اردوزبان اور موجودہ سرکار

نئی قومی تعلیمی پالیسی(NEP) ’’اردو‘‘ مخالف:

 نئی قومی تعلیمی پالیسی(NEP) کا جہاں تک سوال ہے، اس تناظر میں یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی اردومخالف ضرور ہے اگر چہ اردو کے بڑے ادارے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر نے بھی کہا ہے کہ مذکورہ پالیسی اردو مخالف ہرگز نہیں ہے۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے تعلیم سنجے دھوترے صاحب نے بھی ایک میٹنگ میں کہا ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔حیران کرنے دینے والی بات یہ ہے کہ مذکورہ پالیسی پر ابھی تک اردو کے کسی بھی دانشور، ادیب ، محقق اور نقاد کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔اردو زبان و ادب میں جن دانشوروںکا فرمایا ہوا مستندقرار دیا جاتا ہے اور جن کا بہ قول اُن کے’ اُن کا اوڑھنابچھونا اردو ہی ہے‘کی طرف سے ابھی تک کوئی ایسابیان؍ مضمون سننے دیکھنے کو نہیں ملا ہے جس میں اُنھوں نے اردو زبان کے ساتھ کیے گئے سوتیلے سلوک کا ذکر کیا ہویا اُس پر اظہار افسوس کیا ہو۔میری ناقص رائے میں اردوداں حلقے کو ایک دفعہ نئی تعلیمی پالیسی کی ورق گردانی کرنا چاہیے اور کچھ نہ سہی مگر لفظ’’اردو‘‘ کی تلاش ضرور کرنا چاہیے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ نئی تعلیمی پالیسی 65صفحات پر مشتمل ہے لیکن کہیں بھی لفظ’’اردو‘‘ لکھا ہوا نہیں پائیں گے۔حالاں کہ ایک مسودہ جو پہلے تیار کیا گیا تھا، وہ 60صفحات پر مشتمل تھا اور اُس میں صرف ایک بار سندھی زبان کے ساتھ اردو زبان کا ذکر ہوا تھا لیکن آخری مسودے میں وہ بھی نکال دیا گیا ہے۔اپنے لوگوں نے نہ سہی مگر کچھ ایسے لوگوں نے ضرور اردو کے ساتھ کی گئی اس ناانصافی کے لیے اپنے قلم کو جنبش دی ہے تاکہ کئی لوگوں تک یہ بات پہنچ جائے کہ کچھ تو ایسا ہوا ہے جو اردو زبان کے حق میں صحیح نہیں ہے۔
چند ایک لوگوں نے جب مودی سرکار کو اردو زبان کو نظر انداز کرنے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا تو پالیسی کی حمایت کرنے والوں نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔جب اس حوالے سے سوال اُٹھا یا گیا کہ شیڈول آٹھ میں شامل کئی زبانوں کا اگر ذکر کیا گیا ،یہاں تک کہ شیڈول آٹھ میں جو زبانیں شامل بھی نہیں ہیں ، اُن کا ذکر موجود ہے لیکن اردو کا شیڈول آٹھ کی کئی زبانوں کے ساتھ ذکرکیوں نہیں کیا گیاہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پالیسی کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پالیسی کی 4.12,22.6,22.18عبارتوں میں شیڈول آٹھ میں شامل 22زبانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اور شیڈول آٹھ میں ’اردو‘ زبان بھی آتی ہے اور اس طرح اردو کا ذکر خود بہ خود آجاتا ہے۔ٹھیک ہے یہ بات کسی حد تک تسلیم ہے کہ جب شیڈول آٹھ کی22زبانوں کا تذکرہ ہوگا تو اردو اُس میں خود بہ خود شمار ہو گی لیکن خدا را ہمیں یہ بتائیں جہاں پالیسی میں سنسکرت، تمل، تیلگو، کنڈا، ملیالم، اوڑیا، پالی اور پراکرت زبانوں کا ذکر آیا ہے تو کیا ان زبانوں کے ساتھ ایک بار بھی ’اردو‘ کا ذکر نہیں ہونا چاہیے تھا؟شیڈول آٹھ میں ’’اردو‘‘ زبان ساتویں نمبر پر ہے اور ہندستان میں بولنے والوں کی تعداد 5کروڑ7لاکھ ہے یعنی کل آبادی کا 4.19فی صد حصہ۔جب کہ کنڈا شیڈول آٹھ میں آٹھویں نمبر پر ہے اور بولنے والوں کی تعداد 4کروڑ37لاکھ یعنی کل آبادی کا 3.61فی صد حصہ۔اسی طرح اوڑیا جو کہ شیڈول آٹھ میں نویں نمبر پر ہے اور بولنے والوں کی تعداد3کروڑ75لاکھ یعنی کل آبادی کا 3.10فی صد حصہ۔اسی طرح ملیالم شیڈول آٹھ میں دسویں نمبرپر ہے اور بولنے والوں کی تعداد3کروڑ48لاکھ یعنی کل آبادی کا2.88فی صد حصہ۔مزے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ پالیسی میںجس زبان کا تذکرہ بقیہ بڑی زبانوں بہ شمول اردو کا ذکر سر فہرست ہوا ہے وہ ’’سنسکرت‘‘ زبان ہے۔پالیسی کے 65صفحات میں جہاں کہیں بھی لفظ’’اردو‘‘ نہیں آیا ہے وہیں لفظ’’سنسکرت‘‘23بار آیا ہے۔آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ شیڈول آٹھ میں سنسکرت زبان فہرست میں سب سے آخر میں ہے یعنی 22ویں نمبر پر۔2011کی مردم شماری کے مطابق ہندستان میں سنسکرت بولنے والوں کی تعداد 24ہزار آٹھ سو ہے اور جب کل آبادی کا تناسب دیکھتے ہیں تو وہاں پر’’N‘‘لکھا ہوا ہے جس کا مطلبStands for Negligibleہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ جب پالیسی میں شیڈول آٹھ کی نویں ، آٹھویں ، دسویں یہاں تک کہ بائیسویں زبان کا جہاں ذکرہے کیاوہاں شیڈول آٹھ کی ساتویں زبان ’’اردو‘‘ کا ذکر ایک بار بھی نہیں ہونا چاہیے تھا؟ یہ اردو کے ساتھ کھلی دُشمنی نہیںہے تو کیا ہے؟ یہ اردو زبان کے ساتھ سوتیلا سلوک نہیں ہے تو کیا ہے؟یہ اردو زبان کو نظر انداز کرنے والا معاملہ نہیں ہے تو کیا ہے؟جہاں پالیسی میں ایک مردہ زبان کا ذکر23بار آ سکتا ہے وہاں 5کروڑ لوگوں کی زبان کا تذکرہ نہیں ہونا چاہیے تھا؟۔Counterviewمیں Sudarshan Iyengarکا مضمون بعنوان’’New Educational Policy 'Promoting' Sanskrit as enriching option at the cost of Urdu."چھپا تھا جس میں اُنھوں نے اردو زبان کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس بات کا بھی اعادہ کیا ہے کہ اردو زبان کوئی غیر ملکی زبان نہیں ہے بلکہ یہ ہندستان میں پیدا ہوئی ہے اور ہندستان کی مشترکہ تہذیب کی امین ہے۔اُن کے نزدیک اردو جیسی زبان کو نظر انداز کرناواقعی حیران کر دینے والی بات ہے۔ اس ضمن میں اُنھوں نے لکھا ہے:
"…Ignoring Urdu language is an unpardonable omission…Ignoring Urdu would almost kill the language."(Source:COunterview,Aug,11,2020) یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ جب اردو زبان کو سیاسی سطح پر اس قدر نظر انداز کر دیا جائے کہ ملک کی تعلیمی پالیسی میں اُس کا نام ایک بار بھی نہ لیا جائے تو اُس زبان کا واقعی خدا ہی حافظ ہے۔سنسکرت زبان بولنے والوں کی تعداد میں اضافہ کس طرح کیا جا رہا ہے وہ بھی حیران کر دینے والی بات ہے۔ اگر آپ2011کی مردم شماری کے مطابق انگریزی زبان(بہ طور پہلی زبان) بولنے والوں کی تعداد دیکھ لیں تو وہ 2لاکھ59ہزار ہے جب کہ ہندستان میں انگریزی بولنے والوں کی تعداد 125ملین ہے۔ جس میں 83ملین انگریزی(بطور دوسری زبان)بولنے والے ہیں۔یہ بات یاد رہے کہ مردم شماری میں جہاں کسی زبان کو بطور دوسری زبان(Second Language) بتایا گیا ہو، اُسے (بطور پہلی زبان)شمار نہیں کیا جاتا ہے لیکن سنسکرت زبان کے ساتھ یہاں خاص رعایت برتی گئی ہے کہ جہاں بھی سنسکرت زبان کو بطور دوسری زبان(Second Language) بتایا گیا ہے، اُسے بھی (بطور پہلی زبان)شمار کیا گیا ہے۔یہ بات میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ Ganesh Devyجو کہPeople's Linguistic Survey of Indiaکا ایک جانا پہچانا نام ہے، نے کہی ہے:
" if you look at the data for Sanskrit the number of speakers of Sanskrit will be larger than 2001 Census because where Sanskrit is mentioned as the second language, it is counted. What will happen is that Sanskrit will become the second language learnt becuase it fetches good scores."(Source:National Herald,1 Aug. 2020)   
اب آپ خود ہی اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی ’’اردو مخالف ہے یا نہیں‘‘۔اور اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا مذکورہ پالیسی میں ’’اردو کا خاص خیال رکھا گیا ہے؟‘‘۔اس بات کا اندازہ ہوا ہی ہوگا کہ اردو پر کس حد تک سنسکرت زبان کو ترجیح دی جارہی ہے۔ مودی سرکار اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج اور اس کی بقا کی خاطر بہ ظاہر فکر مند نظر آتی ہے لیکن حقیقت حال کچھ اور ہی ہے۔
اب اس بات پر بھی ایک نظر دوڑائی جائے کہ مودی سرکار نے اردو زبان کے فروغ کے لیے کتنے فنڈز واگزار کیے ہیں ۔سال 2014-19تک مرکزی حکومت نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے لیے 332.76کروڑ روپے واگزار کیے ہیں جب کہ Rashtriya Sanskrit Sanathanجو سنسکرت زبان کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے؛ اُس کے لیے مودی سرکار نے 2017-20 تک643.84کروڑ فنڈز واگزار کیے ہیں اور ہر سال اس میں اضافہ بھی ہوتا رہا ہے یعنی 2017-18کے لیے198.31کروڑ،2018-19کے لیے214.38اور 2019-20کے لیے231.15کروڑ روپے واگزار کیے ہیں۔اب ایک نظر ہندستان کی دوسری بڑی زبانوں پر بھی ڈالتے ہیں تو پتا چلے گا کہ مودی سرکار محض ایک ’’سنسکرت‘‘ زبان کے لیے بقیہ زبانوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔تمل، تیلگو، ملیالم، کنڈا اور اوڑیا جیسی ہندستانی زبانوںکے لیے سالانہ مالی بجٹ کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔مرکزی حکومت نےCentral Institute of Classical Tamilجو مذکورہ زبانوں کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے ، کو جو فنڈز واگزار کیے ہیں اور جس میں ہر سال کٹوتی ہوتی رہتی ہے کچھ یوں ہے۔ سال2017-18کے لیے10.59کروڑ،2018-19کے لیے4.65کروڑ اور2019-20کے لیے7.7کروڑ روپے۔اب آپ اس بات کا انداز لگایئے کہ پانچ ہندستانی زبانوں (تمل،تیلگو، ملیالم، کنڈااور اوڑیا)کے مقابلے میں سنسکرت زبان کا مالی بجٹ کتنا زیادہ ہے(بحوالہ دی وائر اردو،فروری 18،2010)۔اس ضمن میں Ganesh Devyنے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ کچھ یوں ہے:
"This will prepare the ground for claiming that there are millions of Sanskrit speakers and go towards creating a Sanskrit-based reconstructed past as the mainstream culture of India."(Source, Herald,Aug. 1,2020) 
مودی سرکار کی اس پوری کارستانی ، چالبازی اور دھوکہ دہی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اردو داں حلقے کو ہوش کے ناخن ضرور لینے چاہیے؛ نہیں تو وہ وقت دور نہیں جب اردو زبان خستہ حالت زار کو پہنچے گی اور ہم محض تماشائی بننے کے بغیر کچھ نہیں کر پائیں گے۔غیر اردو داں حلقے تک کو اس بات کا احساس ہے کہ ہندستان میں اردو زبان کی سیاسی حالت دگرگوں ہے۔اردو زبان و ادب سے جڑے ایسے لوگوں کو اردو کی بقا کی خاطر اگلی صف میں آنا ہوگا جن کی باتیں ہم نے آج تک ’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘ کے طور لی ہیں۔اردو کے سرکاری ونیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں، انجمنوں کو آگے آنا ہوگا اور اردو کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔سب سے اہم بات یہ کہ بنیادی اور سب سے نچلی سطح سے ہمیں اردو کے فروغ کے لیے کوشاں ہونا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں بڑے پیمانے پر مہم چلانا پڑے گی جس کے بنیادی مقاصد میں اردو کی اہمیت کو واضح کرنا، گھر گھر جاکر بچوں کو اردو زبان میں بنیادی تعلیم دینے کی ترغیب دینا،اردو زبان میں بلا امتیاز مذہب، رنگ، نسل اور ذات پات میں کوئی جگہ نہیں اور اس شوشے کو بہت حد تک دور کرنے کی ضرورت ہے کہ اردو محض مسلمانوں کی زبان ہے ۔ساتھ ہی اس بات کو بھی ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے کہ اردو زبان بول چال کے اعتبار سے عوامی رابطے کی بڑی زبان ہے جس کا تحفظ از حد ضروری ہے۔بنیادی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے کام کرنے کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ اردو بولنے والوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اردو زبان کو بہ طور پہلی زبان درج کرا سکیں۔اردو میڈیم اسکولوں کی خستہ حالی اور وہاں کے تدریسی عمل کی کارکردگی کابھی جائزہ لیا جائے۔آئے دن seminarsاورwebinarsہوتے رہتے ہیں لیکن موضوعات کا انتخاب وقت کی اہم ضرورت کے مطابق نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب قطعی یہ نہیں ہے کہ دوسرے موضوعات غیر اہم ہیں۔ مودی سرکار کی اردو کے تئیں اس چالبازی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اردو زبان کی موجودہ صورت حال سے لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیںکہ جو کچھ بھی اردو زبان کے ساتھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔نئی قومی تعلیمی پالیسی پرSeminarsاورWebinarsمنعقد کیے جا سکتے ہیں تاکہ اردو کے ساتھ کی گئی ناانصافی کے تعلق سے لوگ باخبر ہو جائیں ۔اس سے کم سے کم اتنا تو ہوگا کہ جو لوگ یہ کہتے تھکتے نہیں ہیں کہ مذکورہ پالیسی اردو مخالف نہیںہے ،اُن کو جواب مل جائے گا۔Google Meetingsہوتی رہتی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان میٹنگوں میں اردو زبان کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر بحث و مباحثے ہوں اور اردو زبان کے تحفظ اور اس کے فروغ کے لیے لوگوں میں ایک جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں سے اردو زبان کے تحفظ کے لیے تجاویز مانگ لی جائیں۔اردو ادیبوں اور غیر سرکاری اداروں اور انجمنوں کو اس حوالے سے اپنی اپنی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور زندہ ضمیرہونے کا ثبوت پیش کرنا ہے۔تخلیق کار بہ شمول ریسرچ اسکالرز جن کے مضامین اکثر و بیشتر اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں ؛وہ تعلیمی پالیسی کا جائزہ لے کر اردو زبان کو اُس کا جائز مقام دلانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ اردو زبان کے سیاسی منظر نامے کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے استدلال کے ساتھ اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔اردو ادیبوں پر مضامین لکھنے سے کوئی اعتراض نہیں ہے ؛ہاں البتہ اردو زبان کے تحفظ کے لیے بھی ہمیں ہی آگے آنا ہوگا۔ آج کل اردو اخبارات ادبی مضامین سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔اگرہر لکھنے والا ایک ایک مضمون نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کے سوتیلے رویے کے موضوع پر لکھے گا یا پالیسی کا ایک تنقیدی جائزہ پیش کرے تو ضرور ایک ایسی آواز اُبھرے گی جس پر ہر ذی شعور فرد سوچنے پر مجبور ہوگا۔مدیران ادب بھی اس مہم میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں ۔اگر رسائل و جرائد کے مدیران ایک خصوصی شمارہ ’’نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اردو‘‘ پر شائع کریں گے جس سے ہمارے اردو داں حلقے کے اُن ’’دانشوروں‘‘تک بات پہنچ جائے گی جو ابھی بھی قومی کونسل کے اس بیان کا مزہ لے رہے ہیں کہ ’’پالیسی اردو مخالف ہرگز نہیں ہے۔‘‘ہمیں Ganesh Devyکی اس بات کو بہت حد تک سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے کہ:
"…its(NEP's) implementation is going to privilege Sanskrit over tribal languages, Urdu and other Dravidic languages."(Source:National Herald)
ّ(مضمون نگار کا تعلق چیوہ اُولر، ترال، کشمیرسے ہے اور انہوںنے حیدر آباد یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے)
فون نمبر۔9149958892