احساسِ ذمہ داری موجود نہ حُسنِ اخلاق | کشمیری قوم خرابیوںاور خرافات کے اتھا ہ سمندرمیں غرق

یہ قدرت کا ہی نظام ہے جس کے تحت وباء، طوفان،زلزلے اور سیلاب بھی آتے رہتے ہیں۔ان کی وجوہ نظام فطرت کے تحت ارض و سماع میں جاری وہ تغیرات ہیں جو ہر وقت رونما ہوتے ہیں۔یہی تغیرات زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کا کام کرتے ہیں۔کبھی کبھی ان میں تناسب کا فرق پڑنے سے کوئی بڑی تبدیلی بھی رونما ہوتی ہے۔انسانی تدبیروں سے تباہیوں کی شدت میں کمی ضرور لائی جاسکتی ہے لیکن ان سے مکمل نجات حاصل نہیں کی جاسکتی،جو کچھ زمین کامقدر ہے وہی انسان کا بھی مقدر ہے۔ہمارے اسلاف نے مختلف قدرتی آفات کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کا سلسلہ جاری رکھا اور ہمیں بھی یہی کچھ کرنا ہے۔انسان کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ تباہی اور سانحوں کا شکار ہوجانے کے بعد ان سے کوئی سبق اور عبرت حاصل کرے اورایک نئی ہمت ،حوصلے اور ولولے کے ساتھ دوبارہ زندگی کے معمولات شروع کرے کیونکہ ہر سانحہ کا تلخ تجربہ انسان کونئے سانحوں سے بچنے کے طریقے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر اْس وقت تک کسی قوم پر کوئی عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان میں یہ عیب پیدا نہ ہوجائے کہ اپنے سامنے بْرے اعمال ہوتے دیکھیں اور انہیں روکنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی انہیں نہ روکیں۔اب ذرا غور کریں اور دنیا بھر کے موجودہ ترقی یافتہ ، ترقی پذیراور دیگر غریب و پسماندہ اقوام پر نظر ڈالیں تو دنیا کا کون سا خطہ ایسا ہے جہاں کی قومیںڈھیر ساری خرابیوں ،بْرائیوں، غفلت اورکوتاہیوں سے صاف و پاک ہیں اور عذاب الٰہی سے مستثنیٰ ہیں؟ 
 تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں یا معاشروںکے سیاسی اور مذہبی قائدین کے مابین نظریات کا ٹکرائورہااور لوگوںکے اجتماعی مفادات کی حفاظت اورحصول کے تئیں منافرت رہی ،اْن قوموں میں اصول پرستی اور اجتماعی مفادات کی جگہ خود غرضی اور منفعت پرستی نے لے لیں۔اْن کے دِلوں میں خوف ِ خدا کا تصورباقی نہ رہا اور اْنہیںہمہ گیر خرابیوں اور بْرائیوں نے گھیر لیا ،جس کے نتیجہ میںوہ ہمیشہ مسائل ،مشکلات اور مصائب میں مبتلا رہیںاور ہر میدان اور ہر شعبۂ زندگی میں ناکام ثابت ہوئیں۔ جن اقوام یا معاشروں میں ایثار و اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ باقی نہ رہا ، وہ بھی خود پرستی،ہٹ دھرمی اور لاتعلقی کے دلدَل میں دھنس کراللہ تعالیٰ کے عذاب و قہر سے نیست و نابود ہو ئیں۔
بلاشبہ اس وقت ساری دنیا کورونا جیسی مہلک بیماری سے نبرد آزما ہے اور انسانی معاشرے میں زبردست خوف وہراس کا ماحول جاری ہے۔اس قہر نے ایک طرف جہاں قوموںکی لائف اسٹائل اور سوچنے سمجھنے کے انداز بدل ڈالے ہیں۔وہیں دوسری طرف دنیامیں کورونائی قہر کی مار کھانے والے کئی طاقتور اور کمزور ملک اقتصادی بدحالی کے باوجود باہمی کشیدگی میں اْلجھے ہوئے ہیں۔ اس قہر سے بچنے یا اس پر قابو پانے کے لئے عالمی سطح پر جو سوچ او ر اپروچ سامنے آرہا ہے ،اس میں کوئی یکسوئی نظر آرہی ہے نہ ہی انسانیت کی بقا کا مثبت پہلودکھائی دے رہا ہے،جس سے یہی عندیہ مل رہا ہے کہ کرونا کا قہر بھی اْس گمراہ انسان کی کم ظرفی ،رذالت،طبقانیت،رنگ و نسل ،منافرت اور تفریق کو مٹا نہیں پارہا ہے جس کی بدولت آج ساری دنیاعذاب میں مبتلا ہے۔
اب اگر اپنے کشمیر کی بات کریںتو کشمیری قوم بھی اسی صورت حال کی شکار ہے۔ لکیر کے فقیر بن کر وہی کچھ کرتے چلے جارہے ہیں ،جن سے اْن کی دین بنتی ہے نہ دنیا۔چنانچہ اْسے ہر ادوار میں زیادہ تراْنہی خود غرض اور دنیا پرست سیاسی اور مذہبی رہنماوں کی قیادت نصیب ہوئیں ،جوحق پرستی سے عاری تھے اورکشمیریوں کے جذبات سے کھیل کر انہیںہر معاملے میں گمراہ کرتے رہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیری جہاں مختلف علما کے چکر میںفروعی اور جزوی مسائل میںانتشار و اختلافات کے شکار ہیں وہیں ذ لت و خواری کی صورت حال میں اْن کے پاس کوئی سیاسی بساط بھی نہیں رہی ہے۔70سالہ غیر یقینی سیاسی صورت حال اور30برسوں کی طویل عسکری تحریک نے جو المناک اور کربناک نقو ش کشمیری معاشرے کی روز مرہ زندگی پر مرتب کئے ہیں ،وہ انتہائی بھیانک ہیں۔عشروں کے ان طویل نامساعد حالات کے دوران کریک ڈاونوں ،محاصروں ،جھڑپوں،انسانی ہلاکتوں،املاک کی تباہیوںاور ہڑتالوںسے اْسے پہلے ہی ڈھیر سارے مسائل سے دوچار کردیا ہے جبکہ معاشی بد حالی ،بے کاری ،بے روزگاری ،کساد بازاری وکورپشن نے بھی اْسے خستہ ، پستہ اور شکستہ بناکے چھوڑ دیا ہے۔غرض کہ جہاںکشمیری قوم طویل عرصے سے ایک مکمل اور مدلل سیاسی قیادت سے محروم ہے،وہیں کشمیری عوام کی سیاسی زندگی کا بڑاالمیہ یہ بھی رہا ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملے سے نمٹنے ،کسی بھی مسئلے کو حل کرنے خاص طور پراپنے اجتماعی مفادات کے حصول وحفاظت کیلئے کوئی متحدہ اور متفقہ کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ تفریق میں مبتلا رہ کر کوتاہی برتی اورغفلت و غرورکے عالم میں بغیر کسی تمیز کے دوسروں کے اشاروں پر ناچتے رہے۔جس کے نتیجہ میں آج تک کشمیریوں کا کوئی بھی اجتماعی مقصد پور ا نہ ہوسکا۔اس وقت کشمیرکی جو صورت حال ہے ، وہ کسی بھی ذی ہوش فرد کے لئے نہایت تکلیف دہ ہے۔سیاسی غیر یقینی صورت حال میں اس وقت کشمیری قوم کمزور ترین حالات سے گزر رہی ہے اورہر طرف سے بے بس و لاچار دکھائی دے رہی ہے۔ایک لمبے عرصے سے دوسروں کے اشاروں پر ناچنے والی اس قوم کی اصل حیثیت تک مٹا دی گئی ہے ،گویا کشمیری قوم اپنی سیاسی ،مذہبی ،معاشرتی ، تعلیمی اور دیگر کئی معاملات میںہر اعتبار سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں پڑی ہوئی ہے۔
 سچ تو یہ بھی ہے کہ کشمیریوںکی کسم پْرسی کی ایک بنیادی وجہ اْنکی اخلاقی زبوں حالی بھی ہے۔ جو اپنے دین سے دور ہوکر دنیاوی لذتوں کے چکر میں بدمست ہوگئے۔احساسِ ذمہ داری کا جذبہ مفقود ہوجانے سے کبھی متحد نہ ہوسکے بلکہ بانت بانت کی بولیاں بول کر بدستور تفریق و منافرت کو ہی فروغ دیتے رہے۔شائد اسی اخلاقی زبوں حالی نے کشمیریوں کو حق پرستی سے دور کردیا اور لامنتہائی خرابیوں کے چکر میں پھنسا دیا۔ہر ایک کی حد نظر تو بَس دنیا کی شان و شوکت اور عیش و آرام پر ٹکی رہی اورمعاشرتی تقاضوں کا شعور کافورہوتا رہا ، صرف اس لَت میںپڑگئے کہ ہم نے اپنا جائز و ناجائز کا م کس طرح کرناہے ،چاہے یہ کام رشوت سے حاصل ہو یا کسی کے حق مارنے سے۔حد تویہ کردی کہ اگر کسی کے قتل سے بھی فائدہ پہنچتا تو اْس سے گریز نہیں کرتے رہے۔ظاہر ہے جب ایک معاشرے میں اس قدر بے حِسی ،خود غرضی اور لاتعلقی پیدا ہوجائے تو اس معاشرے یا قوم کی اجتماعی مفادات کی پاسداری بھی کوئی نہیں کرتا۔ 
 اس بات سے سبھی واقف ہوں گے کہ احساسِ ذمہ داری ہی ایک ایسا جذبہ ہے جو کسی بھی انسان کو راہِ راست پر لے آتا ہے ،جسے ہم بالکل غافل ہوچکے ہیں۔آج بھی ہمارے قول و فعل میں تضاد برقرار ہے،دِل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ اور۔ہم سبھی باتیں تو بہت خوب کرتے رہتے ہیں،بہت کچھ لکھتے رہتے ہیں اور بہت کچھ پڑھتے رہتے ہیں،ایک دوسرے کووعظ و نصیحت بھی کرتے ہیں مگر خود کبھی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے اور نہ ہی اپنا احتساب کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی کی بات میں کوئی تاثیر نہیں رہی اور کوئی کسی کا اثر قبول نہیں کرتااور معاشرے کا شیرازہ تواتر کے ساتھ بکھرتا چلا جارہا ہے۔ کرونا کی وبائی بیماری کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے اور اس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے جوتدابیر اختیا کرنے کی گذارشات کی جارہی ہیں مگر کیا مجال کہ ہر کوئی اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتااور دوسروں کواس پر عمل کرانے پرآمادہ کرسکتا۔ حالانکہ اب بھی وقت ہے کہ اگر معاشرے کا ہر بالغ فرد اپنی اپنی جگہ درست سوچنا شروع کرے، احساسِ ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوجائے تو سارا معاشرہ ٹھیک ہوسکتا ہے کیونکہ افراد کے مجموعے سے ہی معاشرے بنتے ہیں اور قومیں وجود میں آاتی ہیںجبکہ خدا بھی اْسی قوم یا معاشرے کی حالت بدلتا ہے جس قوم یا معاشرے کا ہر فرد اپنی حالت بدلنے پر آمادہ ہو۔ہمارا بہت وقت ضائع ہوچکا ہے ،ہمارا بہت سارا نقصان ہوچکا ہے،ہماری بدنظمی اور احساسِ جذبہ کی کمی سے ہماری حیثیت مٹ رہی ہیاور ہم ہیں کہ آج بھی ہمیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیرنظر نہیں آتا۔انتہائی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کے احساس کے جذبہ کو بیدار کرنا ہے، بْرے اعمال کی کثرت سے ہمارے احساس کی حِس مْردہ ہوچکی ہے اور اب نحوست کا مزہ چکھنے کے بعد تو ہمیں سعادت کی لذت کا احساس ہونا ہی چاہئے۔اس لئے اْن بْرائیوں اور خرابیوںکو ،جو ہمارے مزاج میں رچ بس گئی ہیں ،کا ادراک کرنا چاہئے اور اپنے اندر ایک ایسی سوچ پیدا کرنی چاہئے جس کا حصول صرف قوم کے اجتماعی مفادات ہوں، جس کے لئے معاشرے کے ہر فرد کو احساسِ ذمہ داری کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب قوم متحد ہوکیونکہ اتحاد و اتفاق ہر کامیابی کی شاہ کلید ہوتی ہے ، یہ ترقی کا زینہ ، فتح و کامرانی کا شامیانہ اور عزت و سر بلندی کا وسیلہ ہوتی ہے۔
  جن قوموں میں احساسِ ذمہ داری کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے ،وہ متحد ہوجاتی ہیں،اْن قوموں میں خوف ِخدا بھی پیدا ہوجاتا ہے اور جہاں خوف ِخدا کو جگہ ملتی ہے وہاں حق پرستی کا بول بالاہوجاتا ہے اور جہاں حق پرستی قائم ہوجاتی ہے وہاںبے لوث اور بے باک سیاسی رہنما اور مذہبی علمانمودار ہوجاتے ہیںاور پھر بڑے سے بڑے مسئلے کا حل بھی خود بخود نکل آنے میں دیر نہیں لگتی ہے۔وبائی بیماریوں سے نجات ملتی ہے اور نفسیاتی مسائل سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔شفایابی دامن پکڑتی ہے اور خوشحالی مقدر بن جاتی ہے۔