’اتحاد میں ہی طاقت ‘، حکومت ہند زور آزمائی کے بعد تھک کر ہار گئی:میر واعظ، ملک

سرینگر// مزاحمتی لیڈروں میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے یک زباں ہو کر کہا ہے کہ جنگ بندی ٹھیک ہے،مگر اس کے بعد آئندہ کیا؟۔ حریت(ع)کے زیر اہتما م ہفتہ شہادت کی تقریبات کے سلسلے میں سمینار بعنوان ’’شہادت کے تقدس کی پاسداری میں قیادت کی ذمہ داری ‘ ‘ حریت صدردفتر پر منعقد ہوا۔ سمینار کی صدارت میرواعظ عمرفاروق نے انجام دی ۔ میرواعظ نے ایک بار پھر دہرایا کہ کشمیر کوئی اقتصادی مسئلہ نہیں ہے،بلکہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے،جس کو بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ قراردادوں کے عین مطابق یا سہ فریقی مذاکرات،جس میں تینوں فریق،ہندوستان،پاکستان اور کشمیر کے لوگ شامل ہوں، کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ میرواعظ نے کہا کہ فوجی طاقت کشمیری عوام کے جائز جذبات اور احساسات کو دبا نہیں سکتی،اور دہلی کو اس بات کا اعتراف کرنا چاہے کہ مسئلہ کشمیر ہی اصل تنازعہ ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ کوئی بھی قدم موثر ثابت نہیں ہوسکتا،جب تک کشمیری عوام کو حکومت ہند اعتماد میں نہیں لیتی۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے بھی کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کی ہے،اور کشمیری عوام ظلم کے اس انتہا کے خلاف برسر جدوجہد ہیں،جو کہ کشمیری معصوم اور امن پسند عوام پر ڈھایا جا رہا ہے۔ شہدائے حول کے علاوہ میرواعظ مولانا محمد فاروق اورخواجہ عبدالغنی لون کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے وہ شہداء کے مشن کی نگہبانی کریں،اور اس کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ان کا کہنا تھا’’کشمیری عوام دہلی کے ظلم وجبر،خوف و ہراس پھیلانے،ہلاکتوں کا سامان پیدا کرنے،گرفتاریوں کے چکر،تشدد اور تلاشیوں کے علاوہ گولیوں اور پیلٹ کا بہادری اور جرتمندی سے مقابلہ کر رہے ہیں‘‘۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہر ایک محاز پر نئی دہلی کی طرف سے آزمائی گئی طاقت کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے این آئی اے،لیڈروں کی گرفتاری،انہیں تہاڑ میں مقید کرنے،احتجاجی مظاہرین کو سنگباز قرار دینے کی کوشش کی،تاہم وہ کشمیری عوام اور لیڈرشپ کے عزم کوحصول مقصد کیلئے جدوجہد سے دستبردار کرنے میں ناکام ہوگئے۔انہوں نے کہا نہ صرف مزاحمتی خیمہ موجودہ جدوجہد کو آگے لئے جانے کیلئے ذمہ دار ہے،بلکہ تمام معاشرہ،جس میں وکلاء،تاجر،کاروباری،ملازمین،اساتذہ کو یکساں ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔میرواعظ نے کہا کہ ہر ایک شہری کو اپنے انداز اور حیثیت کے مطابق مزاحمت کرنی چاہیے۔لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے شہدائے حوال اور شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہد ملت اور شہید حریت نے اتحاد کو ہمیشہ اپنا ہتھیار بنایا ،جب بھی نئی دہلی نے قوم کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہندوستان کی یہ پالیسی ہے کہ کشمیری عوام پر بے تحاشہ تشدد اور مظالم ڈھا کر ان کو تحریک سے دستبردار کیا جائے اور آپریشن آل آوٹ اسی سلسلے کی ایک کھڑی ہے تاہم یہاں کی مزاحمتی سیاسی قیادت اور عوام جس ہمت اور حوصلے کے ساتھ حکومتی عزائم کی مزاحمت کررہے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری عوام کو طاقت کے بل پر زیر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا شہدا کو خراج عقیدت ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے صفوں میں اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے نئی دلی کی جارحانہ پالسیوں کو مقابلہ کیا جائے۔ پروفیسر عبدالغنی بٹ نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حقوق کے حصول کیلئے ایک جائز جدوجہد کررہے ہیں کہ بھارت کی قیادت نے ان سے جو وعدے کئے ہیں وہ وعدے وفا کئے جائیں ۔ بلال غنی لون نے بتایا کہ اجتماعی قیادت کی بات آتی ہے وہاں انفردای سوچ اور فکر کو اجتماعیت کے تابع بنانا قومی مفاد کیلئے لازمی بن جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کل جماعتی نظریے اور کاز کی نمائندگی کرتی ہے اور اس اتحاد کے ساتھ میری اور میری تنظیم کی وابستگی اٹوٹ ہے۔  اس موقعے پر سرکردہ مزاحمتی قائدین اور تجارتی انجمنوں کے ذمہ داران نے موضوع کی مناسبت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں کشمیر چیمبر آف کامرس کے سربراہ جاوید احمد ٹنگہ ، کشمیر اکنامک الائینس کے چیئرمین محمد یاسین خان، معروف سینئر ٹریڈ یونین لیڈر مپت پرکاش اور سید علی گیلانی کے نمائندے حکیم عبد الرشید شامل ہیں جبکہ نظامت کے فرائض مولانا ایم ایس رحمن شمس نے انجام دئے ۔