اسلام میں مساجد کا مقام اور ان کی عظمت و اہمیت

حضوراقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: احَبُّ البلاد اِلى اللّٰه مَساجِدُها ۔ (ترجمہ(’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہترین جگہیں مسجدیں ہیں‘‘۔(صحیح مسلم)
مساجد روئے زمین کی سب سے مقدس جگہیں ہیں، ان کی حیثیت روئے زمین پر ایسی ہی ہے جیسے جسم میں روح کی ،جسم کی بقاءروح کے بغیر نہیں ،اسی طرح مساجد کے اختتام کے ساتھ روئے زمین بھی ختم ہوجائے گی، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےقیامت کے وقوع کی قریبی اور بڑی علامتوں میں سے ایک،ام المساجد کعبہ شریف کا انہدام بتایا ہے۔ جس طرح ارواح جسم کے فناہونے کے بعد بھی محفوظ رہتی ہیں، نیکوں کی روح علیین میں اور بروں کی سجین رکھی جاتی ہیں، اسی طرح دنیا کے ختم ہونے کے بعد بھی مساجد باقی رہیں گی اوران کی جگہیں ایک دوسرے سے ملا کر ایک کردی جائیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن ساری زمین ختم کردی جائیں گی ،مگر مساجد باقی رہیں گی، تمام مساجد ایک دوسرے کے ساتھ ضم کرکے یکجا کردی جائیں گی‘‘۔(مجمع الزوائد)اللہ تعالیٰ نے مسجد کی نسبت اپنی جانب کرتے ہوئے اس کے تقدس وعظمت پر مہر لگادی، فرمایا :مسجدیں اللہ ہی کی ہیں، پس اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارو۔(سورۃ الجن) ایک جگہ ارشاد فرمایا : مسجدوں کی تعمیر وہی کرتے ہیں ، جن کا ایمان اللہ پر اور قیامت کے دن پر ہے اورنماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے، پس امید ہے کہ ایسے لوگ کامیاب ہوجائیں ۔(سورۃالتوبہ)
اسلام میں مساجد کی حیثیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی طرح محض عبادت کی ادائیگی کےلیے مختص کی گئی ایک عمارت کی نہیں، بلکہ مساجد اسلامی معاشرے کی دینی ، سیاسی ، معاشرتی ، اخلاقی، رفاہی قیادت کا مرکز ہیں۔ دنیا کی ظلمتوں میں اسلام ہدایت کا نور ہے اور مساجد وہ چراغ ہیں، جہاں سے یہ نور اپنی کرنوں سے معاشرے کے گوشے گوشے کو منوّر کرتا ہے ۔ مساجد کی حیثیت اسلامی معاشرے میں دل کی ہے، جہاں سے علم و ہدایت کا خون معاشرے کی رگوں میں پہنچتا ہے ۔ مسجد معاشرے میں اسلام کے زندہ ہونے کی علامت ہے ۔
مساجد چونکہ دنیا کی بقا ءاور اس کے امن واستحکام کے لئے ضروری ہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مساجد کی تباہی اور اس کی ویرانی کی سازش کرنے والوں کو روئے زمین کا سب سے بڑا ظالم قرار دیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :وہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے جو اللہ کی مسجدوں میں ذکر کرنے سے لوگوں کو روکے اور اس کی ویرانی کی کوشش کرے۔(سورۃ البقرہ)اس آیت میں بھی مساجد کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اور جو جگہ اللہ کی عبادت کے لئے بنائی گئی ہو ،اس میں اللہ کی عبادت سے روک دینے کو بہت بڑا ظلم قرار دیا گیاہے ، یہ آیت گو مسجد حرام سے متعلق نازل ہوئی ہے ، لیکن جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام مسجدوں کا یہی حکم ہے۔ اگرچہ یہ آیت ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے ، لیکن یہ حکم عام ہے : ’’ الحکم عام و إن کان المورد خاصاً‘‘ (تفسیر مظہری : ۱؍۱۱۶)اور مسجد کو ویران کرنے سے مراد اسے منہدم کرنا اور اس میں عبادت کو روک دینا ہے ۔ (تفسیر ابی السعود : ۱؍۱۴۹)
اگر اسلامی ریاستیں موجود ہیں تو مساجد کی تعمیراور انتظام کی ہر ذمہ داری ریاست کی ہوگی۔ اسلامی ریاست کی غیر موجودگی میں یہ ذمہ داری علاقے کے مسلم افراد کی ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کا انتظام کریں اور اسے مطلوبہ بنیادوں پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔مسجد کی شرعی حیثیت کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات سے بھی روشنی ملتی ہے ،حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : زمین میں مسجدیں اللہ کے گھر ہیں اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ جو اللہ کے گھر کی زیارت کرے ، اللہ تعالیٰ اس کا اکرام فرمائیں ۔ (معجم طبرانی کبیر ، کتاب الصلاۃ ، باب لزوم المساجد ، : ۲۰۲۸)
اس حدیث میں مسجدوں کو اللہ تعالیٰ کا گھر قرار دیا گیا ہے ، گھر قرار دینے کا مطلب ظاہر ہے کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ظاہر ہے کہ جب انسان اس کا مالک باقی نہیں رہا ، تو اسے اس میں کسی تصرف اور اس کی حیثیت اور کیفیت کو بدلنے کا حق کس طرح ہوسکتا ہے ؟مسجدوں کی تعمیر کرنے پر رسول اللہ ﷺ نے جنت کا وعدہ فرمایا،ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:’’ جس شخص نے اللہ کی رضاکے لئے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں محل تعمیر فرمائے گا۔ (بخاری ومسلم)
مسجد کی طرف اٹھنے والے ہرقدم پرایک نیکی لکھے جانے،ایک گناہ معاف ہونے اورجنت میں ایک درجہ بلند ہونے کی بشارت دی گئی ہے۔ مساجد کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ روئے زمین پر انسانوں کی آمد سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اس جگہ کا نظم کعبہ شریف کی شکل میں فرمایا جو روئے زمین پر اللہ کا پہلا گھر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: بے شک روئے زمین پر سب سے پہلے وہی گھر تعمیر کیا گیا جو مکہ میں (کعبہ شریف)ہے اورساری انسانیت کے لئے برکت اور ہدایت کا سامان ہے۔ (القرآن)
حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک تمام مذاہب اور ادیان میں عبادت خانے تعمیر ہوئے اوراسے عزت وشرف اورتکریم کی نگاہ سے دیکھا گیا،جہاں لوگ جمع ہوکر اپنے خالق ومالک کی عبادت کرتے رہے،اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اللہ تعالیٰ کا آخری دین اسلام لے کر مبعوث ہوئے تو مکہ مکرمہ میں کعبہ شریف عبادت خانہ کی شکل میں موجود تھا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر کعبہ شریف سے چند قدم کے ہی فاصلے پر تھا ،جس سے عبادت کی ضرورت کی تکمیل ہورہی تھی، لیکن ہجرت کرکے جب مدینہ منورہ تشریف لائے جہاں پہلے سے مسلمانوں کے لئے کوئی عبادت خانہ موجود نہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں داخلہ سے پہلے اس کے ایک محلے قباء میں چودہ دن قیام فرماکر ایک مسجد تعمیر فرمائی، جو آج بھی مسجد قباء کے نام سے مشہور اور اسلام کی پہلی مسجد کی شکل میں موجود ہے، جس میں دورکعت نفل نماز پڑھنے کا ثواب ایک مقبول عمرہ کے برابر ہے۔
اتنا بڑا ثواب مسجد قباء میں نماز کی ادائیگی پر رکھا گیا جس کی بہت سی حکمتیں ہیں ،ان میں سے ایک ان آبادیوں میں جہاں مسجد نہیں ہے، تعمیر مساجد کے لئے تحریص وتحریک اور ترغیب بھی ہے،اس کی تعمیر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور یہاں بھی سب سے پہلے مسجد کی فکر فرمائی، جب تک مسجد نبوی کی تعمیر مکمل نہ ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا گھر نہیں بنایا اور حضرت ابو ایوب انصاری ؓکے مکان میں مقیم رہے ،جب مسجد نبوی شریف تیار ہوگئی ،اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے ارد گرد ازواجِ مطہراتؓ کے حجرے بنائے ،جب مسلمانوں کی آبادی مختلف علاقوں میں پھیلی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ہر آبادی میں مسجد بنانے کا حکم دیا۔ (سنن ابودائود) مسلمانوں نے اس پر عمل کیا اور ہر گائوں اور محلے میں مسجدیں تعمیر کیں، یہاں تک کہ مسجدیں مسلمانوں کے وہاں آبادہونے کی علامت قرار پائیں اوراسے شعار اسلام بتایا گیا۔حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم کسی کو دیکھوکہ وہ مسجد کا عادی بن گیا ہے تواس کے مومن ہونے کی شہادت دو۔(مسند احمد)
مساجد کو اللہ کی رحمتوں کے نزول کا سبب اور عذاب الٰہی سے بچنے کا ذریعہ بتایا گیا ہے، حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ان مسجد والوں پر نظر ڈال کر اپنا عذاب پوری قوم سے ہٹا لیتاہے۔(تفسیر ابن کثیر)مساجد جس طرح افضل العبادات یعنی نماز کی ادائیگی کی جگہ ہے ،اسی طرح مسلمانوں کے اجتماعی نظام کا عظیم مرکز بھی ہے، مساجد کے اجتماعی نظام سے بڑھ کردنیا میں کوئی نظام ممکن بھی نہیں ،ان ہی وجوہات کی بناء پر مسجدوں کی تعمیر اور اسے آباد کرنا ایمان کی علامت قرار دیا گیا اوراس کی تعمیرپر جنت کا وعدہ کیا گیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بناتا ہے۔( متفق علیہ)
مسجد جانے والے کو بھی اجر عظیم ملتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:اس کے لیے ہر قدم کے بدلے نیکی ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند اور اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم)بلکہ مسجد سے واپس گھر آتے ہوئے بھی اسی طرح نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔