اب موسم کی جار جیت !

گزشتہ دو روز کے دوران شدید بارشوں اور برفباری کی وجہ سے کشمیر ڈویژن پھر ایک مرتبہ خطرات سے دو چار ہوا ہے ، جسکی وجہ سے عام لوگوں کی نیندیں حرام ہو کر رہ گئی ہیں، کیونکہ سیلاب2014کے اثرات نہ صرف نفسیاتی سطح پر بلکہ زمینی سطح پر ہنوز  موجود ہیں۔ اگر چہ اپریل کے مہینے میںبارشیں ہونا کوئی عجیب بات نہیں، لیکن جس پیمانے پر پانی برسا ہے اور اسکے ساتھ ہی ژالہ باری اور برفباری ہوئی، اُس سے باغبانی شعبہ کو زبردست نقصان سے دو چار ہونا پڑا ہے،کیونکہ اس وقت وادی میں بادام وناشپاتی اور کرگل میں خوبانی کے شگوفے اپنے شباب پر تھے جبکہ باقی میوہ جات کے شگوفے پھوٹنے کا وقت بھی آگیا تھا اور شدید بارشوں اور خاص کر برفباری اور ژالہ باری سے یہ شگوفے بے بیان نقصان کا شکار ہو گئے ہیں، جس سے آئندہ ایام میں ان فصلوں پیداوارسے وابستہ کسانوں کو زبرست مالی مشکلات کا سامنا رہیگا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس بھی بادام ا ور ناشپاتی کی فصلوں کو شدید نقصان ہوا تھا ، جس کی وجہ سے ریاست کو برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوئی تھی، جو بالاخر سماج کے ایک بڑے حصہ کی معیشی حالت دگرگوں کرنے کا سبب بن گیا۔ موجودہ موسمی تبدیلی نے زرعی شعبے کو بھی متاثر کیا ہے اور دیہی علاقوں سے سرسوں کی فصلیں تباہ ہونے کی اطلاع ہیں جو ایک تشویشناک امر ہے۔موجودہ بارشوںنے ہمارے تعمیرو ترقی کے حال کوبھی عریاں کرکے رکھ دیا ہےکیونکہ شہر سرینگر اور قصبہ جات اور اس کے گرد ونواح میں کوئی ایسا علاقہ یا بستی نہیں جہاں سڑکیں بڑے پیمانے پر زیر آب نہ آئیں اور لوگوں کوان ایام میں عبور و مرور کی مشکلات کا سامنا نہ رہا ہو۔ اس صورتحال سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پورے کشمیر میں نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہےاور وقت وقت پر حکومتوں کی جانب سے روبہ عمل لائے گئے کروڑوں روپے مالیت کے پروجیکٹوں کی قلعی کھول کر رہ گئی۔ یہ ایک المیہ ہے کہ21ویں صدی میں بھی حکومت کو سڑکوں اور شاہراہوں پر سے پانی ہٹانے کے لئے فائر سروس کے انجنوں کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت سنجیدگی کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیکر ایک ہمہ گیر پالیسی تیا ر کرے، جس کو شہر اور قصبہ جات سے نکاسی آب کو بڑھتی ہوائی آبادی کی مناسبت سے ترتیب دیکر روبہ عمل لایا جائے۔ کیونکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران حکام کی لاپرواہیوں یا دانستہ پردہ پوشی کے بہ سبب آبادیوں کے بے ہنگم پھیلائو نے بے پناہ شہری مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ اگر آج کے دور میں  اس حالت کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لیا گیا تو یقینی طور پر مستقبل کی صورتحال نہایت ہی خطرناک ہوسکتی ہے۔ موجودہ موسمی خطرات کے بیچ یہ بات نہایت ہی حوصلہ افزاءہے کہ انتظامیہ چوکنا ہونے کا عندیہ دے رہی ہے اور جس طرح دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ کے حوالے سے عوام کو وقت وقت پر اطلاعات فراہم کی جارہی ہیں نیز خطرات کی صورت میں ایمر جنسی شعبوں کے ساتھ رابطہ کرنے کےلئے ٹیلی فون نمبرات بھی فراہم کئے ہیں ، وہ ایک خوش آئند امر ہے۔ یہ صورتحال 2014کے سیلاب میں بالکل غائب تھی۔ حکومت کو اس ساری صورتحال کو ایک ایمر جنسی کے طور پر قبول کرکے لوگوں کو درپیش مشکلات کے ازالہ کے لئے فوری ردعمل کو ممکن بنانا چاہئے اور یقینی طور پر یہ ریاستی حکومت کے لئے امتحان کا وقت ہے، خاص کر ایسے وقت پر جب وادی کی دوپارلیمانی نشستوں پر چند دنوں کے اندر انتخابات ہونے جارہے ہیں، لازمی بات ہے کہ یہ ایک سنجیدہ صورتحال ہے جس میں عوام حکومت کو ضرور آزما ئیں گے۔