آن لائن گیمز کا بڑھتاہوا مُہلک رُجحان بچوں کی صحت اور شخصیت متاثر کرنے کا ذمہ دار کون؟

 ندیم خان، بارہمولہ

دنیا بھر میں جسمانی سرگرمیوں کے بجائے آن لائن گیمز کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ نہ صرف نوجوان بلکہ چھوٹے بچے بھی اسمارٹ فونز میں آن لائن گیمز کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ آن لائن گیمز کی بُری عادت بچوں میں نفسیاتی، جسمانی و سماجی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ گیم کو گیم سمجھنا فائدہ مندہے مگر حقیقت سمجھ لینا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ہر سو افراتفری کی کیفیت ہے،تو کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اپنے یا اپنے ساتھ جڑے افراد کی روزمرہ کی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرے۔ آج کی بڑھتی ٹیکنالوجی، نت نئی ایجادات، اُبھرتی ہوئی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور آن لائن رسائی بلاشبہ ہر گھرانے میں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پوری دنیا کے ایک ہاتھ میں سما جانے کے بعد انسان کے سامنے دو راستے کھل گئے ہیں یا تو وہ ان سہولیات کامثبت استعمال کرے یا ان کا بے جا اور منفی استعمال کرکے اپنی زندگی ناکام اور نقصان دہ بنا لے۔آن لائن ویڈیو گیمز یا الیکٹرانک گیمز کا حد درجہ استعمال اور ان کے منفی اثرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیںاور یہ مسئلہ پوری دنیا میں موجود ہے۔ بچوں میں حد سے بڑھتا ہوا ویڈیو اور آن لائن گیمز کا شوق ،ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں میں نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ بچوں میں آن لائن گیمز کا شوق اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اچھے اور بُرے کی تمیز کئےبغیر وہ اس ٹرینڈ کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ آن لائن گیمز کی عادت ذہن کو اس حد تک بھی خراب کرسکتی ہے، کہ انہیںپُرتشدد آن لائن گیمز کی صورت میں دوسروں کو قتل کرنے، ان کی املاک تباہ کئے جانے میں بھی لطف آتا ہے۔ اکثر یہ سلسلہ صرف گیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایسی گیمز کی عادت سے نوجوان اور بچے خودسَر ہوکر نشے اوربُرائیوں کی لت میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جرائم کے نت نئے طریقے سیکھ لیتے ہیں۔ یہ گیمز لوگوں کو تشدد اور مار دھاڑ کے طریقے بھی سکھا رہے ہیں۔ ’فری فائر‘ اور’ پب جی‘ کی وجہ سے بھی کئی واقعات رونما ہوئے ہیں، کہیں نوجوان لڑکوں نے پب جی کھیلنے سے منع کرنے پر خودکشی کرلی تو کہیں کسی نے حقیقی زندگی کو ہی ’پب جی‘ سمجھ کر اپنے ہی گھر والوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ تشدد پر اُکسانے، ڈپریشن، خودکشی کا رحجان پیدا کرنے اور قتل کی وجہ بننے والے گیمز’ پب جی‘،’ فری فائر‘ اور دیگر آن لائن گیمز کے منفی اثرات کی لمبی داستان ہے۔
دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ معصوم ہے، اس نے وہی سب سیکھنا ہے جو اس کے والدین یا اِرد گرد کے دیگر افراد اسے سکھائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ معصوم بچہ کس طرح نفسیاتی چیلنجز دینے والی ویڈیو گیمز کا شکار بنتا ہے؟ اسکے اصل قصور وار والدین خود ہیں، جو آغاز ہی سے چھوٹے بچوں کو موبائل فون یا ویڈیو گیمز مہیا کر کے مصروف رکھتے ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ بعدہی جب بچہ ان چیزوں کا استعمال خود کرنے لگے تو فخر اور خوشی سے اسے بچے کی ذہانت سمجھتے ہیں کہ چھوٹی سی عمر میں انکا بچہ ٹچ موبائل میں گیم کھیلنےکا ماہر ہو چکا ہے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ نو عمر بچے میں پیدا ہوئی ویڈیو گیمز کی عادت بعد میںاس کی پہلی ترجیح بن جاتی ہے۔گویا پہلی غلطی والدین کی ہوتی ہے کہ انھوں نے بچوں کیلئے دیگر صحت مند سرگرمیوں پر ویڈیو گیمز کو ترجیح دی اور دوسرا بچوں کی ہٹ دھرمی بھی گیمز کو اپنی ترجیح بنا لیتے ہیں۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ایک مکمل اور کامیاب شخصیت کی تعمیر میں متعدد عوامل درکار ہوتے ہیں، جن میں جسمانی، ذہنی، روحانی ،نفسیاتی، معاشرتی اور جذباتی عوامل شامل ہے۔ مگر مثالی شخصیت وہی ہے جس میں ان تمام عوامل میں توازن موجود ہو۔ یونیورسٹی آف وسکانسن کے محقق شان گرین کے مطابق ویڈیو گیمز انسانی شخصیت کو تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ ویڈیو گیمز کے استعمال کی نیچر ہی انسان کی شخصیت اور ذہنی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات کا تعین کرتی ہے۔ جہاں یہ گیمز ذہن کو تیز اور چست بنا سکتی ہے وہیں ذہن کو ناکارہ بھی کر سکتی ہیں۔ اسی طرح 2019 میں آسٹریلیا میں ویڈیو گیمز کے بچوں کی ذہنی نشوونما پر اثرات کے حوالے سے جامع تحقیق کی گئی، جس میں دیکھا گیا کہ حدسے زیادہ آن لائن گیمز کھیلنے والے بچوں کے دماغ میں عجب سی کشمکش پیدا ہوتی ہے، ان کے ذہنوں میں احساس محرومی اور انتقام لینے کی خواہشات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والی تحقیق میں یہ پایا گیا کہ جو بچے روزانہ ایک گھنٹے سے کم ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ دیگر بچوں کی نسبت معاشرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں، لیکن جو بچے روزانہ پانچ گھنٹے سے زیادہ ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ مجموعی طور پر اپنی زندگی سے کم مطمئن ہوتے ہیں۔ 2018ء میں یونیورسٹی آف پٹسبرگ کے انسٹیٹیوٹ آف کینسر نے انتباہ جاری کیا تھا کہ موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال کرنے والے بچوں میں کینسر کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کے مطابق موبائل فون سے خارج ہونے والی برقناطیسی شعاعیں بالغوں کے مقابلے بچوں کے دماغ میں زیادہ دور تک دُھنس سکتی ہیں۔ اسی لئےآج ہر دوسرے بچے کو نظر کی عینک لگی دکھائی دیتی ہے۔ نظر کی خرابی کوئی وبائی مرض نہیں بلکہ یہ انسان کا خود پیدا کردہ مسئلہ ہے، جس میں سب سے بڑا کردار موبائل فون اور الٹرانک گیجٹز کے بے جا استعمال کا ہے۔ ماہرین صحت بچوں کے ویڈیو گیمز کے زیادہ استعمال کو تشویش ناک قرار دیتے ہیں۔ انکے مطابق ویڈیو گیمز کا بے جا استعمال بچوں میں کلائی، گردن اور کہنی میں درد، نیند کی کمی اور خرابی، موٹاپا، کمزوری یا ہاتھوں میں بے حسی (Peripheral Neuropathy) کا باعث بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ جب بچے گیمز کھیلنے سے قاصر ہوں تو بے چینی اور چڑچڑے پن کا احساس، پچھلی کھیلی گئیں گیمز کے بارے میں خیالات یا اگلے آن لائن سیشن کی توقع کے ساتھ دلچسپی رکھتے ہیں، گھریلو معاملات سے دور ہو جاتے ہیں اور بلا خوف و خطر والدین سے جھوٹ بولنے لگتے ہیں۔
آج المیہ یہ ہے کہ غیر نصابی سرگرمیوں کو نصابی تعلیم پر ترجیح دے دی گئی ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ کھیل کود بلاشبہ زندگی کا ضروری حصہ ہیں، مگر انکے کیلئے تعلیم کو قربان کر دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ آج ویڈیو گیمز کے شوقین بچے تعلیم کو بھلا کر گیمز میں ہی اپنی زندگی بسا چکے ہیں۔ رات کو دیر تک جاگنے والا بچہ صبح تعلیمی سرگرمیوں میں کبھی ایکٹیو نہیں رہ سکتا اور سکول کے اوقات میں بھی یا گیمز کھیلتا رہتا ہے یا گیمز کے بارے میں سوچتا ہے۔ گزشتہ سالوں میں تین ایسی بڑی آن لائن گیمز کا نام غالباً سب نےسُنا ہوگا جو دنیا میں غلبہ رکھنے کے ساتھ نہایت متنازعہ رہی تھیں، ان میں ایک ہے ’’پب جی‘‘ دوسری ہے ’’بلیو ویل‘‘ اور تیسری ہے ’’فری فائر‘‘۔ ان تینوں گیمز کو بھارت سمیت دیگر کئی ممالک میں کچھ وقت تک پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ یہ گیمز انٹرٹینمنٹ سے زیادہ لوگوں بالخصوص بچوں میں نفسیاتی مسائل پیدا کر رہی تھیں، بھارت سمیت پوری دنیا میں ان گیمز کی خاطر کئی بچوں اور نوجوانوں نے اپنی زندگی تک کا خاتمہ کیا۔ لہٰذا آن لائن گیمز کی بے ہنگم عادت ذہن کو اس حد تک بھی خراب کر سکتی ہیں، اسی طرح ان پر تشدد آن لائن گیمز کی صورت میں دوسروں کو قتل کرکے انکی املاک تباہ کیے جانے کا لطف اُٹھایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ صرف گیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایسی گیمز کی عادت سے نوجوان اور بچے نشے اور برائیوں کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جرائم کے نت نئے طریقے سیکھ لیتے ہیں، یہ گیمز لوگوں کو تشدد کرنے اور مار دھاڑ کے منفرد ہنر بھی سکھا رہی ہیں۔
بچوں میں آن لائن اور ویڈیو گیمز کی بڑھتی ہوئی عادت کو ختم کرنے کا حل یہ نہیں کہ گیمنگ پر پابندی لگا دی جائے، جس کے باعث ہم ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جائیںاور بچوں کی انٹرٹینمنٹ ختم ہو جائے، بلکہ اسکا حل ٹھوس پلاننگ میں چھپا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہم چین کی لے سکتے ہیں، کچھ سال پہلے چین نے بچوں کے آن لائن گیم کھیلنے پر کرفیو سا ماحول عائد کر رکھا تھا، یعنی کہ ویڈیو گیم کھیلنے کے لیے اوقات کو کم کر دیا تھا۔ ان پابندیوں کے تحت 18 سال سے کم عمر بچے رات 10 بجے سے صبح 8 تک آن لائن گیم نہیں کھیل سکتے، جب کہ دن کے اوقات میں بھی انہیں صرف 90 منٹ آن لائن گیم کھیلنے کی اجازت ہوتی تھی۔ اسی طرح 16 سال سے کم عمر بچے آن لائن گیمنگ پر ماہانہ صرف 28 ڈالر تک خرچ کر سکتے ہیں، جب کہ 18 سال یا اس کے بڑی عمر والوں کے لیے یہ حد 56 ڈالرز ماہانہ رکھی گئی تھی۔ اسی طرح آن لائن گیم کھیلنے والے تمام افراد کو اپنے اصل نام سے رجسٹریشن کرانا ضرروی تھا۔ لہٰذا آن لائن گیمنگ کے منفی اثرات کو کم کرنے ، بچوں کو انکی عادت پڑنے سے بچانے کیلئے حکومتی سطح پر ایسی ٹھوس حکمت عملی بھارت میں بھی اپنائی جا سکتی ہے۔
بچوں کو گیمنگ کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری والدین کی ہے، اُنہیں چاہیے کہ بچوں کی گیمنگ کا ٹائم ٹیبل بنائیں، جس میں گیمنگ کے اوقات کو بتدریج محدود کیا جانا چاہیے۔ بچوں کو کھیل کود اور دوسرے صحت بخش سرگرمیوں میں مشغول کر دینا چاہیے۔ نرمی یا سختی سے ہر صورت میں بچوں کو ان سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بچوں کو گیمز کھیلنے کے لئے مناسب شیڈول بنانا چاہئے۔ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ بچے زیادہ وقت فطرت کے ساتھ اسکرین کے بغیر گزاریں یعنی انکو ویڈیو گیمز کے متبادل کھیل اور دوسری سرگرمیاں مہیا کی جانی چاہئے۔ بچوں کو ٹیکنالوجی سے دور کر دینا ہر گز حل نہیں بلکہ ان کو ٹیکنالوجی کا مثبت اور موثر استعمال سکھانے کی ضرروت ہے، بچوں کو ایسے مشاغل کی طرف راغب کرنا چاہیے جس میں وہ کمپیوٹر کو سیکھیں اور خود نئے نئے پروگرامز کو ڈیزائن کرسکیںاورکسی بھی جسمانی سرگرمی، کوکنگ، کھیل کے حوالے سے انہیں یوٹیوب چینل شروع کرنے کی طرف بھی راغب کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ بھی والدین کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔ اسی طرح بچے اگر گیمز کھیلنے سے زیادہ وقت اپنے گھر والوں بالخصوص بہن بھائیوں کے ساتھ گزاریں تو اسکے بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اگر بچہ صرف گیمز کی طرف لگا رہے تو اس کیلئے فیملی بھی کہیں Misplaced Priority بن جاتی ہے۔ لہٰذا بچوں کے ساتھ بات چیت میں اضافہ کرنا چاہیے تاکہ وہ گھریلو معاملات میں زیادہ دلچسپی لیںاور ان کا خود پر گھر والوں سے تعلقات کے حوالے سے اعتماد پختہ ہوسکے۔
رابطہ/ 6005293688
[email protected]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔