اردو ادب کا شہسوار

مرزا اسدا للہ خان غالب کو اگر اردو شاعری کا شہنشاہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ۔کیونکہ اردو زبان وادب میں غالبؔ کی مقبولیت میںدن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہیں۔خصوصََانئی نسل نے غالبؔ کی خاطرخواہ پذیرائی کی۔غالبؔ نے اپنے کلام کے ذریعے نہ صرف ماضی اورحال کے بارے میں بتایا بلکہ مستقبل کی فکر کرنا بھی سکھایا۔ان کے کلام کی منعویت ہر عہد اور نسل کے لیے مسلم رہی گی۔عصر حاصر میں جہاں نئی نسل سائنس اورتکنالوجی کے کئی طریقوں سے منتشر،تتربتر اور حیرت زدہ ہوکر ذہنی دباو کا شکار ہوگئی وہی کلام غالبؔ عہدغدر سے لیکر دورحاصر تک کے انتشار انگیز حالات میں بھی لطافت ،مسروریت اور شادمانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔غالبؔ کو اپنے کلام کی داد تحسین اپنی ہی زندگی میں ملی جس کی خاص وجہ یہ تھی کہ غالب ؔنے اپنے شاعری میں نئے نئے تراکیب وضع کیں،نیالب ولہجہ اختیار کیااورنئی بات کو نئے اسلوب سے بیان کرتا تھا۔غالبؔ کی شاعری کا جب ہم مطالعہ کرتے ہے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ غالب نے اپنے کلام میں نہ صرف بنی نوع انسان کو موضوع سخن بنایا بلکہ اس زمانے کے حالات وواقعات ،غدر اور فسادات کا اس انداز سے بیان کیا کہ پورا منظر آنکھوں کے سامنے عیاں ہوتا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس وقت کے سماجی،معاشرتی اورتہذبی منظرنامہ کوبھی پیش کیاہے۔غالبؔ کو انتقال کئے ہوئے ایک صدی سے زیادہ وقت بیت گیا پھر بھی پورے برصغیر میں ان کے کلام کا چرچا آج بھی ہورہا ہے۔ اکیسو یں صدی میں بھی غالبؔ کا کلام اپنی حسن بیانی،ظرافت ،شوخی ء اشعار ،تہہ داری ِ، پیرا یہء ا ظہاراور انداز بیان وغیرہ کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پے راج کر رہی ہے۔غالب ؔکے غزلیں دورحاصر کے کئی فلموں میں گائے جارہے ہیں۔ہم ان کے بعض اشعار روزمرہ زندگی  کے مختلف موقعوں پر بھی استعمال کرتے ہیںمثلاََ:
آہ  کو  چاہیے  اک  عمر  اثر   ہونے  تک
کون جیتاہے تری  زلف کے  سر  ہونے  تک
 
ہم نے مانا کہ  تغافل  نہ  کرو  گے  لیکن
خاک  ہوجائیں  گے ہم  تم کو خبر ہوتے تک  
 
ہم  کو    ا ن  سے    و فا  کی ہے ا مید 
جو  نہیں   جانتے   وفا   کیا     ہے
یہ وہ اشعار ہیں جن سے عام انسان کو لگتا ہے کہ شایدغالبؔ نے میرے دل کی بات کہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پورے دنیا میں غالب کے شعری وادبی کارناموں کی شہرت وعظمت بڑھتی جارہی ہے۔ کلیات فارسی کے دیبا چے میں غالب نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ:
’’یا رب میرے بعد ایک ایسا شخص پیدا کرجو یہ جان سکے کہ میری شاعری کا ایوان کس قدار بلندہے اور میری کمندِفکر کی رسائی کہاںتک ہے۔‘‘
(بحوالہ غالب اورعہد غالب۔ص ۷۴)
غالبؔ کی یہ آرزو الطاف حسین حالیؔ نے ’’یاد گار غالب‘‘لکھ کر پوری کی ۔یہ غالبؔ پر لکھی گئی پہلی مفصل کتاب ہے۔غالبؔ کی عظمت اور شاعرانہ انفرادیت کے بارے میںحالیؔ نے سب سے پہلے لکھا اوراس طرح مدلل،متوازن ، موثراور دلکش انداز میں لکھاکہ غالبیات کے سرمائے میں یہ کتاب اولیت کا درجہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک گراں قدر اضافہ بھی ہے۔پروفیسر رشیداحمد صدیقی فرماتے ہیں: 
’’مغلوں نے ہندوستان کو تین چیزیںدیں۔تاج محل ،اردو اور غالبؔ‘‘
(ایضاً)
مغلیہ سلطنت کا آخری بادشاہ’’ بہادر شاہ ظفرؔ‘‘ نے غالب ؔکو اپنا استاد بنا دیا اور غالبؔ کو کئی انعامات سے بھی نوازا۔انھیں چھے پارچے ،تین رقم جواہرکا خلعت اور نجم الدولہ ودبیر الملک نظام جنگ کے خطابات سے سر فراز کیا گیا۔غالبؔ اپنی شخصیت میں ایسی جاذبیت رکھتا تھا کہ غالب کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے نقادوں نے اسے تاج محل جیسی پر شکوہ عمارت اور اردو جیسی شیریں وپرُتاثیرزبان کی صف میں کھڑاکر کے اسے مغلیہ سلطنت کا عظیم تحفہ قرار دیاہے۔ 
غالبؔ کی شاعری اور نثر نگاری دونوں ان کے عہد آفرین کارنامہ ہے۔خواجہ الطاف حسین حالیؔ نے غالبؔ کی ’’شاعری اور انشاپردازی ‘‘کو دارلخلافہ کے آخری دور کا ایک ’’مہتم بالشان واقعہ ‘‘قراردیا ہے ۔اصلیت تو یہ ہے کہ غالبؔ صرف دارالخلافہ کا نہیں بلکہ اردو شعروادب کے صدہاسال کی تاریخ کا مہتم بالشان ہے۔انہوں نے نے شعر وادب کی وادی میں قدم رکھتے ہی اپنا لوہا منوایا۔ان کے کلام نے اردوشاعری کی دنیا میں انقلاب پیدا کیا۔پروفیسر ال احمد سرور ان کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’غالب سے پہلے اردو شاعری دل والوں کی دنیا تھی غالب نے اسے ذہن دیا۔‘‘
  (تاریخ ادب اردو، نورالحسن نقوی،ص۔۱۲۰)
غالب کو شہرت دوام عطا کرانے میں ’’دیوان غالب‘‘کا بڑا حصہ ہے ۔غالب کے زمانے میں دیوان غالب کے بعض اشعار اتنے مقبول ہوئے کہ ان اشعار کی آواز گلی کوچوں میں سنائی دیتی تھی ۔عبدالرحمن بجنوری کے مطابق:
  ’’دیوان غالب‘‘کا ہر مصرعہ ’تارباب‘ہوتاہے‘‘
(عبدالرحمن بجنوری،محاسن کلام غالب ،ص ۔۷۸)
دور حاضر میںجن مشکلات سے نئی نسل دوچار ہیں اس کی بھر پور عکاسی غالبؔ کے کلام میںملتی ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا کلام آج کے زمانے کا نہ ہوکر بھی نئی نسل کے فکر وخیال ،جذبات،احساسات اور ذہنی رویہ کی مکمل کرتاہے۔جو اس کے جذبات واحساسات کی تسکین کا ذریعہ بھی ہے اور ان کو برانگخیت کر نے کا وسیلہ بھی ہے۔کلام غالب میں جابجا نئی نسل کے دردو کرب بھی بہترین عکاسی ملتی ہے :
کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
پنبہ نورصبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا
کام میں میرے ہے وہ فتنہ کہ برپانہ ہوا 
’’دیوان غالب‘‘کے بہت سارے اشعار میں غم کی رجائیت کو بہت ہی معنی خیز انداز میں بیان کیا گیا ۔جس میں مایوسی ،خستگی اور شکستگی کے عالم میں بھی امیدوں کی روشنی نظر آتی ہے اور آفات ومصائب ،پریشانیوں اور مصیبتوں کو برداشت کرانے کی صلاحت عطا کرتے ہیں:
غم نہیں ہوتا ہے آزادوںکو بیش ازیک نفس 
برق سے کرتے ہیں روشن شمع ماتم خانہ ہم 
رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آسان ہوگئیں 
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
غالبؔ کو زندگی میں خود کئی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ۔شعر وادب کے میدان میں بھی مخالفتیں برداشت کیں لیکن غالب ؔنے ہمت نہیں ہاری اور بڑی حوصلہ مندی کے ساتھ ان سب پریشانیوں کا مقابلہ کیا۔ان کی خوش طبعی اورمزاج کی شوخی نے انھیں ناموافق حالات اور زندگی کے پیچ وخم سے گزرنے کا سلیقہ عطا کیا۔’’دیوان غالب ‘‘کے کئی اشعار میں کئی جگہوں پر غم واندوہ کی کیفیات اور احساس ذلت وندامت کو ہنستے ہنستے ٹال دیتے ہیںغالبؔ جیسے:
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
بارے آشنا نکلاان کا پاسبان اپنا
گدا سمجھ  کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے
اٹھا اورٹھ کے قدم میں نے پاسبان کے لیے
کہاں مے خانے کا دروازہ غالبؔاور کہاں واعظ 
پراتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
غالبؔ کی کامیابی کا راز ان کا اسلوب ہے جو پڑھنے والوں کو اپنے گرفت میں لیتا ہے۔الفاظ کا کدوکاش ،مصرعوں کی ترتیب ،کلام کا تعلق زندگی اور زمانے سے اور ساتھ ساتھ انسانی جذبات واحساسات کا اپنے کلام میں رسائی اور نئی نسل کے لیے کارآمد باتیں یہ سب چیزیں مل کر ان کی شاعری کو وزن اور وقار کے ساتھ مقبولیت اور محبوبیت بھی عطا کرتی ہے۔
شوخی و ظرافت بھی غالب کے کلام کی اہم خصوصیت ہے ۔غالبؔ ہر وقت اپنے دلچسپ باتوں سے دوسروں کو خوش رکھنا چاہتے تھے۔ان کی سوانح حیات اور ان کے دیوان کا جب مطالعہ کرتے ہیںتوان کی پرلطیف باتیں ،دلچسپ لطیفے،چٹکلے قدم قدم پر آپ کو اپنی طرف متوجہ کریں گے۔ غالب نے ہر کسی پر طنزکے تیر برسائے جس میں زاہد ، جنت،دوزخ،فرشتے اور محبوب کی کوئی تخصیص نہیں ۔یہاں تک کہ خود اپنا مذاق اڑایا ۔مثلاََ
زاہد نہ تم پیو ،نہ کسی کو پلا سکو
کیا بات ہے تمھارے شراب طہورکی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
 وہ لحد پہ بوئے مے تھی کی نہ آسکے فرشتے   عذاب میں پھنساتھا جو نہ بادہ خوار ہوتا ۔غالبؔ نے غزل کے علاوہ قصیدے،رباعی ،قطعات،مثنوی اور مرثیے پر بھی طبع آزمائی کی۔لیکن بینادی طور پر غالب غزل کے شاعر تھے۔بقول رشیداحمد صدیقی ’’غزل اگر اردو شاعری کی آبروہے تو غالب اردو غزل کی آبرو ہے‘‘غالبؔ نے غزل کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ غزل کے دامن کو وسعت دی او ر غزل کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ غالبؔ کی غزل گوئی اردو شاعری کی ایک روایت بن گئی۔ایک منفرد آواز جس کی ایک الگ پہچان ہے۔غالب کی شاعری آنے والے دور میں بشارت اورنوید کی حثییت رکھتی ہے ۔ان کے کلام کی مقبولیت کسی دور میں کم نہیں ہوگئی اور یقین ہے کہ ان کے پرستاروں کا دائرہ اور بڑھے گا۔
اردو ادب میں غالب کی اردو شاعری اور خطوط نگاری دونوں ان کی عہد آفرین کارنامے ہیں۔ان کے خطوط اردو نثر کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے اردو نثر کو وسعت د ی اور بے تکلفانہ ہر قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ خطوطِ غالب اردو ادب میں سادگی ،بے ساختگی اوربے تکلفی کے اعلیٰ نمونے سمجھے جاتے ہیں۔ان کے خطوط سے اردو ادب میں جدید نثرکی سنگ بنیادپڑی۔بقول خواجہ احمد فاروقی:
’’خاکم بدہن اگر دیوان غالب نہ ہوتا اورصرف خطوط غالب ہوتے توبھی غالب ہی رہتے‘‘
( تفہیم ادب ،شائستہ نوشین،ص ۲۲۳)      
خطوط غا لبؔ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو غالب ایک ایسے سادگی پسند نثر نگار کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں جسے پر تصنع اور پر تکلف عبارت پسند نہیں تھی نہ ان کو طویل فقرے خط میں لانے پسند تھے۔یہ بات صاف ظاہر ہوتی کہ غالبؔ نے سیدھے سادے الفاظ اور عام بول چال کی زبان سے چھوٹے بڑے واقعات کو بڑے معنی خیز اور خوبصورت انداز سے بیان کیا۔غالب اپنے دوستوں کو خط میں لکھتے تھے:
’’چاہتا ہوں کہ کم سے کم لفظوں میں اپنی بات کہہ دوں اور تحریر کو تقریر کا آئینہ بنادوں‘‘
(خط بنام مرزا علی بخش خان)
  ’’مرزا صاحب میں نے وہ انداز تحریر ایجاد کیاہے کہ مراسلے کو مکالمہ بنادیاہے۔ہزار کوس سے بہ زبان قلم باتیں کیا کرو۔ہجر میں وصال کے مزے کیاکرو۔‘‘
(مکتوب بنام حاتم علی مہر)
 غالب ؔکے خطوط کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی شوخی تحریر ہے۔شوخی تحریر کی وجہ سے غالب بے جان بات کو بھی جاندار بنا دیتے تھے ۔شوخی تحریر کے بارے حالی نے ’’یاد گار غالب‘‘میں لکھا ہے:
 ’’وہ چیز جس نے ان کے مکاتیب کو ناول اور ڈرامے سے زیادہ دلچسپ بنایا ہے وہ شوخی تحریرہے ۔مرزا کے کی طبیعت میں شوخی ایسی بھری ہوئی تھی جیسے ستارے کے تارے میں سر بھرتے ہوتے ہیں،اور قوت متخیلہ جو شاعری اور ظرافت کی خلاق ہے اس کو مرزا کے دماغ کے ساتھ وہی نسبت تھی جو قوت پروازکو طائر کے ساتھ‘‘
  (یادگارغالب ص ۱۷۹) 
غالب ؔکے خطوط بڑی اہمت کے حامل ہیں۔ یہان تک کہاجاتا ہے اگر انہوں نے شاعری نہ کی ہوتی صرف اردو خطوط ہی لکھے ہوتے تب بھی اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نا م سنہری حروف سے لکھا جاتا اور اردو میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ۔غالب کے خطوط کے کئی مجموعے شا ئع ہو چکے ہیںجن میں ’’مہر غالب،انتخاب غالب،عود ہندی،اردوے معلی،مکاتیب غالب،ادبی خطوط غالب ‘‘وغیرہ ان سب میں زیادہ مقبولیت اور شہرت ’’اردوے معلی‘‘اور’’عودہندی‘‘کو حاصل ہوئی  اس کے ابھی تک متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔
 ابتدا میں غالبؔ اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں کو فارسی میں خط لکھتے تھے۔لیکن جب ان کو مغلیہ خاندان کی تاریخ لکھنے کا کام بہادر شاہ طفر نے دیا تو عدیم الفرصتی اور بڑھا پے کی وجہ سے فارسی کے بجائے اردو میں خط لکھنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں حالی لکھتے ہیں:
 ’’وہ (غالب)فارسی تحریریں بڑی محنت اور کاوش سے لکھا کرتے تھے۔اب  اس کاوش کے ساتھ خطوط فارسی پر محنت کرنا دشوارتھا۔اس لیے اردو میں خط وکتابت شروع کر دی‘‘
  (یاد گارغالب، الطاف حسین حالی۔ص ۱۹۷) 
غالب نے اپنے خطوط میں اپنے زمانے کی تاریخ قلم بند کی۔غدر۱۸۵۷ کے حالات کا پورا نقشہ غالب کے خطوط میں نظر آتاہے یعنی جو واقعات ہمیںتاریخ( History)میں نظر نہیں آتے اس کی پوری تفصیل غالب کے خطوط میں ملتی ہے۔غدر سے پہلے اور غدر کے بعد دہلی کی حالت کی جو تفصیل انہوں نے لکھی ہے وہ ان کے خطوط کے سوا کہیں نہیں ملتی ہیں دہلی میں قتل غارت اور جان ومال کا لوٹ کھسوٹ کی عمدہ تصویر ان کے خطوط میں نظر آتی ہیں ۔اس ہنگا مے سے غالب کی زندگی پر جو اثر پڑا اس کا اندازہ ان خظوط سے کیا جا سکتا ہے۔
 
ریسرچ اسکالر پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ
9419068866,7298445556