’اسلام، آزادی اور اتحاد ملت‘

سرینگر// تحریک حریت کے صدورِ اضلاع کی نشست سے خطاب کے دوران تنظیم کے چیرمین محمد اشرف صحرائی کہا کہ تحریک حریت کے منصۂ شہود پر لانے کا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اسلام، آزادی اور اتحاد ملّت جیسے اہداف کی خدمت کرکے اللہ کی رضا اور فلاحِ آخرت کا سامان فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا اسلام ہمارا اولین مقصد اور منشا ہے۔ اس کے بغیر دنیا کے انسان کو نہ تو دنیوی زندگی میں امن وآشتی اور خوشحالی حاصل ہوسکتی ہے، نہ عدل وانصاف اور اصولوں کی آبیاری ہوسکتی ہے اور نا ہی اُخروی کامیابی مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہم پر یہ منصبی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم تحریک حریت کی اس دعوت اور پیغام کو عام انسان تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دوسرا ہدف آزادی ہے، کیونکہ بھارت نے مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور اخلاق وضوابط کو پاؤں تلے روندتے ہوئے جموں کشمیر کی سرزمین پر یہاں کے عوام کی مرضی کے برعکس جبری قبضہ کیا اور ہم مسئلہ کشمیر کے حتمی اور پائیدار حل کے لیے ایک طویل عرصہ سے سیاسی سطح پر جدوجہد کررہے ہیں اور ہماری یہ سیاسی جدوجہد اس کے حتمی حل تک جاری رہے گی۔ صحرائی نے کہا کہ اتحاد ملّت ہمارا تیسرہ ہدف ہے۔ ہم تمام تر مسلکی، تنظیمی اور فقہی اختلافات کو نظرانداز کرکے ملّت کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کے اصولوں کے تحت اتحادکی لڑی میں پرونا چاہتے ہیں۔ صحرائی  نے سید امتیاز حیدر، محمد یٰسین عطائی، نثار حسین راتھر وغیرہ کو گرفتار کرکے تھانوں میں بند رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی ہے کہ ان کو گرفتار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گرفتاری بلاجواز ہے اور انتظامیہ اور پولیس انسانی آزادی کو اپنی مرضی کی بنیاد پر سلب کررہی ہے۔