اسرائیل میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ سے44 افراد ہلاک

تل ابیب//اسرائیل میں یہودیوں کے ایک مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ مچنے سے 44 افراد ہلاک اور 150 زخمی ہو گئے ہیں۔بھگدڑ کا واقعہ جمعے کی صبح اسرائیل کے مائونٹ میرن کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب ہزاروں افراد "لاگ باومر" نامی تہوار کے سلسلے میں جمع تھے۔اسرائیلی حکومت کی طرف سے کرونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ پہلا مذہبی اجتماع تھا۔بھگدڑ کے نتیجے میں جانوں کے ضیاع کو اسرائیل کی تاریخ میں بدترین سویلین جان لیوا واقعات میں سے ایک بتایا جا رہا ہے۔بھگدڑ مچنے کا واقعہ شمالی اسرائیل میں یہودیوں کے ایک مذہبی مقام ماؤنٹ میرون پر تقریب کے دوران پیش آیا جہاں 10 ہزار سے زائد لوگ جمع تھے۔رپورٹس کے مطابق تقریب میں بم کی موجودگی کی اطلاع عام ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی جس کے نیتجے میں 44 افراد ہلاک ہوگئے۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں، اب تک کی اطلاعات کے مطابق بم کی موجودگی کی اطلاع جھوٹی تھی۔