آصفہ قتل معاملہ :جموں میں طلباءوسماجی تنظیموں کے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے ،وفدصوبائی کمشنرسے ملاقی، میمورنڈم پیش ،جوڈیشل تحقیقات کی مانگ

 طارق ابرار
 
جموں//کٹھوعہ کے ہیرانگرعلاقہ میں چندروزقبل درندہ صفت افرادکی جانب سے آٹھ سالہ آصفہ بانونامی بچی کے قتل کے معاملہ کوکیخلاف ریاست بھرکے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے ۔یہاں جموں شہرمیں پریس کلب جموں کے باہراورجموں یونیورسٹی کے باہرالگ الگ مظاہرے کئے گئے اوربعدازاں شاہنوازچوہدری کی قیادت میںوفدنے ڈویژنل کمشنرجموں کے ساتھ ملاقات کرکے مطالبات پرمبنی میمورنڈم پیش کرتے ہوئے آصفہ بانوقتل معاملے کےلئے جوڈیشل تحقیقات کامطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق پریس کلب جموںکے باہرگوجربکروال طبقہ کے سماجی کارکنان کی جانب سے گذشتہ روز پولیس لاٹھی چارج میں زخمی افرادکے ہمراہ احتجاج کیاگیا۔اس دوران مظاہرین کی قیادت زاہدپروازچوہدری ودیگرمظاہرین نے کرتے ہوئے پی ڈی پی ۔بی جے پی حکومت کی پسماندہ طبقہ کے لوگوں کے تئیں پالیسیوں کےلئے نکتہ چینی کی اورمعصوم آصفہ کے قاتلوں کوکیفرکردارتک پہنچانے کاپرزورمطالبہ کیا۔ اس دوران مظاہرین نے ہیرانگرمیں پرامن مظاہرین پرپولیس کے لاٹھی چارج کی بھی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی اورپولیس پر ملزمان کوبچانے کاالزام لگایا۔علاوہ ازیں جموں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلباءنے جموں یونیورسٹی سے احتجاجی ریلی نکالی جوبکرم چوک تک گئی ۔اس دوران مظاہرین میں ریاستی جنرل سیکریٹری پردیش کانگریس کمیٹی شاہنوازچوہدری ،این ایس یوآئی کارکنان اوردیگرسماجی تنظیموں کے عہدیداران وطلباءکی کثیرتعدادشامل تھی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شاہنوازچوہدری نے حکومت پر آصفہ کے قاتلوں کی حمایت کاالزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ اگرحکومت نے جلدازجلد متاثرہ کنبہ کوانصاف نہیں دیاتو ریاست کے حالات مزیدخراب ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرکی پی ڈی پی بی جے پی حکومت ظلم وجبرکی پالیسیوں پرعمل پیراہے ۔انہوں نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے مطالبہ کیاکہ وہ آصفہ کے قاتلوں کوسخت سے سخت سزادینے کےلئے اقدامات اٹھائیں ۔اس دوران جموں یونیورسٹی کے طلباءنے آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانوکے ساتھ پیش آئے دل سوز اور وحشیانہ واقعہ کوانسانیت سوزقرادیتے ہوئے اس سانحے میں ملوث درندہ صفت افراد کوعبرتناک سزادینے کی مانگ کی۔ڈویژنل کمشنرجموں سے ملاقات کے دوران وفدنے چارمانگیں جن میں جوڈیشل تحقیقات(ہائی کورٹ کے جج کے ذریعے ) ، وقت مقررہ کے اندرتحقیقات کی تکمیل ، طالب چودھری کی رہائی، سماجی کارکنان کیخلاف درج ایف آئی آرواپس لینے وغیرہ سامنے رکھیں۔ڈویژنل کمشنرنے یقین دہانی کرائی کہ وہ حکومت اورمتعلقہ حکام کے ساتھ اس سلسلے میں بات کریں گے اورمتاثرین کوانصاف دلایاجائے گا۔قابل ذکرہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرا نگر میں گذشتہ ہفتے ایک آٹھ سالہ کمسن بچی آصیفہ بانوجووالدین کی اکلوتی اولادتھی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیاجس کی لاش گزشتہ بدھ کے روز دھمال کوٹاموڑگاﺅںکے نزدیک جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی،جس کے بعدریاست بھرکے مختلف اضلاع میں آصفہ کے قاتلوں کوسزادلانے کی مانگ کولے کرپرزورمظاہروں کاسلسلہ ہنوزجاری ہے۔بتایاجاتاہے کہ اتوارکی شام پولیس کی طرف سے کوٹاموڑ ہائی وے پرمظاہرین پرلاٹھی چارج سے متعددسماجی کارکنان بشمول واجدکھٹانہ،اویس احمد،رفاقت اعجاز۔نزاکت کھٹانہ سمیت شدیدزخمی ہوئے ہیں اورطالب چوہدری نامی سماجی کارکن کوپولیس نے حراست میں لے رکھاہے۔
 

ذوالفقارچوہدری اورعبدالغنی کوہلی پرتنقید

جموں//وزیربرائے قبائلی اموراور پشو،بھیڑومچھلی پالن کہاں ہیں؟۔آصفہ کے قاتلوں کوسزادینے کی مانگ کی آواز جہاں ریاست بھرسے بلندہورہی ہے وہیں یہ آواز یں گوجربکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے دووزراءیعنی وزیربرائے قبائلی امور ذوالفقارچوہدری اوروزیرپشو، بھیڑومچھلی پالن عبدالغنی کوہلی کوسنائی نہیں دے رہی ہے۔سماجی کارکنوں کی جانب سے گوجربکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والے وزراءکی بے حسی پرچوطرفہ تنقیدکی جارہی ہے ۔سماجی کارکنان کی طرف سے حیرت کااظہارکیاجارہاہے کہ خانہ بدوش گوجربکروالوں کے ووٹوں سے قانون سازبننے والے افرادکی غیرت آصفہ بانوکے دلدوزواقعہ کے بعدابھی تک نہیں جاگی ہے ۔سوشل میڈیا کی تنقیدایک طرف،انسانیت کے ناطے یہ غوروفکرکامقام ہے کہ دونوں وزراءکس قدربے حسی کامظاہرہ کررہے ہیں ۔وسیم نامی ایک نوجوان کاکہناہے کہ افسوس ہے کہ وزیربرائے قبائلی امورذوالفقارچوہدری اس دلدوزسانحے پربھی خاموش ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ان کامحکمہ ہی قبائلی لوگوں کی ترقی اورمسائل کوحل کرناہے لیکن اس مشکل گھڑی میں گوجربکروال طبقہ کے تئیں وہ کس قدرہمدردی رکھتے ہیں کاثبوت مل گیاہے اوریہ تاثرپیداہورہاہے کہ ان وزراءکے پاس ،انسانیت سے ہمدردی رکھنے والادِل ہی نہیں ہے۔
 

جے این یووجامعہ ملیہ کے طلباءسراپااحتجاج

جموں//جواہرلال نہرویونیورسٹی دہلی اورجامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیرتعلیم جموں کشمیرکے طلباءنے جے کے بھون دہلی کے باہر کٹھوعہ کی آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ کے قاتلوں کوسزادینے کی مانگ کولے کراحتجاجی ریلی نکالی اورریزیڈنٹ کمشنرجموں وکشمیرکومیمورنڈم پیش کیا۔تفصیلات کے مطابق جے این یواورجامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں زیرتعلیم جموں وکشمیرسے تعلق رکھنے والے طلباءجے کے ہاﺅس کے باہرجمع ہوئے اورآصفہ بانوکے قتل کیخلاف مظاہرہ کرتے ہوئے قاتلوں کوسخت سزادینے کی مانگ کی۔اس دوران سینکڑوں طلباءکے ہجوم نے تغلق روڈکوبندکیاجس پر دہلی پولیس نے مظاہرین پرلاٹھی چارج کیاجس میں متعددطلباءزخمی ہوئے اورمتعددکوگرفتارکیا۔ اس دوران مظاہرین جموں کشمیرپولیس ۔ہائے ہائے۔جموں کشمیرگورنمنٹ ہائے ہائے کے نعرے بلندکررہے تھے۔ انہوں نے گوجرلیڈرطالب حسین کی رہائی اورقتل معاملہ کی جوڈیشل تحقیقات کامطالبہ کیا۔ اس دوران مظاہرین میں جے این یوطلباءیونین لیڈران تعارف سہیل، اشتیاق شوق، حیبہ احمد، مقصوداحمد وغیرہ قابل ذکرہیں۔
 

پولیس حقائق کی پردہ پوشی کررہی ہے:مسلم پرسنل لاءبورڈ

جموں //مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے صوبائی صدر اور ادارہ اسلامیہ فاطمةالزہرا کے سرپرست مفتی نذیر احمد قادری نے معصوم آصفہ کی عصمت دری اور قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پولیس کے رول پرتشویش کااظہارکیاہے۔یہاں جاری پریس بیان میں مفتی نذیراحمدقادری نے کہاکہ پولیس کارول مبہم ہے اورحقائق کی پردہ پوشی کی جارہی ہے جس کامقصد کلیدی ملزمان کوبچاناہے۔انہوں نے کہاکہ اس قتل میں ہیرانگرپولیس ملوث ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک اکیلا پندرہ سالہ لڑکا آٹھ دن تک بچی کو اپنی حراست میں کیسے رکھ سکتا ہے پولیس نا ممکن کو ممکن بنا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوںنے مزید کہا کہ گزشتہ روز پرامن احتجاج کرنے والے افراد پر لاٹھی چارج کی بھی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ عوام کوئی بھیک نہیں مانگ رہی ہے بلکہ اپنا حق مانگ رہی ہے ۔انتظامیہ اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے اس قسم کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ پ±رامن مظاہرین پرلاٹھی چارج کا کوئی جوازنہیں بنتا ۔مفتی نذیر احمد قادری نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آصفہ کے قتل میں ملوث افراد کو فوری طور گرفتار کر کے کیفرکردارتک پہنچایاجائے تاکہ ریاست کے حالات مزید خراب نہ ہوں۔
 

غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیئے:گلزاروانی

جموں/ایم ایل اے شانگس گلزار احمد وانی نے رسانا گاوں ہیرانگرکادورہ کرکے آصفہ کے والدین کے ساتھ تعزیت کااظہارکیا۔ اس دوران وانی نے حکومت سے پرزورمانگ کی کہ وہ آصفہ کے قاتلوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کےلئے اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ آصفہ قتل معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیئے اورانسانی ہمدردی کی بنیادوں پرملزمان کیخلاف کارروائی عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ جب تک ملزمان کوسزانہیںدی جائے گی تب تک ایسے گھناﺅنے جرائم انجام دیئے جاتے رہیں گے۔انہوں نے گوجرلیڈرطالب چوہدری کورہاکرنے کابھی مطالبہ کیا۔اطلاعات کے مطابق گلزاروانی ہیرانگرتھانے میں طالب چوہدری سے ملاقات کرنے بھی پہنچنے لیکن پولیس حکام نے انہیں ملنے کی اجازت نہیں دی۔
 

پولیس حقائق پرپردہ ڈال رہی ہے:ایڈوکیٹ ظفراقبال

نیوز ڈیسک
 
جموں//نیشنل کانفرنس لیڈروسماجی کارکن ایڈوکیٹ ظفراقبال نے ہیرانگرمیں آٹھ سالہ بچی کے ریپ اوراس کے قتل کے واقعہ اورہیرانگرمیں پرامن مظاہرین پرلاٹھی چارج کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ملزمان کوعبرتناک سزادینے کاپرزورمطالبہ کیاہے۔یہاں جاری پریس بیان میں نیشنل کانفرنس لیڈر ایڈوکیٹ ظفراقبال نے کہاکہ پولیس اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ثابت ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ سات دن میں پولیس نے لاپتہ لڑکی کوتلاش کرنے کےلئے ٹھوس کارروائی عمل نہیں لائی گئی جس کے نتیجے میں درندہ صفت افرادنے یہ گھناﺅناجرم انجام دینے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے کہاکہ پولیس اپنی ناکامی کوچھپانے کےلئے مظاہرین پرلاٹھی چارج کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ مقتولہ کےلئے انصاف کامطالبہ کرنے والوں پرلاٹھی چارج جمہوریت کے برعکس اورقابل مذمت ہے۔انہوں نے کہاکہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ملزمان کوسخت سے سخت سزادینے کاپرزورمطالبہ کیا۔
 

حکومت بلاتاخیرملزمان کوعبرتناک سزادے :مسلم ایکشن کمیٹی 

جموں// مسلم ایکشن کمیٹی نے حکومت سے ہیرا نگر کے رسانا گاو¿ں میں آٹھ سالہ بچی کے قتل میں ملوث افرادکوکیفرکردارتک پہنچانے کامطالبہ کیاہے۔مسلم ایکشن کمیٹی کی ٹیم نے گذشتہ روزہیرانگرکے رساناگاﺅں میں پہنچ کرآصفہ کے لواحقین کے ساتھ ملاقات کی۔یہاں جاری پریس بیان میں مسلم ایکشن کمیٹی کے سرپرست سرتاج شریف نے کہاکہ حکومت کی طرف سے معصوم بچوں کوقاتلوں کوکیفرکردارتک پہنچانے میں برتی جارہی غفلت پوری انسانیت کےلئے تشویش ناک ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کومزیدتاخیرکیے بغیر جوڈیشل تحقیقات کروانی چاہیئے اورجلدازجلد ملزمان کوعبرتناک سزادینی چاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ ایسے خوفناک جرائم تب تک نہیں رکیں گے جب تک گھناﺅنے جرائم انجام دینے والوں کوسخت سزانہیں دی جائے گی۔کمیٹی کے عہدیداران نے اس معاملے پرحکومت کی خاموشی پرتشویش کابھی اظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ اتنے دردناک سانحہ کے باوجودحکومت میں بیٹھے عہدیداران خاموش تماشائی بنے ہیں جوکہ نہایت ہی شرمناک بات ہے۔