااسی طرح اہتمام کیا ،جس طرح سے اہتمام کرنے کا اللہ نے اور اس کے رسولؐ نے حکم دیا ۔ ایسا کیا تو پھر ہم عید الفطر منانے کے حقدار ہیں ورنہ ہمارے لئے یہ وعید کا دن ہے۔
اسلام کے فلسفہء عید پر مسلمان عمل کر تے اور اس کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے فکر مند ہو تے تو عید کی سچی خوشیوں کو حاصل کرنے میں وہ کا میاب ہوجاتے۔ یہ ایک تلخ
حقیقت ہے کہ ہماری عبادتیں بے روح ہو گئیں ہیں۔ امت کا ایک بڑا طبقہ نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کو ایک رسم کے طور پر ادا کرنے کا عادی ہو گیا ہے۔ اس لئے روحانیت کا فقدان دیکھا جا رہا ہے۔ اس کا اثر یہ ہے مسلمانوں کی عیدیں بھی رسمی بن کر رہ گئیں ہیں۔ عید کے دن عارضی مسرت و خوشی سے مسلمان سرشار تو ہو رہے ہیں لیکن وہ حقیقی خوشی و مسرت سے محروم ہیں۔ وہ کیا اسباب ہیں کہ مسلمانوں کی زندگیوں میں اضمحلال اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے اور ان کا معاشرہ محبت و اخوت کے جذبوں سے عاری ہو تا جا رہا ہے۔
اس وقت مسلمانوں کی صورت حال کچھ اسی طرح کی ہے۔ عید تو ہرسال آ تی ہے لیکن مسلمانوں کے لئے عید ،پیغام ِ خوشی و انبساط کا باعت نہیں بن رہی ہے۔کیا واقعی عید الفطر کی معنویت ختم ہو گئی ہے یا پھر امت نے فلسفہ ٔ عید کو سمجھے بغیر عید منانے کی رسم شروع کر دی ہے۔ فلسفہ عید تو امت ِواحدہ کا تصور دیتا ہے اور نماز عید میں اس کا بھر پور مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن زندگی کے دیگر معاملات میں یہ ملت متحد نہیں ہے۔ مسلکوں اور فرقوں میں یہ ملت نہ صرف تقسیم ہو گئی بلکہ منتشر بھی ہوگئی ۔ ایک دوسرے کے درمیان شکوک و
شبہات بھی اس قدر بڑھ گئے کہ کسی کو کسی پر اعتبار نہ رہا۔ تمام مسلمان ، بھائی بھائی کا تصور تقریروں تک محدود ہو گیا۔ اس لئے امت کے لئے عید کا موقع بھی بھرپورخوشی کے لمحات میسر کرنے سے قاصر ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ عید کے دن بھی ہم ایک دوسرے سے گلے شکوے رکھتے ہیں۔ ہم گلے ملتے ہیں لیکن ہمارے دل نہیں ملتے۔ جب تک ہمارے دل ایک دوسرے سے نہ ملیں عید کی سچی خوشیوں کا حصول ہمارے لئے ممکن نہیں ہے۔ ملت کا ایک دوسرے سے دست گربیاں ہونے کا مزاج ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔ مسلمانوں کی آپس میں دوریاں دشمنوں کو ان پر یلغار کرنے کا موقع دے رہی ہیں۔ جس ملت کا ایک خدا، ایک رسولؐ، ایک کتاب اور ایک کعبہ ہو وہ اگر خانوں میں بٹ جائے تو اتحاد ِ اسلامی کا منظر کہاں دیکھنے کو ملے گا۔ عید کے اس پُر مسرت موقع پر مسلمانوں کو اس بات کا عہد کرنا ہو گا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند متحد رہیں گے۔ اپنے فروعی اختلافات سے دست کش ہوکر کلمہ کی بنیاد پر متحدہوں گے۔ خلوصِ دل کے ساتھ مسلمان جب تک اس بات کا عزم نہیں کریں گے کہ وہ ہر دم اسلام کی تعلیمات کو اپنے حزر جاں بنائے رکھیں گے، عید کی سچی خوشی ان کو نصیب نہیں ہو گی۔ جس دن امت کے دل ملیں گے وہی دن ان کے لئے عید کا دن ہوگا۔ حالات کی سنگینی اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان اپنی صفوں میں دراڑ نہ آنے دیں۔ مسلمانوں کو عید کے موقع پر موجودہ حالات سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔
عید الفطر اس سال ایسے موقع پر آئی ہے جب کہ ارضِ فلسطین ، فلسطینیوں کے خون سے لہولہان ہے۔ ظالم قوم معصوم اور بے گناہ فلسطینیوں پر اپنے ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ کا سارا علاقہ قبرستان بن چکا ہے۔ ہزاروں فلسطینی اب تک جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے بچوں اور عورتوں کو بھی اپنا نشانہ بناتے ہوئے انہیں شہید کر دیا۔ہر روز انسانی حقوق کی پامالی کے بدترین واقعات کو دیکھتے ہوئے بھی انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیمیں خاموش ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد منظور ہونے کے بعد بھی اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ فلسطین کے لئے یہ رمضان سخت آزمائش کا رہا۔ انہوں نے بغیر سحری اور افطار کئے رمضان کے روزے رکھے اورظالم کے خلاف ڈٹے رہے۔ 1917کے اعلان بالفور کے ذریعہ برطانوی حکومت نے یہودیوں کو اس بات کی ضمانت دی تھی کہ فلسطین میں اسرائیلی مملکت قائم کی جائے گی۔ اسی سازش کے تحت انگریزوں نے عربوں کے قلب پر خنجر گھونپتے ہوئے فلسطین کی سرزمین پر14؍ مئی 1948کو اسرائیلی مملکت قائم کر دی۔ اس کے بعد سے اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم بڑھنے لگے۔کئی موقعوں پر فلسطینیوں کے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی اور بیشتر علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ بھی کرلیا۔ اب جوجنگ چھیڑی گئی ہے اس کا مقصد پورے فلسطین پر قبضہ جمانا ہے۔اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جس جنگ کا آغاز کیا تھا ،وہ خود اب اس میں پھنس گیا ہے۔
حالات کے تناظر میں ساری دنیا کے مسلمانوں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ فلسطینیوں کی شہادتوں کو فراموش کر کے کیا ہم عید منائیں۔ فلسطینی بھائیوں کے حق میں بالخصوص نماز عید کے موقع پر دعا کرنا ہمارا دینی و ملّی فریضہ ہے۔ عید الفطر مناتے ہوئے ہمیں ساری ملت اسلامیہ کے درد کو محسوس کر تے ہوئے ان سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے ان کی مدد کے لئے تیار رہنا چاہئے یہی دراصل عید الفطر کا فلسفہ اور تقاضا ہے۔
( رابطہ۔9885210770)