اساتذہ کی تقرریوں میں ضلع پونچھ امتیازی سلوک کاشکار

 پیر پنچال یوتھ پارلیمنٹ برہم 

پونچھ //پیر پنچال یوتھ پارلیمنٹ نے سروسز سلیکشن بورڈ کی طرف سے جاری ہوئے اشتہار میں ضلع پونچھ کو نظرانداز کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیاہے ۔ اپنے ایک بیان میں تنظیم کے صدر سید وسیم الحسن نے کہاکہ پونچھ ضلع کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں جنہوںنے اپنی قابلیت کا لوہا کے اے ایس سمیت حالیہ امتحانات کے نتائج میں دیاہے اور کے اے ایس میں ضلع سے ہی تعلق رکھنے والے نوجوان نے اول مقام حاصل کیالیکن نہیں معلوم بھرتی ایجنسیوں کی طرف سے اس ضلع کو کیوںنظرانداز کیاجارہاہے ۔وسیم نے کہاکہ یہ بات حیران کن ہے کہ سروسز سلیکشن بورڈ کی طرف سے اسامیوں کا اشتہار جاری کیاگیاہے اوراس میں ضلع پونچھ کیلئے ایک بھی اسامی نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس کے علاوہ ڈوڈہ ، جموں، کٹھوعہ ، رام بن ، کرگل ، کشتواڑ اور لیہہ کو بھی نظرانداز کیاگیاہے جو ان اضلاع کے نوجوانوں کے ساتھ سراسرناانصافی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جموں صوبہ خاص طور پر ضلع پونچھ کے پرائمری ، مڈل اور ہائی سکولوںمیں بڑی تعداد میں اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں جس کے باعث بچوں کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہورہی ہے اور امید کی جارہی تھی کہ ان اسامیوں میں پونچھ کو بھی اس کا حصہ دیاجائے گالیکن ایسا نہیںہوا اور حکومت نے اس سرحدی ضلع کو یکسر نظرانداز کردیاہے جس سے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں زبردست مایوسی پائی جارہی ہے ۔انہوںنے وزیر تعلیم سے اپیل کی کہ وہ پالیسیوں کو یونیفارم کریں اور نوجوانوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی کاتدارک کیاجائے۔
 

حکام فیصلہ پر نظرثانی کریں :بخاری 

بختیار حسین
 
سرنکوٹ//سروسز سلیکشن بورڈ کی طرف سے جاری کئے گئے اشتہار پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر و سابق ممبراسمبلی سید مشتاق احمد بخاری نے کہاکہ حکومت اس فیصلہ پر نظرثانی کرے اور ضلع پونچھ کو بھی اس کا حق دیاجائے جہاںسرکاری سکولوں میں کئی اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔تعلیم یافتہ بیروزگار اور این سی یوتھ کے نوجوانوں کی شکایات سننے کے بعد بخاری نے کہاکہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیاجائے گا اور خاموشی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سراسر غلط ہے کہ اسامیاں خالی پڑی رہیں اور تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار کا موقعہ ہی نہ دیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ اس اشتہار کو واپس لے کر از سر نو اشتہار جاری کیاجائے اور اس میں پونچھ ضلع کیلئے بھی اسامیاں رکھی جائیں ۔انہوںنے الزام لگایاکہ سرکار جان بوجھ کر ضلع پونچھ کی عوام کیساتھ سوتیلا سلوک کر رہی ہے اور لوگوںکو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ راجوری اور پونچھ کوکبھی ریاست کا حصہ نہیں ماناگیا۔انہوںنے کہاکہ پونچھ کو صرف ڈرائیور کی ایک پوسٹ دی گئی ہے اور ٹیچر کی ایک بھی اسامی پُر کرنا گوارہ نہیں سمجھاگیا۔ انہوںنے کہاکہ اس بھرتی عمل کوروک کر پونچھ ضلع کے ساتھ انصاف کیاجائے ۔قبل ازیں نوجوانوں نے مانگ کی کہ پونچھ ضلع کیلئے بھی اساتذہ کی اسامیاں مشتہر کی جائیں ۔اس موقعہ پر ظہور حسین نامی نوجوان نے کہا کہ ضلع میں اسامیاں خالی رہنے کے باوجود محکمہ تعلیم نے پونچھ کو اس کا حصہ نہیںدیا اور ایک بھی ٹیچر تعینات نہیں کیاجارہا جو یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
 

پونچھ میں احتجاج 

حسین محتشم
 
پونچھ//جموں کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے خلاف پونچھ میں احتجاج کیاگیا۔جموں کشمیر انصاف مومنٹ کی جانب سے صدر جاوید اقبال ریشی کی قیادت میں پریڈ گراؤنڈ پارک پونچھ میں احتجاج کیاگیا۔ اس موقعہ پرمقررین نے کہا کہ  2154ا سامیوں میں سے پونچھ کو محض ایک پوسٹ دینا پڑھے لکھے نوجوانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے یہاں صنعت کاری، کاروبار بھی نہ ہونے کی وجہ سے نوجوں کا دار ومدار محض سرکاری نوکریوں پر ہے اور ایسے میں سرکار کی طرف سے ایسا سلوک ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر جلد از جلد پونچھ کیلئے کم از کم ایک سو اسامیوں کو منظوری نہ دی گئی تو وہ نوجوانوں کو لیکر سڑکوں پر اتریں گے ۔اس موقعہ پر نائب صدر عبدالرشید شاہ پوری، سیکریٹری محمد رشید، خزانچی سہیم جعفر، شوکت حسین، فیضاب علوی وغیرہ بھی موجود تھے۔