استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے اساتذہ کی عزت میں ہی قوم کی بلندی کا رازپنہاں

سبزار احمد بٹ

معاشرے میں ہر فرد کی اپنی ایک اہمیت اور اپنا کام ہوتا ہے۔ڈاکٹر کا کام بیماروں کو علاج کرنا ہے، انجینئر سڑکیں، پْل وغیرہ بنا کر قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار نبھاتا ہے۔اسی طرح سے ہر فرد قوم کی بقا اور بہتری میں اپنے حصے کا کردار نبھاتا ہے۔ان میں سے اگر کسی بھی شخص سے کوئی چوک، کوتاہی یا غلطی ہوتی ہے تو یقینا اس کوتاہی اور اس غلطی کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر ڈاکٹر سے کوئی غلطی ہو جائے تو کسی کی جان بھی جاسکتی ہے، اگر ایک انجینئر سے غلطی ہو جائے تو کہیں کوئی پْل یا کوئی اور تعمیر گر سکتی ہے۔

ان ہی افراد میں استاد بھی ایک فرد ہوتا ہے لیکن استاد کی اہمیت کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ چاہے ڈاکٹر ہو یا انجینئر، وکیل ہو یا جج، سنتری ہو یا منتری سب استاد کی بدولت ہی بنے ہیںاور اگر ایک استاد سے غلطی ہوجائے تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو بلکہ قوم کی آنے والی نسلوں تک کو بھگتناپڑ سکتا ہے۔اسی لیے استاد کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔استاد کی اسی اہمیت اور افادیت کو دیکھتے ہوئے دنیا کے تمام مذاہب نے استاد کے پیشے کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے اور استاد کی عزت ،عظمت اور بڑھائی کو تسلیم کیا ہے۔

دنیا کے ہر حصے میں استاد کی عزتِ کی جاتی ہے۔ اور دین اسلام کا بھی استاد کی اہمیت اور عزت کو لے کر ایک واضح نقطہ نظر ہے کیونکہ استاد نئی قوم کو نہ صرف پڑھاتا لکھاتا ہے بلکہ ان کی تراش خراش کر کے ان کی تربیت کرتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پچھلے چند برسوں سے عجیب قسم کا ماحول بنتا جارہا ہے۔ہر شخص استاد کی عزت اچھالنا اپنے لیے فخر کا کام سمجھتا ہے۔ استاد کی معمولی غلطی اور کبھی کبھی بنا کسی غلطی کے بھی اس کی عزت کو سرِ بازار تار تار کیا جاتا ہے۔ کبھی استاد کسی بچے کو پانی کی بالٹی یہاں تک کہ پانی کا گلاس لانے کے لیے بھی کہے تو اگلے دن اس استاد کو اخبار کی سرخی بنایا جاتا ہے۔اور نہ جانے کیا کیا لکھا جاتا ہے۔کبھی کوئی استاد کسی بچے کو ڈانٹے کہ ڈھنگ کے کپڑے پہنا کرو ،اپنے بال ٹھیک کرو تو اگلے دن اسی بات پر ہنگامہ کھڑا کر کے استاد کا سرِ بازار تماشہ بنایا جاتا ہے۔ کچھ بچوں نے اپنی حالت اس قدر خراب کی ہوتی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سکول نہیں کسی سنیما ہال کی طرف جارہے ہیں۔ کیا ایسے بچوں کو سدھارنے کا حق استاد کو نہیں ہے؟ ۔

حال ہی میں پلوامہ سے ایک خبر موصول ہوئی کہ ایک استاد نے سات سال کی ننھی منی بچی کے بال کاٹے۔یقینا یہ خبر سن ایک عام انسان کا غصہ ہونا اور جذباتی ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ لیکن کیا ہمارے صحافی حضرات اب غصے اور جذباتی کردار اپنا کر اپنا کاروبار چلانے لگے ہیں ؟کیا صحافی بھائیوں نے حقائق سے کام لینا چھوڑ دیا ہے؟ یا انہیں حقائق معلوم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی ہے؟بلکہ جو ملا اسی کو بنا کسی تحقیق کے پیش کرنے پر ہی اکتفاء کرنے لگے ہیں۔اگر ایسا ہے تو یہ بات قابل افسوس اور قابل مذمت ہے کیونکہ اسی کہانی کے دوسرے پہلو میں یہ بتایا گیا کہ پلوامہ کے استاد نے سات سال کی بچے کے بال کاٹے نہیں بلکہ سنوارے تھے۔حالانکہ معاملہ پولیس کے پاس زیر تفتیش ہے اور ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن ایسے واقعات سماج کے ذی حس طبقے کو ایک گہری سوچ میں ڈال دیتے ہیں۔اور یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنے معاشرے کو کس جانب لے جارہے ہیں۔

کیا استاد بچوں کو ان کی بہتری کے لیے ڈانٹ بھی نہیں سکتا۔ کسی دن اگر سکول کا خاکروب بیمار پڑ جائے تو کیا استاد اور بچے مل کر سکول کی صفائی نہیں کر سکتے ہیں؟ کسی بچے نے اگر سکول میں پانی کی بالٹی اٹھائی تو کون سی قیامت آ گئی۔ اس بات کا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنے کی کیا ضرورت ہے اور والدین کیا اس بات کو اپنی کامیابی گردانتے ہیں کہ انکے بچے کو سکول میں کوئی کام نہیں بولا جائے گا، استاد کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ انکے بچے کو ڈانٹے، استاد کو صرف پڑھانا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔

کوئی بھی پتھربِنا تراشے مورت نہیں بن سکتا اور تراشنے کے لیے پتھر کو تھوڑی سی سختی ضرور برداشت کرنا پڑے گی۔ آخر ان حالات کا بچوں پر کیا اثر پڑے گا۔آج کا استاد اگر بچوں سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ میرے لیے پانی کا گلاس لاؤ تو ہم کسی طرح کی تربیت کی امید رکھ سکتے ہیں۔ استاد کا کام فقط پڑھانا نہیں ہے بلکہ بچوں کی اخلاقی تربیت بھی استاد کے ذمہ ہے لیکن حالات ایسے ہی رہے یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اگر والدین اور باقی متعلقین نے ہوش کے ناخن نہیں لیے اور استاد کے ہاتھ اسی طرح باندھے رکھے اور استاد کو استاد نہیں بلکہ فقط ایک نوکر بنا کر رکھا تو وہ دن دور نہیں جب استاد اپنا کام پڑھانے تک محدود کریں گے اور بچوں کی تربیت کرنے سے اپنا پلو جھاڑیں گے۔اْس وقت ہمارے پاس کف ِ افسوس ملنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہوگا۔

اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیے کیا ہمارے اساتذہ ہمیں نہیں ڈانٹتے تھے۔ ؟ کیا استاد کے ڈانٹنے پر کوئی ہنگامہ ہوتا تھا۔اور تو اور کیا ہم اپنے گھر میں یہ شکایت کر سکتے تھے کہ استاد نے ہمیں ڈانٹا۔نہیں ہرگز نہیں کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہمارے گھر والے استاد کو برا بھلا کہنے اور سوشل میڈیا پر اس کی عزت اچھالنے کے بجائے الٹا ہمیں ہی ڈانٹیںگے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں آج بھی اپنے اساتذہ کا احترام ہے اور معاشرے کے ہر فرد کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ اساتذہ کوئی بھی قدم بچے کی فلاح وبہبود کے لیے اٹھا رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو بچوں میں ایک طرح کا اعتماد بڑھ جائے گا کہ انہیں کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہے چاہے وہ جو کر لیں۔خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے بچے شرارتی، ضدی بننے کے ساتھ ساتھ روگردانی اور بد اخلاقی پر اتر آئیں گے۔ ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کسی بھی غلط کام یا بیجا حرکت پر اساتذہ کو انہیں ڈانٹنے اور سنوارنے کا پورا حق ہے۔

میں اساتذہ کے کسی بھی غلط قدم اٹھانے کے حق میں نہیں ہوں۔بلکہ میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ اساتذہ ایک نازک اور مقدس پیشے پر وابستہ ہیں لہٰذا انہیں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا چاہئے کیونکہ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک استاد کی غلطی پر پوری اساتذہ برادری کو شرمندہ ہونا پڑتاہے اور استاد ہونے کے ناطے ایک شخص کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہئے کہ وہ سکول میں کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا ہے۔ایک استاد کو اپنے حدود کا علم ہونا چاہئے اور جو کام والدین کا ہے وہ والدین پر ہی چھوڑ دینا چاہئے اور اس میں خود کسی طرح کی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہئے۔

صحافی برادری سے بھی مودبانہ التماس ہے کہ کسی کی عزت اچھالنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے اور خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچنا چاہئے۔صحافی برادری کو یہ علم چاہئے کہ ہر بات میں تحقیق بہت ضروری ہے۔ ہم سب کو اس بات کا بخوبی ادراک ہونا چاہئے کہ اساتذہ کی عزت میں ہی قوم کا مقدرپنہاں ہے۔اگر ہم اسی طرح اساتذہ کی تذلیل کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پوری قوم جہالت اور لاعلمی کے دلدل میں پھنس جائے گی اور پھر ہمارے پاس ہاتھ ملتے رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

رابطہ۔اویل نور آباد