اردوغان کی انتخابی فتح!

 ایک   ایسے زمانے میں جب ایک مسلم ملک اس امرپرمصرہوکہ وہ یمن کے باغی حوثیوں کے ہاتھوں بیلسٹک میزائل تھمائے گا تاکہ وہ حجازکی سرزمین کوالعیاذ باللہ تہ وبالاکردیں،جب متحدہ امارات کے سمندروں کے پانیوں میں قائم انڈرواٹر ہوٹلوں میں سعودی ولی عہداسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہوکے ساتھ بیٹھ کر اپنے نظریاتی مخالفین کوکچلنے کے لئے خاکہ تیارکررہے ہوں،جب جوہری قوت کی حامل پاکستانی قیادت ایٹم بم رکھنے کے باوجود بزدلی کے دلدل کی شکارہو اورجب سیال دولت کی بہتات میں عیاشیاں کرنے والے عرب حکمران مسلم اُمہ کودرپیش سنگین مسائل سے مکمل طورپرغافل اورلاپرواہ بیٹھے ہوں، توایسے میں امہ کاایک ایسا غم خوار،شیردل اور حقیقت بین قائدجس کانام نامی جناب رجب طیب اروغان ہے ،دنیابھرکے ستائے ہوئے مظلوم مسلمانوں کے حق میںآوازاٹھاتاہے اورساتھ ساتھ ایک صدی تک لادینیت کی قعرمذلت میں لت پت پڑے ترکی کو تمام خطرات انگیز کر تے ہوئے مسلمان ترکی بنانے کی جانب بتدریج ایک مبارک سفرطے کررہاہے، وہ کتنے افضل ،بیش بہااورقائدبے بدل ہیں، یہ بات محتاج ِوضاحت نہیں۔بلاشبہ ترکی کے صدارتی انتخابات میںجناب اردوغان کی فتح سے جہاںمسلم دشمن طاقتوں کی نیند یںحرام ہو چکی ہیں ،وہی المیہ یہ ہے کہ بعض مسلمان ممالک کے حکمران بھی اس پیش رفت پر افسردہ خاطر اور ذہنی طورپریشان وپراگندہ ہیں،کیونکہ کچھ مخصوص فکرکے حامل حکمران جناب اردغان کی ذات سے اپنے قلب و جگر میں حسد و کینہ ہی پال نہیں رہے ہیں بلکہ ان کو خدشہ لگاہے کہیں ترکی عصر حاضر میں ایک ترقی پسند ماڈل مسلم سٹیٹ کے روپ میں اُبھر کران کے تخت وتاج ہوا میں تحلیل کر کے نہ چھوڑے۔ ان لوگوں پر بوجوہ قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی منشاء کے خلاف جناب طیب اردوغان اپنی قوم میں میدان انتخاب مار کر فتح یاب ہوئے اوران کی قطعی کامیابی اور جیت دراصل صداقت و شرافت ، شجاعت اور انسانیت اور خدمت و صالحیت کی جیت مانی جاتی ہے۔
اردوغان کی بے مثال کامیابی پرماتم کناںبعض مسلم ممالک کے یہ حکمران محض تعصب کے باعث وہ اس امرسے بالکل آنکھیں چرارہے ہیں کہ جناب اردوغان اس لادینیت اور تسفل زدہ ترکی کوبتدریج اسلامی راہ پرڈالنے کی جستجوکررہے ہیںجہاں اذان وعبادات پرپابندی عائدتھی ،عربی رسم الخط جرم تھااوراسکرٹ پہننے بغیرمسلمان بچیوں کاترکی کے کالجزاوریونیورسٹیزمیں داخلہ ممنوع تھا۔اللہ کاکرم ہے اب وہ آئے اورپوری طرح چھاگئے اللہ نے چاہا 2023تک وہ نہ صرف ترکی کے صدارت کریں گے بلکہ دشمنان دین کے دست تظلم کوروکنے کی بھرپورسعی کریں گے ۔بلاشبہ شیرترکی ،کی مثبت سیاسی صورت حال نے کشمیرسے فلسطین تک مظلوموں میںامیدکی جوت جگائی ہے اور وہ یہ باور کر نے لگے ہیںکہ اگر حالات نے اجازت دی تو مسلمانانِ عالم کے لئے محبت ہمدردی میں ڈوبے صدر اردغان مظلوم مسلم قوموں پر اغیار کے ہاتھوںڈھائے جانے والے آلام ومصائب کے خلاف زوردار صدا ئے احتجاج بلندکریں گے اور عین ممکن ہے اس کا یہ اثر ہوگا کہ انہیں بشری حقوق کی بے دردانہ خلاف ورزیوں سے کاملاً نجات مل سکے۔
24جون اتوارکوترکی کے صدارتی الیکشن میں رجب طیب اردوغان صدارتی انتخابات جیت گئے ہیں۔تقریباََ چھ کروڑ ترک باشندے ووٹ دینے کے اہل تھے اور صدر کے عہدے کے لیے چھ امیدوار میدان میں تھے۔جن میں سے جناب طیب اردوغان کو 53 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ ان کے قریبی حریف محرم انسے کو 31فیصد ووٹ ملے ہیں۔ الیکشن میں جناب اردوغان کی حتمی نتائج کا اعلان جمعہ کو ہوجائے گا۔صدارتی الیکشن میں جناب اردوغان چاہتے تھے کہ انہیں 50فیصد سے زیادہ ووٹ ملیں تاکہ ووٹنگ کے دوسرے رئوانڈ میں نہ جاناپڑے۔ترکی کے موجودہ الیکشن قوانین کے مطابق اگر امیدواروں میں کسی  ایک امیدوارکو 50فیصد ووٹ نہیں مل جاتے تو پھر8 جولائی کو دوسرے دور کا انتخاب اس مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے دو امیدواروں کے درمیان ہونا تھا۔لیکن طیب اردوغان کی واضح فتح کے بعداب یہ مرحلہ درپیش نہیں ہوگا۔جناب اردوغان کی فتح کے بعد اب ترکی کا نیا آئین نافذ ہونے جا رہا ہے جس کے تحت صدر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور ترکی میں اسلامائزیشن کے بتدریج عمل کے لئے لئے یہ نیاآئین ممدومددگارثابت ہوگا۔صدارتی انتخابات کے ساتھ ساتھ ترکی میں پارلیمانی انتخابات بھی ہوئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق96 فیصد ووٹوں میں طیب اردوغان کی اے کے پارٹی سب سے آگے ہے، جبکہ حزبِ اختلاف کی پارٹی سی پی ایچ کے پاس 23ووٹ ہیں۔ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ووٹنگ کا تناسب 87فیصد رہا ہے۔خیال رہے کہ ترکی میں میں صدارتی انتخابات نومبر2019میں ہونے تھے لیکن صدر اردوغان نے انہیں قبل از وقت کرانے کا فیصلہ کیا۔جناب اردوغان اور ان کے حریف انسے محرم دونوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بڑی ریلیاں کیں اور دونوں نے ایک دوسرے کو شکست دینے کے واضح دعوے کئے ۔جناب اردوغان نے اپنے حامیوں سے کہاتھاکہ وہ ان انتخابات میں ترکی میں اسلام مخالفین کوعثمانی تھپڑ لگائیں ۔ترکی کے عوام نے ان کی نصیحت پرعمل کرتے ہوئے عملی طورپرترکی کے اسلام مخالفین پرزوردارتھپڑرسیدکردیا۔انتخابی جلسوں میں جناب اردغان کااپنے مدمقابل امیدوارمحرم انسے کے حوالے سے کہناتھاکہ ایک سابق استاد اور 16سال سے رکن پارلیمان رہنے والے شخص میں قیادت کا ہنر نہیں ہے۔اردوغان کاکہناتھاکہ طبیعیات کا استاد ہونا الگ بات ہے اور ملک چلانا دوسری بات ہے۔کیونکہ مملکت کاصدر بننے کے لیے وژن اور تجربہ ضروری ہوتا ہے۔خیال رہے کہ رجب طیب اردوغان2014میں صدر بننے سے قبل 11سال تک ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیںجب کہ 2014سے اب تک وہ ترکی کے صدرچلے آرہے ہیں۔الیکشن میں جناب اردغان کی واضح فتح سے وہ 2023تک ترکی کے صدارتی منصب پربدستورفائزرہیں گے۔تجزیہ نگاروں کاکہناہے کہ جناب اردغان کمال اتا ترک کے بعد ترکی کے سب سے طاقتور رہنما ہیںاورحالیہ کامیابی نے انہیںمزید طاقت ور بنادیاہے۔ اس مرتبہ ترکی کے صدارتی الیکشن میں ووٹر ٹرن آٹ زیادہ رہا ہے،جب کہ سکیورٹی کے زبردست انتظامات کئے گئے تھے۔ صرف استنبول میں 38 ہزار سکیورٹی اہلکارالیکشن ڈیوٹی پر تعینات تھے۔
پورے عالم اسلام پرنظردوڑانے کے بعدجناب رجب طیب اردوغان واحدایسے لیڈرکے طورپرابھررہے ہیں کہ جنہیں عالم اسلام کودرپیش کرب ناک صورت حال کاغم کھائے جارہاہے ۔کشمیرہوکہ فلسطین ،برماہوکہ شام مسلمانوں پرتوڑجانے والے قیامت خیز مظالم  پرآج اگرکوئی مسلمان حکمران مضطرب،بے چین اوربے کل ہے تووہ ترکی کے صدرجناب رجب طیب اردوان ہیں۔رجب طیب اردوغان مغربی ایشیا اور مشرقی یورپ کے سنگم پرو اقع ملک ترکی میں ایک مقبول لیڈرہونے کے ساتھ ساتھ چاردانگ عالم مظلوم مسلمانوں کے حوالے سے اسی بے چینی ، اضطراب اوربے کلی کے باعث جناب اردوان مظلوم مسلمانوںکے دلوں کی دھڑکن ثابت ہورہے ہیں۔طیب رجب اردوان عالم اسلام کے ہیرو کے طورپرابھررہے ہیں اور مظلوم مسلمانوں کی مسیحائی انکی شناخت بن رہی ہے ۔ بلاشبہ آج پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ ہوتا ہو سب کی نگاہیں اردوان کی طر ف اٹھتی ہیں کیونکہ باقی تمام سر برآوردہ حکمرانوں کاضمیرمردہ ہوچکاہے ،اسی لئے نہ وہ بول رہے ہیں، نہ ظلم وتشد کو روکنے کے ضمن میں کوئی پالیسی وضع کر رہے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عصرحاضرمیںعالم اسلام کی قیادت کا حق طیب اردوان کو حاصل ہے ۔کشمیر سے برماتک پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کا یہ مطالبہ ہے کہ طیب اردوان ترکی کی سرحدوں سے باہر اپنا قدم نکالیں اور ملت اسلامیہ کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیں۔
1919 میں 631 سالوں تک قائم رہنے والی عالم اسلام کی سب سے مضبوط ترین اور طاقتور حکومت سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعدکمال اتاترک نے 1923 کوترکی میںایک لادین حکومت کی بنیاد ڈالی جس کا بنیادی عنصر اسلامی تہذیب و ثقاقت کا خاتمہ ، دینی اقدار سے رودگردانی ،لادینیت کا فروغ اور مغربی ممالک کے مفاد کو پروان چڑھانا تھا ۔طویل عرصے تک اقتدار پر قابض ہونے والے تمام سربراہوں نے مصطفی کمال کے ذریعے کی گئی اصلاحات کو ہی آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔1960میں وزیر اعظم عدنان میندریس نے پہلی مرتبہ ترکی میں مصطفی کمال لادین سلطنت میں تبدیلی کاسلسلہ شروع کیا ملک کو نئے نظام کی نئی تعریف سے روسناش کرایا ۔اسلام  پر عائد بے جا پابندیاں ختم کی ۔ لیکن فوج نے اسے برداشت نہیں کیا اور ان کے خلاف بغاوت کرکے تختہ پلٹ دیا ۔ ترکی میں اسلام نوازتحریکوں کو کچلنے کی مسلسل کوششوں کے درمیان1995 کے انتخابات میں معجزاتی طور پر پہلی مرتبہ اسلام پسند رفاہ پارٹی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری اور واضح اسلامی نقطہ نظر رکھنے والے نجم الدین اربکان ترکی کے وزیر اعظم بن گئے۔ رفاہ پارٹی کے اسلام نواز نظریات کے بعد قومی سلامتی کونسل کے ساتھ ان کے تعلقات میں خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ یہ اندیشے بھی سر اٹھانے لگے کہ کہیں نئی حکومت ترکی کے لادین نظام اور مغرب کی طرف التفات کی پالیسی کو تباہ ہی نہ کردے۔ آخر کار قومی سلامتی کونسل کے دبائو میں آکر 1997میں اربکان کو مستعفی ہونا پڑا اور ان پر تاحیات سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اسی کے ساتھ رفاہ پارٹی بھی ختم ہوگئی۔اسی رفاہ پارٹی سے نکلے ہوئے لوگوں میں سے ایک گروپ نے جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی بنائی جسے 2002کے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی ملی اور عبد اللہ گل وزیر اعظم بنے ۔2003میںطیب اردوان پر جب عائد سیاسی پابندی ختم ہوگئی تو وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوگئے اور عبد اللہ گل صدر بن گئے۔ 2014میںطیب اردوغان نے ملک کے پارلیمانی نظام کو بدلنے کی پہل کی اوراس طرح پہلی مرتبہ وہ عوام کے منتخب کردہ ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے اور وسیع تر اختیارات صدر مملکت کے حوالے کئے گئے۔ حالیہ الیکشن میں دوتہائی ممبران سے اس صدارتی نظام کو پاس کرانے کا منصوبہ تھا ۔
طیب اردوغان کی مخالف پارٹیوں کی بنیادی وجہ صرف یہ ہے کہ اردوان ترک معاشرے میں اعلیٰ مسلم اقدار کو بتدریج فروغ دے رہے ہیں ۔ وہ مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہیں ۔ فلسطین کے موقف کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کرتے ہیں،شام کے ظالم اورسفاک بشارالاسد کے اقتدارکاخاتمہ چاہتے ہیں،برماکے مسلمانوں کی حالت زاردیکھ کرباربارآبدیدہ ہورہے ہیں اوربرماکی بدہست حکومت اوراسکی فوج کومسلمانوں کے معاملے میں متنبیہ کرتے ہیں جبکہ کشمیریوں کے دردوالم پراپنے دل میں تکلیف محسوس کرکے بھارتی استبدادکوللکارتے ہوئے کشمیریوں پراستبدادی ہتھکنڈے ترک کرنے اورکشمیریوں کوحق خودارادیت دینے کوکہہ رہے ہیں۔الغرض دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم زیادتی ہوتی ہے تو جناب طیب اردوغان اپنے دردو غم کا اظہا رکرتے ہیں ۔مسلمانوں کے حوالے سے عالمی فورم اقوام متحدہ کے مجرمانہ کرداراختیارکرنے پر اقوام متحدہ کی دوہری پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یو این کی جنرل اسمبلی میں پورے آب وتاب کے ساتھ عالم اسلام کے حقوق کی برملا ترجمانی کرتے ہیں ۔ ترکی کے صدراورعالم اسلام کے یکسان محوب لیڈرکے طورپرابھرنے والے لیڈرجناب طیب اردوغان مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کے خلاف جنرل السیسی کی فوجی بغاوت کو وہ جرم گردانتے ہیں ۔طیب اردوغان کی ان پالیسیوں کی وجہ سے آج پوری دنیا کے لادین منصوبہ ساز اور مغربی استعمار متحد ہوکر اردوان کے مقابلے میں صف آرا ہوچکے ہیں اور وہ انہیں اقتدارسے بالکل ہی بے دخل کرنے میں اپنی پوری طاقت جھونک چکے ہیں۔امریکہ کی پشت پناہی پران کے خلاف فوجی بغاوت نے سراٹھایالیکن خداکے فضل وکرم سے اس کاسرکچل دیاگیا۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ جناب اردوغان باطل کے خلاف حق کی تلوار بن کر وقت کے نار نمرود  میں کود کر اور دجالی نظام سے نبر دآزما ہوکر اپنے لئے پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج منتخب کر چکے ہیں۔ان کے خلاف عالم کفر ہی نہیں بلکہ خود مگرب کے کاسہ لیس حکمران اور ضمیر فروش ملا وصوفی بھی سازشیں رچانے مین مصروف ہیں ،اس لئے طیب اردوغان کے لئے بیک وقت مخالفین اور دشمنوں کا مقابلہ کر نا، ملکی اقتدار سنبھالنا ، قوم کی تعمیر وترقی کو اور آگے لے جانا اور دنیائے اسلام کو حق کے پیغام پر قائم رہنے کا حوصلہ دینا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ۔ ہماری دعاہے کہ اللہ ان کی ہر ہر قدم حفاظت فرمائے اور ان کے جو ترکستان اور عالم اسلام کے لئے کچھ اچھا کر نے کا جو جوخواب ذہن میں مچل ر ہے ہیں ،وہ من وعن شرمندہ ٔ تعبیر ہوں۔