اخلاقی گراوٹ کے اسباب وعلل

اخلاق انسان کا بہترین زیور ہے۔ اس کے بغیر اس کی کوئی بھی پہچان نہیں ہے۔ دنیا کی ہر مذہبی اور غیر مذہبی کتب میں اخلاقیات پرزور دیا گیا ہے۔ کسی بھی قوم کی عظمت کے اسباب پر جب غور کیا جاتا ہے، تو اخلاقیات ہی وہ پہلی چیز ہے، جو ایک انسان کا استقبال کرتی ہے ۔ اب اگر زوال کے اسباب کا بھی مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو جو وجہ سرفہرست ہوگی، وہ ہے اخلاقی زوال۔ ذرا کشمیر کی بات کریں تو یہاں اخلاقیات کے اونچے پائدان سے دھیرے دھیرے اُتر کر ہم اخلاقی زوال کے کالے کنویں میں گرتےچلے جارہے ہیں۔ جہاں بھی نظر دوڑائی جائےہر چھوٹا بڑا اخلاقی انحطاط کا شکاردکھائی دیتا ہے۔ اخلاقی اقدار کےانمول خزانے جو یہاں ہر جگہ پائے جاتے تھے،نہ معلوم اب کہاں غائب ہوگئے ہیں اور ہم انسانیت سے بھی کوسوں دورچلے جاچکے ہیں۔ کچھ سال پہلے تواخلاق کا بول بالا تھا۔ لوگ برائیوں اور خرابیوں سے بچنےکو عظیم کام سمجھتے تھے۔ مگر اب بالکل اس کے برعکس ہے۔ شائد یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ با اخلاق اشخاص کو موجودہ سماج میں عجیب مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ حیوانی خصائل کی کھلے عام نمائش کرنا اب اعلیٰ کام مانا جاتا ہے۔ اب یہ  بات ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ اس صورت ِ حال تک پہنچے کے لئے کئی سارے وجوہات کا بھی عمل دخل ہے۔ علاوہ ازیں وقت کے تغیر نے بھی اس میں کافی حدتک معاونت کی ہے۔مندرجہ ذیل سطروں میں ہم انہی وجوہات کی بات کریں گے جو ہماری اخلاقی دیوالیہ پن کےباعث بن گئے ہیں۔ 
(۱) دین سے دوری :  اسلام ایک نظام زندگی ہے۔ اس میں بہت زیادہ زور اس بات پر دیا گیا ہے کہ ایک مسلمان اخلاقی طور پر مکمل ہو۔ اسلام کے فروغ کی سب سے بڑی وجہ اخلاقی پاکیزگی تھی۔ جس کامغربی مورخین بھی اعتراف کرچکے ہیں ۔بغور دیکھا جائے تو آج کے مسلمان اس زمرے میں کہاں پائے جاتے ہیں۔ جھوٹ، غیبت، حسد، تعصب، لالچ، رشوت، گالی گلوچ، تکبر وغیرہ، ایسی بیماریاں ہیں جو مسلمانوں میں رچ بس گئی ہیں۔ دین برائیوں سے دور رکھتا ہےاور شعور والی زندگی گزارنے پر اُبھارتا ہے۔ اس کے برعکس جو بھی  ہوتا یاہورہا ہے ، وہ کسی مخصوص وقت تک تو خوبصورت ہوسکتا ہے، مگر دائمی نہیں ہوسکتا ہے۔ تو یہی وہ پہلی وجہ جس سے ہم اخلاقی انحطاط کا شکار ہوچکے ہیں۔ 
  (۲) مادیت پرستی :   مادیت کی وجہ سے انسان محض دنیاوی چیزوں کی ہوس رکھتا ہےآخرت کی نہیں۔ چند دن قبل میں ایک بچی کو عمرانیات کا سبق پڑھا رہا تھا۔ پڑھائی کے درمیان ہم لوگ Capitalism کے بارے میں بات کرنے لگے۔ جب ہم اس کی گہرائی میں جانے لگے تو یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ موجودہ معاشرہ صرف مادیت پرستی کادلدادہ ہے۔کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسوں کا حصول چاہتا ہے،قطع نظر اس کے وہ جائز ہو یا ناجائز۔اسی طرح خوبصورتی اور قدرت کی کاری گری اب یہاںخاص  معنی نہیں رکھتی ہے۔ جو صور ِ تحال پیسے دےسکے، وہی لائق اور محفوظ سمجھی جاتی ہے،حق پرستی،انصاف ،مروت ،ہمدردی اور انسان دوستی اب دانشمندی نہیں کہلاتی ہے۔ آپ بھی لوگوں کا مشاہدہ کیجئے،ہر کوئی اسی دُھن میں مگن ہے کہ کب اُس کے ہاں چیزوں کے انبار لگے۔چاہے اس کا آرام و سکون حرام ہوجائے،وہ تو سب سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصروف ہے۔گاڑیوں کی لائن ہو، پیسوں کے انبار ہو، چار پانچ منزلہ مکان ہو، لذیذ کھانے ہوںاور دیگر عیاشیاں ہو،یہی آج کے انسان کے بنیادی مقاصد ہیں۔ اور اگر اقدار اس راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں تو ان کو پست پشت ڈالنا بہت ضروری ہے۔ پیٹ بھرا ہوا ہو اور جیب میں ڈھیر سارےپیسے ہوں تو غم ، مصیبت اور پرشانی سے ڈرنا کاہے کا۔ بیمار ہونےڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے گاڑی اور دوسری چیزوں کی موجودگی، بیماری کو آسان بنادیتی ہے۔ظاہر ہے یہی مادیت کا مسخ شدہ چہرہ ہے، جس کی وجہ سے اخلاق اب ہماری زندگیوں میں نام نہاد ہوکر رہ گیا ہے۔ 
(۳)دنیا کی محبت اور آخرت سے لاتعلقی۔جب انسان دنیا کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہےتو وہ آخرت سے غافل ہوجاتا ہے اور یہی محسوس کرنے لگتا ہے ہم دنیا میں ہمیشہ رہیںگے،میں کھبی نہیں مریں گے، یہ محفلیں ہمیشہ ایسے ہی خوبصورتی کے ساتھ سجتی رہے گی، موسم آتے جاتے رہیں گے، اور ہم بھی یہیں رہیں گے۔ اگر اس کو دوسرے لحاظ سے سمجھا جائےتو معنٰی یہ نکلتا ہے کہ اس زندگی کا جتنا بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اٹھایا جائے، آنے والے کل کو کس نے دیکھا، جو سانس اندر داخل ہوئی، اس کی واپسی کا کوئی کیوں فکر کی جائے، آج سوگئے، کل پھر جاگ جائیںیا نہیں کس کو معلوم۔اس لئے اخلاق میں پڑھ کر کیوں ایک انسان زندگی کو تنگ و تاریک بنائے۔ اخلاق سے پرے لوگ سکون سے جیتے ہیں، تو ہم کیوں اس کے برعکس رویہ اختیار کرے؟ اس سوچ نے بھی کافی حد تک اخلاقی انحطاط کو فروغ دیا ہے۔ 
(۴) دوسروں کی نقالی:  دنیا کے ہر حصے میں رہنے والےلوگوںکے رہن سہن اور جینے کے الگ الگ طریقے ہیں۔ ان کے اخلاقی رنگ ڈھنگ بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کچھ دوسرے شٔے ہے۔ رات دن کا آنا جانا اُن کے لئے الگ معنیٰ رکھتا ہے۔ خلیات اور ذرات کو وہ مختلف انداز سے دیکھتے ہیں۔ یعنی ہمارا معاملہ اور اُن کا معاملہ کچھ الگ ہے۔انسانی لحاظ سے ہم ان سے مماثلت ضرور رکھتے ہیں، مگر اخلاقیات کے معاملے میںہم سے کافی حد تک میل نہیں کھاتے ہیں۔ جب ہم اُن کے ہم پلہ بننے پر تُلے رہتےہیں تو نقصان ہمارا ہی ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے طریقہ ٔ کارکے تحت زندگی جیتے ہیںلیکن ہم اُن کی تقلید کرتےرہتے ہیں۔  ظاہر ہے کہ ہمارے لئے وہی چیزیں لازم اور اثر دار ہے، جو ہماری زندگی اور ہمارے ماحول کے تحت موافق ہوں۔ اگرچہ انہوں نے اپنی روش نہیں بدلی ہےمگر ہم نے اُ ن کی خُو اپنائی ہے، جس کے نتیجے میں ہم اخلاقی پستیوںکی اتھاہ گہرائیوں میں دھنستے جارہے ہیں۔ 
(۵) ہمارا اپنا رویہ :   سچ جان کر بھی ہم انجان بن جاتے ہیں۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم غلط کام کررہے ہیں، پھر بھی وہی کچھ کرتے چلے ہیں، جو انسانیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ جیسا چل رہا ہے، ویسے ہی چلنے دو۔ اگر ترقی یافتہ زمانے میں گناہ ہوتے ہیں تو ہرج ہی کیا ہے،بس ہمارا کام ہے جینا۔ دوسرا بدبخت ہے تو اس میں ہمار کیا قصور۔ ہمیں اپنی زندگی گزارنی ہے۔  اس نظریۂ حیات نے بھی ہمیں بہت حدتک اخلاقیات سے دور کیا ہے۔ 
اب بھی وقت ہے کہ ہم پھر سے باخلاق بننے کی کوشش کرے۔ ہماری پہچان اخلاقیات سے ہیں۔ ہمیںاپنی پہچان کو اس طرح ضائع  نہیں کرنی چاہئے۔ اس کام میں سب کو ہاتھ بٹانا ہوگا۔ آیئے انفرادی سطح پر کوشش کرے، ایک با اخلاق ماحول کو بنانے کی۔ یہ کام صبر آزما ہے، پہلی منزل پر ہی گھبرانا دانائی نہیں ہے۔ 
(مضمون نگار الھدیٰ کوچنگ سنٹر مصطفیٰ آباد، زینہ کوٹ میں مدرس ہیں)
������