اب کس پرہے چنار کا سایہ ؟

یوں تو کشمیر کی خوبصورتی میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے درختوں کا اہم کردار ہے تاہم چنار کا درخت اپنی عظمت ، قدوقامت اور حُسن کی وجہ سے اپنا ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔ یہ بہت گھنا ہوتا ہے ، اِس کی شاخیں لمبی لمبی ہوتی ہیں ، پتے بڑے اور انسانی پنجے سے مشابہ ہوتے ہیں۔ یہ عظیم الشان درخت بے ثمر ہوتا ہے مگر اِس کی لکڑی جوہر دار ہوتی ہے۔ شدید ترین گرمی میں اِس کا سایہ تپتے وجود کو فرحت کا احساس دلاتا ہے ۔ اِس کے پتوں کی سرسراہٹ کی آواز انسان کو مدہوش سا کر دیتی ہے ۔ تیز بارش میں یہ اپنے نیچے پناہ لینے والوں کو دس منٹ تک بھیگنے نہیں دیتا ۔ یہ بہت شفیق ، ملنسار اور محبت کرنے والا درخت ہے ۔
یہ عظیم الشان درخت 25 میٹر لمبا اور اِس کی موٹائی 50 فٹ بلکہ کہیں کہیں اِس سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ موسمِ گرما میں جہاں اِس کے بڑے بڑے سرسبز پتے دِل کو موہ لیتے ہیں وہاں موسمِ خزاں میں یہ پتے سُرخ رنگ میں تبدیل ہو کر ایک موقعے پر ایسا نظارہ پیش کرتے ہیں جیسے درخت میں آگ لگی ہو ۔ اِس موسم میں چنار کا درخت ایک عجیب قسم کا نظارہ پیش کرتا ہے جِسے دیکھ کر فطرت شناس لوگ خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
آگئی لو خزاں کی پربت تک
وادیوں میں چنار جلتے ہیں
رات کے وقت قمقموں کی روشنیاں جب چناروں کے پتوں پر پڑتی ہیں تو اُنہیں سُرخ رنگِ زیبائی سے رنگ دیتی ہیں اور مظاہرِفطرت کا نظارہ کرنے والے متحیر نگاہوں سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ چنار کے درخت نے اپنی منفرد پہچان ، خوبصورتی اور عظمت کی بدولت یہاں کے ادب اور شعروشاعری میں بھی اپنا ایک مقام حاصل کیا ہے ۔ شیخ محمد عبداللہ نے بھی اپنی سوانحِ حیات کا نام آتشِ چنار رکھا ہے ۔
یہ درخت کشمیر کی ثقافت کا ایک انمول حصہ ہے ، کشمیر میں اِسے شاہی درخت کے طور پر بھی جانا جاتا ہے ۔ اِس درخت کو میجک آف کشمیر یا جادوئے کشمیر بھی کہتے ہیں ، اِسی لیے تو ڈاکٹر علامہ اقبال جیسے عظیم مفکر نے کشمیری لوگوں کو چنار کے درخت کے ساتھ تشبیہ دے کر کہا ہے:
جِس خاک کے خمیر میں ہے آتشِ چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاکِ ارجمند
عام خیال یہ ہے کہ کشمیر میں چنار کا پہلا پودا 1586ء میں مغلوں کے ریاست پر تسلط جمانے کے بعد سرزمینِ فارس سے لا کر بویا گیا تھا لیکن بعض محققین کہتے ہیں کہ کشمیر میں سب سے پُرانا چنار 1374ء میں لگایا گیا ۔ کشمیر میں صدیوں سے موجود چنار اِس کی شناخت بن چکا ہے۔ افسوس ! انفراسڑکچر کی ترقی کے نئے منصوبوں جیسے سڑکوں کی کشادگی ، سرکاری عمارتوں ، ہوٹلوں ، تجارتی مراکز اور دوسری تعمیرات کے نام پر یا کسی اور بہانے سے کشمیر میں چناروں کو بڑی بے دردی کے ساتھ کاٹا جا رہا ہے۔ محافظینِ ماحول کا کہنا ہے کہ کشمیر ہر سال مجموعی طور پر چنار کے تقریباً سات سو درختوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ چنار کے پودے کو تناور ، جلالی اور سجاوٹی درخت بننے میں ایک صدی لگتی ہے لیکن یہاں درجنوں درختوں کو بغیر کسی پچھتاوے اور جواب دہی کے کاٹ ڈالتے ہیں۔ مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ صرف سرینگر میں درجنوں ایسے چنار ہیں جو متعلقہ حکام کی لا پرواہی یا پھر حکومت کی مجرمانہ خاموشی کے نتیجے میں سوکھ کر رہ گئے ہیں ۔
سیاحت سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ فکر لاحق ہے کہ ماضی میں لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا یہ بلند و قامت درخت اگر اِسی طرح سے کٹتا رہا تو وادیِ کشمیر کے حُسن کا نظارہ کرنے والے یہاں آنا ترک کر دیں گے۔
اے وادیِ کشمیر ، اے وادیِ کشمیر
کشمیر تیرا حُسن ہوا درد کی زنجیر
آنسو ہیں تیری آنکھ میں، پیروں میں زنجیر
قدرت نے چناروں سے کیا تجھ کو مزین
باطل نے بنایا ہے تجھے درد کی تصویر
اے وادیِ کشمیر ، اے وادیِ کشمیر
(مضمون نگار وادی کشمیر کے کم عمر ناول نگار ہے ۔اور راجپورہ شاھورہ پلوامہ سے تعلق رکھتا ہے )
رابطہ ۔9695402379