ارشاد باری تعالی کا مفہوم: ’’جن لوگوں نے (غیر مسلم) تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ بھلائی اور عدل کا سلوک کرنے سے اﷲ تم کو منع نہیں کرتا۔ اﷲ تو عدل کرنے کو دوست رکھتا ہے۔اﷲ انہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔‘‘ (سورہ الممتحنہ)
کفر و اسلام کے درمیان معرکہ آرائی روز اول سے ہی جاری ہے اور قیامت تک رہے گی۔ یہ اعتقادات کی جنگ ہے، جسے اہل ایمان ہمیشہ صبر و استقامت کے ساتھ لڑتے چلے آ ئے ہیں۔ اسلام انسانیت کی فلاح کا داعی اور پیغمبر اسلام حضرت محمّد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بناکر بھیجے گئے۔ آپؐ نے جنگ و جدال کو پسند نہیں فرمایا بلکہ ہمیشہ کافروں کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں پر جنگیں مسلط کی گئیں۔ غزوۂ بدر سے لے کر تمام جنگوں کا مشاہدہ و مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ کبھی اہل اسلام نے جنگ میں پہل نہیں کی بلکہ مسلّط کردہ جارحیت کا دفاع کیا۔یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے یہودیوں سے معاہدۂ امن کیا گیا تاکہ فساد کا راستہ روکا جائے۔ تاہم ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کی گئیں اور انہیں مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ البتہ تمام تر نفرتوں، تعصبات، دشمنی اور حسد کے باوجود خالق کائنات نے انسانیت سے حسن سلوک پر زور دیا اور بالخصوص اسلامی حکومت کے ماتحت مسلم معاشروں میں رہائش پذیر غیر مسلم اقلیتوں کو تمام بنیادی انسانی حقوق عطا کیے جس کی بشری تقاضوں کے تحت ضرورت ہوسکتی ہے۔
جو غیر مسلم اسلامی ریاست کے خلاف کسی قسم کی جنگی سرگرمیوں میں ملوث نہیں بلکہ بہ حیثیت ذمّی کے اسلامی حکومت کے زیر نگیں پُرامن طور پر رہ رہے ہوں تو ان کے ساتھ عدل و احسان سے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حسن سلوک کا حکم دیا ہے ۔جیسا کہ حدیث میں ہے کہ مکہ مکرمہ میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو خود مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن انہوں نے مسلمان ہونے والوں سے کسی قسم کی ضد اور پَرخاش بھی نہیں رکھی اور نہ دین کے معاملے میں کفار مکہ کے ساتھی بن کر اہل اسلام کے خلاف لڑے اور نہ ہی ان کو ستانے اور اپنے گھروں سے نکالنے میں ظالموں کے مدد گار بنے، اسلام ایسے کافروں سے بھی حسن سلوک کا حکم دیتا ہے جو کسی قسم کی اسلام دشمنی میں ملوث نہ ہوں۔
وادی میں کبھی بھی کسی غیر مسلم کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا تو وادی کشمیر کے عوام اس مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، ﷲ تعالیٰ فساد فی الارض کو قطعی پسند نہیں کرتا۔ اسلامی مملکت میں ایسے امور کا ارتکاب کہ جن سے معاشرتی امن و امان متاثر ہو اور کسی مومن تو دور کی بات ہے غیر مسلم کی بھی جان، مال، عزت، آبرو اور املاک کا نقصان نہیں ہوسکتا۔
سیرت کی کتابوں میں موجود ہے کہ مدینہ منورہ کی پہلی اسلامی ریاست میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم فرمائی تھی، ایک یہودی لڑکی پر یہودی غنڈوں نے دست درازی کی جرأت کی، تو اس لڑکی کی نگاہ یکایک امام کائنات ؐ کے باب عالی پڑی تو وہ پکار اٹھی کہ میں آپ ؐ کے شہر میں تنگ کی جارہی ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی غضب ناک انداز گھر سے نکلے اور فرمایا: اے یہودی کی بیٹی! تُو یہودی کی نہیں بلکہ میں محمد ؐ کی بیٹی ہے، تیری حفاظت بھی میں اُسی طرح کروں گا جس طرح اپنی بیٹی کی کرتا ہوں۔ اس واقعہ میں امن و امان اور صحیح اسلامی طرز عمل پوشیدہ ہے، اگر اس پر غور کیا جائے۔
اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم شہری کو قتل کرنا حرام ہے۔ کسی بھی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم: ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین کے (ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘ (المائدہ) اس آیہ کریمہ میں نفساً کا لفظ عام ہے۔ لہٰذا اس کا اطلاق بھی عموم پر ہوگا۔ یعنی کسی ایک انسان جو کسی بھی مذہب و قوم یا علاقے کا رہنے والا ہو کا قتل قطعاً حرام ہے اور اس کا گناہ اتنا ہی ہے جیسے پوری انسانیت کو قتل کرنے کا ہے۔ لہٰذا مسلم ریاست میں آباد غیر مسلم شہریوں کا قتل بھی اسی زمرے میں آئے گا۔
امن و امان، تحفّظ و سلامتی سب انسانوں کے لیے بلا تفریق مذہب و ملّت یکساں ہوتی ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں۔ اسلام ذمیوں کے تحفّظ کی ضمانت دیتا ہے۔ قرآن و حدیث اس بات کی کسی صورت اجازت نہیں دیتے کہ مسلم یا غیر مسلم بے گناہ شہریوں کو اس طرح قتل کیا جائے۔ اسلام ہر صورت امن و امان کا داعی ہے اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔
( بارہمولہ ، رابطہ/6005293688 )