اساتذہ۔۔۔ عزت وتوقیر کے حقدارمگر۔۔۔

محکمہ  تعلیم ،اساتذہ اور طبلہ وطالبات ایک تثلیت کہلائی جاسکتی ہے مگر یہ ایک ہی حقیقت کے تین نام قرار پاتے ہیں ۔ محکمہ تعلیم اپنی ذمہ داریاں بطریق اَحسن نبھا رہاہے تو سمجھ لیجئے اساتذہ اپنے پیشے کے تقاضوں سے انصاف کر رہے ہیں اور سٹوڈنٹس تعلیم وتعلم کا فیضان پارہے ہیں ۔ اگر اساتذہ فرض شناس اور پیشے کاتقدس برقرار رکھے ہوئے ہیں تو جان لیجئے محکمہ ٔ تعلیم اپنا مقصد وجود پوار کررہاہے۔ جب طلبہ وطالبات پڑھائی لکھائی میں تن من سے مشغول ہیں تو یقین کیجئے کہ محکمہ ٔ تعلیم اور اساتذہ کی کاوشیں رنگ لارہی ہیں ۔ بالفاظ دیگر یہ حقیقت ایک ہی سچائی کے تین رُخ ہیں۔    
 فرض کریں کسی قوم کے تمام ادارے مفلوج ہوں ، پوری معیشت برباد ہو ، سارا معاشرہ بگڑ ا ہو، جملہ اخلاق ناپیدہوں لیکن اگر اس سب کے باوجود اس کے یہاں تعلیم و تدریس کی قندیل فروزاں ہو تو ایسی قوم دیر سویر سنبھل جاتی ہے ، اس کا سمت ِ سفر دُرست ہوجاتا ہے ،اس کے خسارے کم ہوجاتے ہیں ، اس کے اخلاق سنور جاتے ہیں ،اس کی معیشت سدھر جاتی ہے، بالفاظ دیگر وہ زندگی کی شاہراہ پر پورے یقین واعتماد کے ساتھ گامزن ہونے کے قابل بن جاتی ہے ۔ ایسی قوم کی اُٹھان بلاشبہ کچھ دیر کے لئے تھم ضرور جاتی ہے لیکن علم وآگہی کا نور اسے منجمد نہیں ہو نے دیتی۔ اس کے برعکس اگر قوم کے سارے ادارے بظاہر صحیح ڈھنگ سے چل رہے ہوں ما سوائے ایک تعلیمی شعبہ کے تواس کے آوے کا آوا ہی بگڑ کر رہ جاتا ہے بلکہ ایسی بظاہر پھلتی پھولتی کم نصیب قوم کی تباہی اور بر بادی کی پیش گوئی علم نجوم کی مدد کے بغیر بھی بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے ۔ شاید یہی سوچ پہلے زمانوں میں اچھی طرح مستحکم تھی کہ ہم تقر یباً تمام آسمانی ادیان میںتعلیم وتدریس سے متعلق ہدایات واحکامات کا پشتا راپاتے ہیں ۔ اللہ کے پسندیدہ آخری دین اسلام میں تو شروعات ہی ’’اقرا ء‘‘سے ہوئی جس کا مطلب ہے پڑھئے ۔ اس ا یک لفظ نے علم وہنرکی نوارنی کائنات کو اپنے اندر سمو یا ہے۔ نوٹ کیجئے اس میں لکھئے نہیں کہا گیا بلکہ پڑھئے کہا گیا جس سے اشارہ یہی ملتا ہے کہ پڑھنا یا درس لینا انسانی کا میابی کا پہلا زینہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں حقیقی طور اُستاد کارِ نبوت کامقلد قرار پاتا ہے ۔ ہم جب ’’پڑھئے ‘‘ کی ا س ابدی اور آفاقی کسوٹی پر پانچ ہزار برس طویل انسانی تاریخ بہ نظر غائر دیکھیں تو یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہیں گے کہ قوموں اور معاشروں کے تہذیب و تمدن کا عروج و زوال صرف اور صرف تعلیم و تربیت کے اُتار چڑھاؤ سے ہی منسوب رہا ہے۔ ایام ِرفتہ میں جہاں جہاں علم کا نور سایہ فگن تھا ،وہاں وحدت، ترقی ، نیکی اور بھائی چارے کا ظہور بھی تھا اور جہاں جہالت وناخواندگی نے ڈیر اجمایا تھا ،وہاں شرک ،بدعت، ظلم ، جنگ وجدل اور آپا دھاپی کا اندھیرا چھایا تھا۔
 اس ایک آفاقی حقیقت کے آئینے میں آج جب ہم اپنے معاشرے میں قومی احساسات سے لے کر معیشت ، تہذیب وتمدن اور اخلاقیات کی گرتی ہوئی دیواروں پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس زوال آمادگی کے پس منظر میں وجوہات کا منبع و ماخذ ایک ہی دِ کھتاہے اور وہ ہے تعلیمی پسماندگی ۔ براہ ِکرم یہاں یہ نہ سمجھئے کہ تعلیمی پسماندگی کا مطلب اسکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں کی کم یابی ، نصابی کورسز کا قحط، ڈگریوں کی ناپیدی ہے ، نہیں قطعاً نہیں ، ہمارے یہاں پہلے کے مقابلے میں ایجوکیشنل انفراسٹرکچر کمیت(quantity) کے اعتبار سے کافی اچھا ہے مگر کیفیت(quality)ندارد۔ اس میں اب کوئی دو رائے نہیں کہ تعلیم وتدریس کا شعبہ اپنے ا ہداف اور منازل سے بہت دور آچکا ہے، حالانکہ اسی شعبے کے فیضان سے جہاں طلبہ بہرہ و ر ہوتے رہے ہیں، وہاں مدرسین و معلمین بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا اسی کے زیر سایہ منوا تے رہے ہیں ۔ بایں ہمہ یہ بات کافی حوصلہ شکن ہے کہ نہ وہ اگلے زمانوں کے ذہین و فطین شاگرد اب کہیں نظر آتے ہیں اور نہ وہ فرض شناس اور ذہن رسا اُستاد کہیں موجود ہیں جن پر زمانے فخر کریں۔ الا ماشاء اللہ ۔ ا س پر یہ اضافی مار کہ تلامذہ اور معلمین کے درمیان وہ رشتہ معدوم ہوچکاہے جو کبھی علم وعرفان کی شمعیںروشن کر نے میں ایک کلیدی کردار اداکر تا تھا    ؎
 نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں ،نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی ، نہ وہ خم ہے زُلف ِ ایاز میں  
   آج کل چشم فلک کیا دیکھتی ہے کہ آئے روز ٹیچر مجبوراً کلاسیں چھوڑ کے سڑکوں پر اُمڈ آکر اپنے معقول وجائز مطالبات منوانے کے لئے نعرہ بازیاں کر تے ہیں ، بھوک ہڑتالیں کر تے ہیں ، ڈنڈے کھا تے ہیں، گرفتاریاں دیتے ہیں ، تب جاکر ان کے مطالبات کو بادل نخواستہ سرکار مانتی ہے ۔ اس دوران سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم غریب اور نادار طلباء کی تعلیمی زندگی سے کیا کیا کھلواڑہوتا ہے،اس کی کسی کو فکر ہے نہ چٹی ۔ غریب گھرانوں کے چشم و چراغ ان معصوم بچوں اور بچیوں کو علم کے نور سے کیوں دور رکھا جارہاہے ؟ کیوںاندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہے ؟یہ سوالات نہ مطالبات منوانے والوں کے ضمیر کو کچوکے لگاتے ہیں اور نہ مطالبات ماننے والی سرکار کی ’’میں نہ مانوں ‘‘ سوچ میں کوئی جنبش لاتے ہیں ۔ آج تک بارہا دیکھا گیا کہ سرکاریں ٹیچروں کے جائز مطالبات کو جان بوجھ کر سرکاریں زیر التواء رکھتی ہیں اور پھر انہیں منوانے کے لئے اساتذہ میدان میں لنگر لنگوٹے کس کر اُتر آتے ہیں ،پھر جب غریب طلبہ و طالبات کا وقت پوری طرح ضائع ہوجائے تو از راہِ ترحم بڑی تاخیر کے بعد اساتذہ کی جا ئز مانگیں ماننے سے اتفاق کر کے سرکاریں ٹیچروں پر احسانات کی بارشیں کر نے کا اعلان کر تی ہیں ۔ گزشتہ دنوں یہی آزمودہ ڈرامہ سری نگر میں پھر ایک بار رچایا گیا۔ ایس ایس اے ٹیچروں نے اسکولوں میں درس وتدریس کے چراغ بجھاکر کئی دن بھوک ہڑتال کا اندھیراجاری رکھا ، سرکار بس تماشہ دیکھتی رہی ، حالانکہ سب فہمیدہ لوگوںنے غریب بچوں بچیوں کے مفاد میں حکومت کی فہمائشیں کیں کہ بھائی لوگو! ہڑتالی ٹیچروں کی فریاد سنو اور کوئی متفقہ حل نکال کر اپنی پنڈ چھڑاؤ لیکن اس مخلصانہ مشورے کی اَن سنی کی گئی ، پھر یکایک کئی دن بعد گورنر ستہ پال ملک صاحب کے مشیر جناب خورشید احمد گنائی سین پر آگئے اور نہ صرف ساتویں پے کمیشن کا اطلاق ایس اسی اے ٹیچروں پر کر نے کا اعلان کیا بلکہ ہڑتالی ٹیچروں کو خود جوس پلاکر ہڑتال ختم کروائی ۔ کتنا اچھا ہوتا اگر یہ قدم ابتداء میں ہی اٹھایا جاتا تاکہ غریب طلبا ء کا تعلیمی کیرئر خواہ مخواہ داؤ پر لگتا نہ وہ بلاوجہ قربانی کا بکرا بنتے۔ 
 ملازمین کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں سے انکار کی مجال نہیںلیکن ترقی یافتہ معاشروں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں کسی بھی حال میں کام چھوڑ ہڑتال کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ انہی دو اہم شعبوں کی فعالیت سے جدید زندگی کی رگوں میں خون دوڑتا ہے ۔ چین جیسے صنعتی طور ترقی یافتہ ملک میں احتجاج کا اظہارکام چھوڑ کر نہیں بلکہ اور ٹائم کر کے کیا جاتا ہے ۔ دنیا بھر میں اصولی طور کئی اہم شعبوں میں ہڑتالیں قطعی مجرمانہ اور ظالمانہ کاروائیاں شمار ہوتی ہیں ، ان میں صحت اور تعلیم سر فہرست ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر یا نیم طبی عملہ ہڑتال کریں تو مریضوں کو علاج و معالجہ کی سہولت نہ ملنے سے جو لوگ مرجائیں ،ان کے لئے کس کا گریباں پکڑ لیا جائے گا ؟ ایسے بیمار جو اس طرح کی ہڑتال کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں کیا وہ ’’زیرحراست قتل‘‘ کے زمرے میں بآسانی نہیں آتے ہیں ؟ یہی مثال تعلیم وتدریس کے شعبہ پر صادق آتی ہے ۔ یہاں طلبا ء وطالبات کا مستقبل داؤ پر لگانے کامطلب ہے اُنہیں ناکردہ گناہ کی سزادینا ۔
      اُستاد جسے ہندو دھرم میں گرو ، ہماری زباں میں داعی ،مصلح یاقوم کا معمار تصور کیا جاتا ہے ا ور جس کا شمار وقت کے ریشی منیوں ، رہبر و رہنماؤں میں ہوتا ہے، واقعی اُس کی امیدیں قلیل اورمقاصد جلیل ہوں تو اسے پیغمبرانہ پیشے کا حامل اور اولیائے کرام کا جانشین ہونے کا فخریہ مقام و مرتبہ مل سکتا ہے ، لیکن اب زیادہ تر استاد اس مقام ومنزلتت کے قطعی حقدار نہیں کہلاسکتے کیونکہ دوسرے سرکاری ملازمین کی دیکھا دیکھی میں یہ بھی بلند نگاہی سے نا آشنا و نابلد ہورہے ہیں ، بلکہ ان پر کار ِ نجار بدست گلکار کی مثل صادق آتی ہے۔ یہ بھی ایک کھلا ارز ہے کہ سیاست نے محکمہ  ٔ تعلیم کو کہیں کا نہ رکھ چھوڑا ہے ۔ چنانچہ ریاستی سرکاروں نے کئی بار کریش پروگراموں کے تحت بے روزگار نوجوانوں سے رشوتیں وصول کر کے محکمہ  ؐتعلیم میں اندھا دھند بھرتیاں کر وائیں کیوںکہ وہ خوب جانتی تھیں کہ صرف یہی محکمہ ہے جہاں بغیر کسی ذہنی ٹسٹ یا مسابقتی امتحان پاس کئے امیدواروں کو آرٹی ٹھونکا جا سکتاہے۔اس لئے اساتذہ کی صفوں میں ایک بڑی کھیپ ایسی بھی در آئی جسے اس پیشے کے تقدس کا خیال کبھی چھوکر گیا ہے نہ اُستادی سے پیار ہے بلکہ وہ محض نوکری سمجھ کر اس پیشے سے چپک گئے۔اس صورت حال نے بھی تعلیمی ماحول کی تنزلی کے گہرے کھڈ میں گرا دیا ہے کہ دیکھتے دیکھتے ہمارا تعلیمی نظام بے روح ہو کر رہاہے۔کاش یہ مخصوص ’’اُستاد‘‘ اپنے مقام اور تعلیم کی مقصدیت کااحساس وادارک کرتا تو وہ سمجھ پاتا کہ کسی سرکاری اسکولوں میں بہ حیثیت آرٹی تعینات ہوکر وہ اب قوم کے مستقبل کا مانت دار ہے ۔ میرے ایک ہیڈ ماسٹر دوست نے مجھے اپنی یہ بپتا سنائی ایک رہبر تعلیم ٹیچر سے یہ پوچھنے پر کہ وہ محض پندرہ منٹ کے بعد ہی کلاس چھوڑ کیوں کر باہر آجاتا ہے ؟اس کاجواب تھا : ’’ ماہانہ پندرہ سو روپیہ کی تنخواہ پہ اس سے زیادہ تعلیم نہیں دی جاسکتی ‘‘۔ یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے لیکن جب ہم اس جملے میں چھپی نفسیات کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے تو خود بخود سمجھ آئے گا کہ استادی کا پیشہ کس قدر گرایا جاچکا ہے ۔ اس ضمن میںاس قماش کے’’ استاد ‘‘ محترم کا ہی قصور نہیں بلکہ یہ ان خود غرض وبے ضمیر سیاستدانوں اور بیروکریٹوںکا گناہِ عظیم  بھی شامل حال ہے جنہوں نے تعلیمی نظام کو پست ترین سطح پر پہنچاکر دم لیا کہ سرکاری اسکول کا طالب علم اِدھر کا رہا اور نہ اُدھر کا ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی ہے کہ غریب و مفلس اور دن بھر خون پسینہ ایک کرنے والے کھانچہ فروش ، کاریگر، ریڑھی بان، مزدور کالاڈلا یا لاڈلی جو مفلسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی تعلیم وتربیت کے لئے نجی تعلیمی ادارے afford نہیں کر سکتے انہی غریبوں کی آنکھوں کی پتلیاں سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہونے کے ناطے یرغمال ہیں، جہاں ان کے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں کہ وہ اِن تعلیمی ٹکسالوں کے چونچلے برداشت کریں ، ان کی ہر جائز اور ناجائز مانگ پر آمنا و صدقنا کہیں اور اپنے دن کی مزدوری اور راتوں کے چین کو ان لوگوں کے حوالے کریں جو تعلیم کو بھی ایک دکان سمجھ کر چلا رہے ہیں۔ یہاں ظلم اور ناانصافی ہوگی اگر اُن قلیل التعدادآرٹی ٹیچروں کا ذکر نہ کیا جائے جو اپنے لئے غیرمناسب حالاتِ ملازمت پانے اور بہت کم مشاہرے پر ہونے کے باوجود اپنے ضمیر ، کمٹمنٹ اور شوق سے انسپائریشن پاکر غریب بچوں اور بچیوں کو پڑھانے کو عبادت سمجھتے ہیں ۔ ان کے لئے مرحبا وصد آفرین ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجی اداروں کے اساتذہ کم تعلیم یافتہ اور کم تنخواہ پانے کے باوجود اتنی لگن اور محنت سے طلبہ وطالبات کوکیوں بڑی توجہ اور دل جمعی کے ساتھ پڑھاتے ہیں ؟ شاید صرف اس لئے کہ وہ اسکول مالکان اور والدین کے سامنے خود کوجوابدہ پاتے ہیں ، جب کہ سرکاری اساتذہ کہیں بھی اپنے آپ کو جوابدہ نہیں پاتے۔ اس لئے لازم بنتاہے کہ سرکاری اسکولوں میںاحتساب وجوابدہی کا فول پروف سسٹم نافذ کیا جائے اور جو اور جہاں ا ساتذہ چھا کام کریں ،اُس پر انہیں شاباشی دی جائے اور جہاں وہ اپنی ڈیوٹی سے لیت ولعل کرتے دکھائی دیں وہاں اُن کی مناسب سرزنش کی جائے ۔ یاد رکھئے اگر ٹیچر کمیونٹی تعلیمی نظام کو سدھارناسنوارنا چاہے گی تو ہفتوں اور مہینوں میں تعلیم وتدریس کی کایا پلٹ سکتی ہے اور انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔اس کے لئے انہیں نہ صرف اپنے پیشے کی عظمت دل وجان سے محسو س کر کے اس بات پر شکر کرنا چاہیے کہ بچوں اور بچیوں کی پڑھائی لکھائی میں ان کا خلوص اوراُن کی دیانت ہر اعتبار سے ایک عبادت ہے جس کا اپنا اُخروی معاضہ بے حساب ہے اور ساتھ میں انہیں دنیا میں اپنے کام کاج کے بدلے اچھی خاصی رقم اُن کے بنک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے، یعنی دونوں جہانوں کی بھلائی ۔ تعلیم وتدریس کے بھٹکے ہوئے نظام کوو اپس زندگی سے مر بوط کر نے کے لئے لازمی ہے کہ حکومت جہاں محکمۂ تعلیم میں کام کرر ہے تمام ملازمین کے ایک ایک جائز مطالبے کو شور ہنگامے اور زندہ بادو مردہ باد کے نعرے سنے بغیر پہلی فرصت میں پوراکرے ،وہاں نظام تعلیم کو موثر اور کاآمد بنانے کے لئے اساتذہ کو ہر لحاظ سے جوابدہ بنائے اور تعلیم وتعلم کا چراغ ہمہ وقت روشن رکھنے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہ کرے ۔ نیز جو اساتذہ اپنی ڈیوٹی کے تقاضے پورا کرنے میں کو ئی کسر نہ چھوڑیں ،ان کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے لیکن جو اساتذہ یا غیر تدریسی عملہ درس وتدریس کا چراغ مدہم کرنے کا مجرم پایاجائے ،انہیں قرار واقعی سزا دے کر محکمہ ٔ تعلیم کی تطہیر میں کوئی پس وپیش نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں ٹیچر زفورم کو بھی اپنا دست تعاون پیش کر نا چاہیے ۔ ع 
شایدکہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات 
9419514537