احتجاج کے لئے اب سڑک پر آنا چاہئے؟

سہیل انجم
حالیہ دنوں میں مسلمانوں کے خلاف بھڑکائی گئی نفرت کی آگ اب رفتہ رفتہ پورے ملک میں پھیلتی جا رہی ہے۔ فروری 2020 میں دہلی کے شمال مشرقی علاقے کو بدترین مسلم کش فساد کی آگ میں جھونک دینے کے بعد بھی شرپسندوں کے عزائم ماند نہیں پڑے تھے۔ وہ دہلی کو ایک بار پھر جھلسانے کے لیے پے در پے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ کبھی جنتر منتر پر جلسہ کرکے مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی براڑی کے علاقے میں جلسہ کرکے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اپیل کی گئی۔ اس کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی سماج میں نفرت کا زہر گھولنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ ان کوششوں کو پولیس کے رویے سے مدد ملتی رہی۔ جنتر منتر پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کو دہلی پولیس نے ہیٹ اسپیچ ماننے سے انکار کر دیا اور عدالت میں کہہ دیا کہ اس میں کسی خاص مذہب کے خلاف نفرت انگیز باتیں نہیں کہی گئیں۔ جبکہ اس کی متعدد ویڈیوز موجود ہیں کہ کس طرح رام کا نام لے کر مسلمانوں کو کھلے عام گالیاں دی گئیں۔ پولیس کے اس رویے نے شرپسندوں کے حوصلے بلند کر دیے۔ ان کے حوصلوں کو رام نومی کے موقع پر ملک کے مختلف علاقوں میں نکالے جانے والے جلوسوں کے دوران مسلم مخالف تشدد اور پولیس کی درپردہ حمایت سے بھی مزید تقویت حاصل ہوئی اور انھوں نے ہنومان جینتی کے موقع پر دہلی میں تشدد کا بظاہر منصوبہ بنا لیا۔ منصوبے کی بات اس لیے سمجھ میں آتی ہے کہ شمال مغربی دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں ایک ہی روز تین بار شوبھا یاترائیں نکالی گئیں۔ پہلی دو یاتراؤں کو پولیس سے اجازت حاصل تھی لیکن تیسری یاترا بغیر اجازت نکالی گئی۔ تیسری یاترا کو جان بوجھ کر مسلم علاقے سے گزارا گیا اور سی بلاک کی ایک مسجد کے سامنے عین افطار سے قبل نہ صرف یہ کہ جلوس روک کر اونچی آواز میں مسلم مخالف نعرے لگائے جاتے اور ہتھیار لہرائے جاتے رہے بلکہ مسجد میں زبردستی گھسنے اور وہاں زعفرانی پرچم لہرانے کی کوشش بھی کی گئی، جس کی متعدد ویڈیوز وائرل ہیں۔ اس کے بعد کیا ہوا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ کس طرح پولیس نے یکطرفہ طور پر مسلمانوں کی گرفتاریاں کیں اور اگر وشو ہندو پریشد کے ایک لیڈر کو گرفتار بھی کیا گیا تو کس طرح اس پر انتہائی ہلکی دفعہ کے تحت رپورٹ درج کی گئی، اس کی تفصیلات میڈیا میں آچکی ہیں۔ بہرحال اس ماہ کی ابتدا سے لے کر اب تک دھرم کے نام پر مسلمانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے کے جو واقعات پیش آئے ہیں اور جس طرح حکومت اور پولیس کا رویہ شرپسندوں کے حوصلے بڑھانے والا رہا ہے، اُس کی روشنی میں یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خاک و خون کا یہ کھیل جلد بند ہونے والا نہیں ہے۔

ان واقعات پر اگر کسی کو سب سے زیادہ تشویش ہے تو ظاہر ہے مسلمانوں کو ہے۔ کیونکہ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ انہیں یہ پیغام دینے کے لیے ہو رہا ہے کہ ہندوستان اب ہندو اسٹیٹ بن چکا ہے اور مسلمانوں کو ہندوؤں کے رحم و کرم پر رہنا ہوگا۔ وہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کر سکیں گے۔ اس صورت حال پر مسلمانوں میں غصہ بھی ہے اور مایوسی بھی ہے۔ اسی کے ساتھ عام مسلمانوں کے اندر دو قسم کی آرا جنم لے رہی ہیں۔ ایک رائے یہ بن رہی ہے کہ مسلمانوں کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ آئین و قانون نے ان کو اپنے دفاع کا حق دیا ہے، لہٰذا ان کو اس حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی حفاظت خود کرنی چاہیے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ آئین و قانون نے ہر شہری کو اپنے دفاع کا حق دیا ہے اور جب حالات بے قابو ہو جائیں اور حکومت و پولیس اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لیں تو اسے اس حق کا استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن اس میں ایک خطرہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے دفاع کا یہ طریقہ کہیں دوسرا رنگ اختیار نہ کر لے۔ یعنی کچھ لوگ جو یہ بات کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ’جیسے کو تیسا‘ کا فارمولہ اپنانا پڑے گا، اس میں خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ اگر مسلمانوں کی جانب سے ایسا کیا گیا تو خطرہ یہ ہے کہ کہیں قانون شکنی نہ ہو جائے۔ یعنی خود حفاظتی اقدامات کو یہ رنگ نہ دے دیا جائے کہ مسلمانوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس لیے بہت سے لوگ اس ’جیسے کو تیسا‘ کے فارمولے کے حق میں نہیں ہیں۔ تشدد کا جواب تشدد سے دینے کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں اس ملک کے قانون اور عدلیہ پر اعتماد رکھنا چاہیے، اس پر سے اپنا بھروسہ ختم نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن بہت سے لوگ عدلیہ کے رویے سے شاکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا تشدد پر بھی عدالت چپ ہے۔ وہ از خود نوٹس لے کر کوئی کارروائی کیوں نہیں کر رہی۔ چیف جسٹس آف انڈیا اس معاملے میں اپنے طور پر کوئی اقدام کیوں نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے بہت بڑے طبقے کو جہاں بعض سیاسی جماعتوں سے شکایت ہے، وہیں چیف جسٹس سے بھی شکایت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملت کے اندر مایوسی کی جو فضا پیدا ہو رہی ہے، وہ اگر بہت دبیز ہوگئی تو پھر معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کمزور اور بے یار و مددگار اور غریب مسلمانوں کے دین و ایمان بھی خطرے میں پڑ جائیں۔ یہ مایوسی اپنے جان و مال کے تحفظ کے تقاضے کے تحت ارتداد کی شکل نہ لے لے۔

اسی کے ساتھ ایک دوسری رائے یہ بن رہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنے جان و مال کی حفاظت کا حق تو ہے لیکن اس حق کے استعمال کے نتائج پر بھی غور کرنا پڑے گا اور اسی کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا پڑے گا کہ قانون کا بہرحال احترام ہونا چاہیے اور کوئی ایسا عمل نہ کیا جائے جس پر قانون شکنی کا لیبل چسپاں ہو جائے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سڑک پر اُترنے کی ضرورت ہے لیکن پُر امن انداز میں۔ انھیں ان سیکولر برادران وطن کو بھی اپنے ساتھ لینے کی ضرورت ہے جو موجودہ صورت حال پر فکرمند ہیں، جو فسطائیت کے خلاف ہیں اور ملک میں امن و امان کے خواہاں ہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ملت کے ذمہ داروں کو خواہ وہ کسی بھی شعبۂ حیات سے متعلق ہوں، سامنے آنا چاہیے اور پہلا قدم یہ اٹھانا چاہیے کہ جنتر منتر یا پھر انڈیا گیٹ پر جمع ہو کر کینڈل مارچ نکالا جائے اور مسلمانوں کے خلاف برپا کیے جانے والے تشدد اور حکومت و پولیس کے رویے کے خلاف احتجاج کیا جائے۔ پہلا قدم خاموش احتجاج کے طور پر اٹھایا جانا چاہیے۔ لیکن یہ کام پولیس کی اجازت سے ہی کیا جائے ورنہ بغیر اجازت احتجاج کے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر صرف مسلمانوں نے ہی یہ قدم اٹھایا تو اس کے خلاف ماحول سازی میں آسانی ہوگی اور شرپسند عناصر کو ایک اور موقع مل جائے گا۔ لہٰذا برادران وطن اور ان کی تنظیموں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر صرف دہلی کے مسلمان بڑی تعداد میں یکجا ہو کر کینڈل مارچ نکالیں اور خاموش احتجاج کریں تو اس کا بھی ایک اچھا پیغام جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو کھرگون جیسے واقعات کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے۔ حالانکہ جمعیۃ علمائے ہند نے اس کی پہل کی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑی تعداد میں پی آئی ایل داخل کی جائیں اور عدالت سے اپیل کی جائے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ حالانکہ عدلیہ کے موجودہ رویے سے کسی خوش گمانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اس کی بھی امید کم ہے کہ عدالت کوئی سرگرمی دکھائے گی لیکن موجودہ صورت حال کو عدلیہ کے ریکارڈ پر لانے کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اس جانب عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ مبذول ہوگی اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ حالانکہ یہ حکومت ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے عالمی الزامات کو مسترد کرتی اور بین الاقوامی اداروں کے دباؤ کو ماننے سے انکار کرتی رہی ہے لیکن خاموش بیٹھ جانا بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مسلمانوں کو بہرحال اُٹھ کھڑا ہونا ہوگا اور حکومت و پولیس کو یہ بتانا ہوگا کہ قانون کے احترام کے ان کے جذبے کو کوئی اور مفہوم نہ پہنایا جائے۔

 [email protected]