آہ !محمد ابراہیم ۔تیرا اندا ز، تیری باتیں مختصر خاکہ

مسعود احمد

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب مجھے پہلی بار روزنامہ ’وادی کی آواز‘ کے دفتر میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ اخبار کے مالک اور ایڈیٹر مرحوم غلام نبی شیداؔ سے ملاقات کے بعد جونہی میں کمرے سے باہر نکلا تو ایک گول مٹول اور درمیانے قد والے شخص کا سامنا ہوا ۔ چونکہ کئی بار میں نے اس کو پریس کالونی میں دیکھا تھا مگر کبھی اُن سے بات نہیں ہوئی تھی ۔ اب جبکہ میں ’وادی کی آواز‘ سے منسلک ہوا تو وہیں پر ان کا باضابطہ تعارف محمد ابراہیم قریشی کے طورہوا ۔ روز شام کے قریباً پانچ بجے دفتر آتے تھے اور رات کے گیارہ بارہ بجے گھر واپس چلے جاتے تھے ۔اب ابراہیم صاحب سے روز کا تعلق تھا ، ان کی شخصیت مجھ پر کھلنے لگی ۔ ابراہیم کو دور سے آتے دیکھنا ایک عجیب سے تجربہ ہوتا تھا، سر کو دائیں بائیں ہلا کر چلنا ، ہر کسی سے مسکراتے ہوئے بات کرنا اور کسی بات پر بحث کو طول دینے میں انہیں ید طولیٰ حاصل تھا، خودداری کوٹ کوٹ پر بھری ہوئی تھی، غلط کو غلط اور سچ کو سچ کہنے کی ہمت تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس نے کبھی بھی اپنے فائدے کے لئے جھوٹ کا سہارا نہیں لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی اس نے کام کیا وہاں اسے عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا ۔ بحث و مباحثے میں حصہ لینا اس کا مشغلہ بن چکا تھا ۔
اخبار مکمل ہونے کے بعد وہ اس کی پروف ریڈنگ کرتے تھے۔ پروف ریڈنگ میں انہیں کمال حاصل تھا۔ کئی مہینوں کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ وہ سرکاری ملازمت بھی کرتے ہیں ۔ مرحوم شیداؔ صاحب کو محمد ابراہیم پر اتنا بھروسہ تھا کہ وہ دفتر کا سارا کام کاج چھوڑ کر کئی دنوں تک دفتر سے غیر حاضر رہتے تھے اور اس دوران ابراہیم صاحب ہی دفتر کا سار اکام کاج سنبھالتے تھے ۔ شیدا ؔ صاحب اور ابراہیم صاحب کا ایک ایسا رشتہ بن چکا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بنا ءاپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتے تھے ۔ میں نے کئی بار انہیں ایک دوسرے سے کسی بات کو لے کر اُلجھتے ہوئے دیکھا ، دونوں ایک دوسرے سے بات کرنا تک چھوڑ دیتے تھے تاہم یہ سلسلہ بس چند دنوں تک رہتا تھا ۔ ابراہیم صاحب کم از کم ہفتے میں ایک دو بار اپنے گھر سے شیداؔ صاحب کے لئے کھانا لاتے تھے۔
شیداؔ صاحب کے کہنے پر ہی محمد ابراہیم نے موقر انگریزی روزنامہ ’گریٹر کشمیر‘ جوائن کر لیا اور اردو ایڈیشن ’ کشمیر عظمیٰ ‘ میں بطور پروف ریڈر تعینات ہوئے ۔ چونکہ وہ شروع ہی سے ذیابطیس کے مریض تھے ۔ اگرچہ تواتر کے ساتھ علاج بھی کرتے تھے لیکن دن بدن ان کی طبیعت بگڑتی رہی ، آنکھوں کی روشنی کافی حد تک متاثر ہوئی، جس کے بنا پر انہیں گریٹر کشمیر کی نوکری چھوڑ دینی پڑی ۔ ہفتے میں دو بار ڈائلیسیس کرانی پڑتی تھی، اُن کی اہلیہ شگفتہ ( شگفتہ باجی) اور اس کے فرزند ولید نے محمد ابراہیم کی اتنی خدمت کی جو آجکل دیکھنے میں بہت کم ملتی ہے ۔ اس کی تیمارداری کا فرض اُس کے فرزند ولید نے ایک سعادت مند بیٹے کی طرح
نبھایا ۔ جب بھی میں ان سے ملنے یا عیادت کے لئے اُن کے گھر جاتا تھا تو پہلی بات یہی کہتے تھے کہ میرا بیٹا سارا کام کاج چھوڑ کر میری تیمار داری میں لگا ہواہے۔ اگرچہ پروف ریڈنگ میرے حساب سے بیزار کن عمل ہے تاہم ابراہیم صاحب کے لئے یہ ایک ’روحانی غذا‘ بن چکا تھا ۔میں سمجھتا ہوں کہ پروف ریڈنگ نے ان میں اتنی قوت ِبرداشت پیدا کی تھی جوزندگی کے آخری دن تک وہ اسی قوت برداشت کے ساتھ بیماری سے نبردآزمارہے اور ۲۵؍ نومبر کی اُبھرتی صبح یہ خبرملی کہ وہ یہ دنیا ہی چھوڑ کر چلے گئے ۔ المختصر،اُن کی وضع قطع ،ان کے سوچنے ،لکھنے اور بولنے کے انداز میں جو اعتدال تھا ،وہ آج کل کم دیکھنے میں آتا ہے۔انہوں نے اپنی تمام حیثیتوں میں نہایت کامیاب زندگی گزاری ۔اپنے گھر میں وہ شفقت و محبت کا پیکر تھے ،گھر سے باہر وہ ایک ذمہ دار اور آخرت کو نہ بھولنے والے فرد تھے۔