ادھم پور میں ’ جل جیون مشن‘ سکیم پر پیش رفت کا جائزہ لیاگیا ضلع میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے پر پرنسپل سیکرٹری اشوک کمار کا زور

ادھم پور//جل شکتی محکمہ کے پرنسپل سیکرٹری اشوک کمار پرمار نے کانفرنس ہال ڈی سی آفس کمپلیکس میں ضلع اودھمپور میں جل جیون مشن اسکیم کے نفاذ کی پیش رفت کا جائیزہ لینے کیلئے ضلع اودھمپور کا ایک وسیع دورہ کیا ۔ اس دوران مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی جس میں جے جے ایم کے تحت دیہاتوں اور پانی سیمتیوں کی تفصیل ، ہینڈ پمپوں کی مرمت ، جے جے ایم کے تحت امداد پر عمل آوری کی پیش رفت ، یو ٹی سیکٹر نابارڈ کی بند اسکیموں ، جے جے ایم کے تحت 100 فیصد پائپ پانی کی کوریج ، اس کے تحت فزیکل اور مالیاتی پیش رفت شامل ہیں ۔ نابارڈ کے پراجیکٹس لغو پروجیکٹس وغیرہ پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ قبل ازیں ایس ای ہائیڈرولک روپ کرشن رینا نے ضلع کی ترقی اور ضلع میں اسکیم کے موثر نفاذ کیلئے مختلف محکموں کے کردار کے بارے میں تفصیلی پاور پوائینٹ پرذنٹیشن دی ۔ سکیم کی سب ڈویژن وار پیش رفت کا جائیزہ لیتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ جل جیون مشن مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم ہے جسے حکومت ہند نے شروع کیا ہے جس کا مقصد ملک بھر کے تمام گھرانوں کو 100 فیصد نل کا پانی فراہم کرنا ہے ۔ انہوں نے کمیونٹی کے فائدے کیلئے تمام پائیدار آبی وسائل کو استعمال کرنے پر زور دیا ۔ پرنسپل سیکرٹری نے زور دیا کہ پی ایچ ای کا شعبہ بنیادی ترجیحی شعبہ ہے اور تمام افسران /اہلکاروں کو جوش ، خلوص اور لگن کے ساتھ لوگوں تک پہنچنے کیلئے سخت محنت کرنی چاہئے۔انہوں نے پی ایچ ای کے محکموں کے افسران پر زور دیا کہ وہ ضلع میں اسکیموں کو موثر طریقے سے نافذ کریں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مختلف اسکیموں اور پروگراموں سے فائدہ اٹھانے کیلئے آگے آئیں ۔ انہوں نے متعلقہ محکمے کے افسران سے کہا کہ وہ ضلع کے دیہی اور دور دراز علاقوں کا دورہ کر کے مختلف کاموں اور اسکیموں کی پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کریں ۔ اس موقع پر عمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ زمینی سطح پر زیادہ سے زیادہ نتائج کیلئے مشن موڈ پر ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے موثر اقدامات کریں ۔ انہوں نے پی آر آئی اور ٹھیکیداروں سے بھی بات چیت کی اور جے جے ایم کے نفاذ کے بارے میں رائے لی ۔ انہوں نے کئی مسائل اور مطالبات کو زیر غور لایا ۔ پی آر آئی کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے یقین دلایا کہ تمام مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا ۔