اردو افسانہ….مزاج و منہاج:ایک مختصر جائزہ

نام کتاب: اردو افسانہ…..مزاج و منہاج
مرتب و ناشر:سلیم سالکؔ
سن اشاعت:۲۰۱۷ء
صفحات:۳۲۰
قیمت:۴۵۰روپے
کتاب ملنے کا پتہ: سلیم سالکؔ،مدیر شیرازہ اردو( 09419711330)
عہد حاضر میں اردو فکشن کی تنقید کے حوالے سے ریاست جموں و کشمیر میں جواہم نام میرے ذہن میں فی الفور ابھر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر ریاض توحیدی،ڈاکٹر الطاف انجم ،ڈاکٹر مشتاق حیدر اور محمد سلیم سالک خاص ہیں۔جدیدیت اوراردو کی فکشن تنقید سلیم سالکؔ کے پسندیدہ موضوعات رہے ہیں۔وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی مذکورہ موضوعات کے تئیں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ پیش کرتے آئے ہیں۔سلیم سالکؔ کئی ادبی انجمنوں کے ممبر ہیں جس میں جموں اینڈ کشمیر فکش رائٹرس گلڈ خاص طور قابلِ ذکر ہے جس کے وہ موجودہ سکریٹری بھی ہیں۔ادبی محفلوں کا انعقاد ان میں شریک ہوناان کا جنون ہی نہیں بلکہ بہترین مشغلہ ہے۔سلیم سالکؔ ریاست کی کلچرل اکادمی کے اردو رسالہ ماہنامہ ’’شیرازہ ‘‘کے کارگزار مدیربھی ہیں۔یہ رسالہ پچھلے کئی برسوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے ۔تاہم ان کی ادارت میںگذشتہ چند برسوں سے ’’شیرازہ‘‘ کے کئی اہم خصوصی شمارے شائع ہوئے ہیںجو جموں و کشمیر کے معاصر اردو ادب کی مجموعی صورتِ حال کا پتہ دیتے ہیں۔سلیم سالک کی اب تک چار کتابیں منظر عام پر آچکی ہیںجن میں’’فرید پربتی:شعر شعور اور شعریات‘‘،’’ادبی کالموں کا مجموعہ کتاب دریچہ ‘‘، ’’عمر مجید کے بہترین افسانے‘‘ اور’’جموں و کشمیر کے منتخب اردو افسانے‘‘شامل ہیں۔اگرچہ جموں و کشمیر میںمعتبر قلمکاروں اور تخلیق کاروں کی کوئی کمی نہیں لیکن اس بات کو تسلیم کرنے میں بھی کوئی قباحت یا ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہونی چاہیے کہ یہاں جنیوئن ناقدین کی بہت حد تک کمی محسوس کی جاتی رہی ہے۔اب نوجوان نسل میں کچھ چہرے سامنے آرہے ہیں جوکہ نقد و انتقاد کے اس خلا کو پُر کرنے میں لگے ہیں۔ ان میں سلیم سالکؔ بھی ایک اہم نام ہے۔ جو اگر چہ پچھلے کئی برسوں سے لکھ رہے ہیںلیکن ادبی تازگی ان میں آج بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔’’اردو افسانہ: مزاج و منہاج‘‘ اسی تازگی کا اہم نمونہ ہے۔
پیشِ نظر کتاب کی نوعیت ادبی مذاکرے کی ہے۔درحقیقت یہ مذاکرے ہندوپاک کے مقبول رسائل و جرائد میں مختلف اوقات میں شائع ہوئے ہیں۔ان میں سے اب زیادہ تر جرائد موقوف ہوچکے ہیں جن کے شمارے ایک توبہت کم تعداد میں موجود ہیں یا اگر کہیں یا کسی یونیورسٹی میں دستیاب ہیںبھی تو نہایت ہی ناگفتہ بہ حالت میں۔یہ حالت تاحال دردِ سر بنی ہوئی ہے ۔یہاں تک کہ یونی ورسٹیوں کی انتظامیہ اور اردو زبان سے وابستہ دیگر اہلِ کاران بھی اس کا تدارک کرنے کے بجائے غفلت شعاری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ رسائل و جرائد کے اوراقِ پارینہ میں پوشیدہ اردو زبان کے بیش قیمتی اثاثے کی اہمیت سے انکار کی گنجائش کبھی پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہمارے درمیان میں آج بھی کچھ ایسے اہلِ قلم حضرات ہیں جن کی نظریں نہ صرف اردو رسائل کے اوراقِ پارینہ پر ہیں بلکہ وہ اُن میں پہناں اہم ادبی ذخیرے کے شناور اور قدر شناس بھی نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کچھ ہل ِ علم اردو رسائل کے اہم خصوصی شماروں کوترتیب دے کر، ان کی کتابی صورت میں اشاعت کو ممکن بنا کر اردو داں طبقہ کے لئے ایک بہت بڑاکارِ خیرانجام دے رہے ہیں ۔رسائل کے بحرِ ذخار میں دلچسپ ،مفید مطلب ، کارآمد اور اخذِ مطلب مضامین و مواد کو چُن چُن کریکجا کرنا نہایت جانکاہی،تلاش و جستجواور صبر آزماکام ہوتا ہے۔اورپھر انہیںایک خاص موضوع کا جامہ پہناکر ترتیب و تہذیب کے ساتھ پیش کرنا اور بھی بڑی ہنرمندی کہلاتی ہے۔سلیم سالک کی زیر نظر کتاب اس کا اہم نمونہ کہا جا سکتا ہے۔جیسا کہ مذکورہوا ہے کہ رسائل کی بوسیدہ حالت اور پھر انتظامیہ کی عدم دلچسپی کے باعث ان کی حفاظت کی ضمانت دینا انتہائی مشکل ہے۔اس اعتبار سے رسائل و جرائد میں موجوداہم مواد کو کتابوں میں محفوظ کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت بن گئی ہے۔
’’اردو افسانہ: مزاج و منہاج‘‘ میں شامل کیے گئے مذاکرے یقیناً فاضل مرتب کے مطالعے میں رہے ہوں گے اور ان کی اہمیت و افادیت ہی اس کتاب کی اشاعت کا بنیادی محرک بنی ہوگی۔وگرنہ اب تک کئی رسائل میں اردو افسانہ سے متعلق مذاکرے شائع ہوئے ہیں۔اس کتاب کے لیے جن رسائل سے مذاکرے حاصل کیے گئے ہیں اس میںماہنامہ’نقوش‘ماہنامہ’کتاب‘ماہنامہ’تخلیق‘سہ ماہی ’پہچان‘سہ ماہی’ذہن جدید‘ماہنامہ’شب خوں‘ماہنامہ’شاعر‘ماہنامہ’اوراق‘سہ ماہی’روشنائی‘ شامل ہیں۔
 زیر نظر کتاب میں شامل اردو فکشن سے متعلق ان مذاکروںکو مختلف عنوانات کے تحت تیرہ ابواب میں منقسم کیا گیا ہے۔جو بالترتیب(۱)اردو افسانے میں روایت اور تجربے(۲)اردو افسانہ: کل،آج اور کل(۳)اردو افسانہ:منظر و پس منظر(۴)اردو افسانہ:خلط مبحث(۵)اردو افسانے کی صورت حال(۶)اردو افسانے میں انحراف کی ٹیڑھی لکیر(۷)نیااردوافسانہ اور علامت(۸)اردو افسانہ:۱۹۶۰ء کے بعد(۹)۱۹۷۰ء کے بعد نیا افسانہ(۱۰)اردو کہانی کا زوال(۱۱)عصری افسانہ:تنقیدی تناظر میں(۱۲)اردو افسانہ:بدلتا ہوا عالمی منظر نامہ(۱۳)اردو افسانے کے چند مسائل:اشاعتی نقطہ نظر سے ،پر مشتمل ہیں۔انہی عنوانات کے تحت یہ مذاکرے ادبی جرائد میں بھی شائع ہوئے تھے۔اس کتاب کی ابواب بندی میں مرتبِ کتاب نے نہایت سوجھ بوجھ سے کام لیا ہے اور اردو فکشن کے عصری مزاج،اس کے مختلف النوع مسائل ،مباحث اوراردوفکشن کے عالمی منظرنامہ کو مدِ نظر رکھ اسے بہت ہی سلیقہ مندی سے ترتیب دیا  ہے۔’’گفتگو بند نہ ہو‘‘ عنوان کے تحت ابتدا میں مرتبِ کتاب نے مذاکرے کی اہمیت کو بہت ہی جامع انداز میںافلاطون اور اس کے ہونہار شاگرد ارسطو کے واقعہ اور دیگر مثالوں کے ساتھ سمجھانے کی کارآمد سعی کی ہے۔دراصل فاضل مرتب نے ’گفتگو بند نہ ہو‘کے عنوان کا انتخاب اسی لیے کیا ہے کہ دراصل کوئی بھی نتیجہ حتمی یا آخری نہیں ہو سکتا کیونکہ ادب میں ردوقبول کی نوعیت ہر وقت ممکن ہے۔اگرچہ کسی دور میں کوئی فارمولہ چل بھی پڑتا ہے تو اس کی عمر کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔انھوں نے صنف افسانہ کے مختلف ادوار میں بدلتے رجحانات،تحریکات،نظریات،موضوعات،تجربوں کو بھی مختصر انداز میں واضح کردیا ہے۔
اس کتاب کے پہلے باب میں اردو افسانے کا آغاز و ارتقاء،اردو افسانے کا پسِ منظر،داستان اور افسانے میں فرق،ابتدائی افسانوں کے موضوعات،اردو کے چند بہترین افسانے،معتبر افسانہ نگاروں کے فن پر تذکرہ،صنف افسانہ کے اجزائے ترکیبی کی خصوصیت،اردو افسانہ نگاروں پر مغربی اثرات کے علاوہ اردو افسانہ کے اسلوب،ہئیت ،تکنیک اور تجربوںوغیرہ پر سیر حاصل مباحث ہوئے ہیں۔جس میںمنٹو،احمد ندیم قاسمی،وقار عظیم،عبادت بریلوی،ہاجرہ مسرور وغیرہ شرکاء شامل ہیں۔دوسرے باب میں سات سوالات قائم کیے گئے ہیں اور ان سوالات کی روشنی میں آپ اس باب کی اہمیت سے روشناس ہوسکتے ہیں پہلا سوال’کیا آپ عصری اُردو افسانے کی رفتارِ ترقی سے مطمئن ہیں؟‘دوسرا سوال’مختصر افسانے میں آپ کن عناصر و اجزا کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں؟ آپ افسانویت سے کیا مراد لیتے ہیں؟کیا آپ کی رائے میں افسانے میں افسانویت ضروری ہے؟‘تیسرا سوال’عصر حاضر کے ایسے افسانہ نگاروں میں، جنھیں تقسیم ہند سے قبل شہرت حاصل ہوچکی تھی،آپ ذاتی طور پر کسے ترجیح دیتے ہیں اور کیوں؟وغیرہ اس باب میں جن شرکاء کی گفتگو شامل ہے ان میں محمد حسن،وزیر آغا،جوگندر پال،سہیل عظیم آبادی،رتن سنگھ،کلام حیدری،بلراج کومل وغیرہ خاص ہیں۔تیسرے باب میں جن اہم امور پر بحث ومباحثہ ہوا ہے ان میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ افسانہ نگاروں کی معاشرتی حقیقت پسندی کو اجاگر کرنے کے باوجود ان پراعتراضات اور الزامات کی وجوہات،ترقی پسند افسانہ نگاروں کے افسانوی فن کا جائزہ،افسانے کے بدلتے رجحانات،افسانوں میں موضوعات کے تنوع کا مسئلہ،ترقی پسندوں کو انٹی مارکسٹ ہونے سے تعبیر کرنے کے اسباب،روایتی اور علامتی افسانے اور ان کو برتنے کا فنکارانہ استعمال،افسانوں کی شناخت کا مسئلہ وغیرہ موضوعِ گفتگو رہے ہیں۔اس میں جن لوگوں کی شمولیت رہی ان کے نام اس طرح ہیں:احمد ندیم قاسمی،اشفاق احمد،آغا سہیل،جیلانی کامران،انور سدید،انور سجاد،اظہر جاوید وغیرہ ۔چوتھے باب میںافسانے سے متعلق جو باتیں بحث طلب رہیں ان میں ۱۹۶۰ء کے بعد نئے افسانے کی اصطلاح،نئے افسانے کے تجربات،ابتدائی افسانوں کے ردِ عمل میں نئے افسانہ کی تخلیق وغیرہ گفتگو اہمیت کی حامل ہیں۔اس مذاکرے کے شرکاء میں انتظار حسین،مظفر علی سید،سہیل احمد خان وغیرہ شامل رہے ہیں۔ پانچویں باب میںاردو افسانے کی صورت حال سے متعلق مذاکرہ ہوا ہے جس میں بلراج مینرا،دیویندراسر،ابرار رحمانی،زبیر رضوی،مہدی جعفر،محمد کاظم نے شرکت کی ہے۔ان میں کچھ نے افسانے کی موجودہ صورتِ حال پر بے حدعمدہ روشنی ڈالی ہے۔چھٹے باب میں جدید افسانہ کسے کہیں گے ،کے تعلق سے مذاکرے کی شروعات کی گئی ہے۔اس مذاکرے میں اس حوالے سے سوالات قائم کیے گئے ہیں کہ ہمارا افسانہ اب جدید ہے یا پہلے سے زیادہ جدید معلوم ہوتا ہے۔دوسری بات انحراف کی ہے کہ کیا ہمارے افسانے میں یہ اپنی مکمل شکل میں موجودہے اورانحراف کس حد تک ممکن ہے؟اس بحث کے شرکاء میں شمس الرحمن فاروقی،محبوب الرحمن فاروقی،کلام حیدری،شہریار،خلیل الرحمن اعظمی،زبیر رضوی جیسی نامی گرامی شخصیات نے حصہ لیا ہے۔اس کتاب کے دیگر ابواب میں بھی کئی اہم باتوں سے قارئین مستفید ہو سکتے ہیں۔ان مذاکروںمیں جن ادیبوں اور قلم کاروں نے حصہ لیا ہے ان میںبیشتر اردو زبان و ادب کے مشاہیر میں شمار کئے جاتے ہیں۔
فکشن سے متعلق ان ادبی مذاکروں میںتقریباًاردو کی ہرصنف سے تعلق رکھنے والے معروف قلمکاروںنے حصّہ لیا ہے جس سے اس کی اہمیت دوبالا ہوجاتی ہے مزیدایک توموضوعات کی وضاحت و صراحت ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ قاری اردو افسانہ کے متنوع گوشوں سے بہ آسانی آشکارا ہوجاتا ہے۔ان ادبی مذاکروں میں ہندوستانی ادیبوں کے علاوہ بیرونی ممالک کے ادباء نے بھی سرگرم حصّہ لیا ہے ۔جبکہ آخری باب میں فکشن کا ذوق رکھنے والے قاری،افسانہ نگار اور ناشر کی بھی گفتگو کو مذکورہ کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔مرتبِ کتاب نے ہر باب کے آخر میں مذاکرے کی اشاعت کی تاریخ اور رسالہ کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں مذکورہ مذاکرے شائع ہوئے ہیںجو کہ دیانت دارانہ عمل کا ایک قابلِ فخر ثبوت کہا جا سکتا ہے۔
اس طرح شرکاء کی گفتگو سے فکشن کی مختلف النوع جہات نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ اردو افسانہ کی ابتدا سے لے کر عصر حاضر تک مختلف ادوار میں کیا صورت حال تھی اس کی تعبیر بھی ہوجاتی ہے۔اردو افسانہ کے مختلف عناوین کے متعلق ان مذاکروں میں شامل شرکاء کے نقطہ نظر اور آراء سے بھی آگہی حاصل ہوتی ہے جن سے بہرحال اختلاف اور اتفاق کی صورت حال بھی پیدا ہوتی ہے۔اردو افسانہ کا مزاج،اس کی معنویت،النوع قسم کی جہات،اس کے مسائل،افسانہ کی تکنیکوں اور تجربوں سے فیضیابی ،اعتراض و اعتراف کا اندازہ،مشاہیر کے نقطۂ نظر سے شناسا ہونے،گذشتہ ستّر برسوں میں صنف افسانہ پر تذکرہ کرنے کی نوبت کیوں پیش آئی وغیرہ کی جانکاری فراہم ہوتی ہے۔الغرض یہ کتاب صنف افسانہ کی تفہیم کے علاوہ محققین اور فکشن سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ممدو و معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ کتاب کی جلد بہت مضبوط ہے اور سرورق بھی کافی دیدۂ زیب ہے۔کتاب کی ضخامت ،اچھی کوالٹی کے پیپر کا استعمال،اور مواد کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے معقول قیمت رکھی گئی ہے۔
رابطہ؛دہلی(7006738304،[email protected]