اردوکے فروغ کیلئے ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ضروری:ڈاکٹر عقیل

نئی دہلی//سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی تیزرفتار ترقیاتی دور میں قلمکاروں کے سامنے بے پناہ امکانات ہیں اور اب ہمارے تخلیق کار جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکتے ہیں اور شہرت حاصل کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تحت ’الیکٹرانک و سوشل میڈیا کے دور میں اردو مصنّفین کی ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے منعقدہ دوروزہ عالمی ویبینارکے دوسرے دن افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر عقیل احمد نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب قاری یا سامع کی قلت کا مسئلہ نہیں رہا،نہ تخلیقات کی اشاعت میں مشکلات درپیش ہیں،آپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال کرکے اپنے خیالات و افکار منٹوں میں ساری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔ اب اردو کے فروغ کیلئے اور خود اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے کماحقہ اظہار کیلئے بھی جدید ٹکنالوجی،سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ سے آگاہی ضروری ہے۔ ویبینار کے مقالہ نگاروں نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کی حیرت ناک ترقی کے دور میں اردو زبان و ادب اور اردو تہذیب کے تحفظ کیلئے ہمیں منظم کوشش کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سے جہاں لوگوں تک رسائی آسان ہوگئی ہے اور اس کے بہت سے فائدے ہیں ،وہیں اس کی وجہ سے بہت سی منفی چیزیں بھی سامنے آرہی ہیں اور ہمیں ان منفی چیزوں سے بچتے ہوئے اپنی تخلیقات لوگوں تک پہنچانے کی تدبیرکرنی ہوگی۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کے تیز پھیلاؤ کے عہد میں زبان ومعلومات کی صحت و استناد پر توجہ دینا بھی ضروری ہے ورنہ معمولی کوتاہی سے ہماری زبان کو غیر معمولی خساروں سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔