آسٹریلیا کا بھی روسی سفارتکاروں کو نکالنے کا فیصلہ

 سڈنی//آسٹریلیا نے انگلینڈ میں رہ رہے سابق روسی جاسوس سرگئی اسکرپل اور ان کی بیٹی کو قتل کرنے کے لئے فوجی زمرے کے نرو ایجنٹ استعمال کرنے کے معاملہ میں روس کے دو سفارت کاروں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے آج ایک بیان جاری کرکے اس بات کی اطلاع دی۔ مسٹر ٹرنبل نے اپنے بیان میں کہا کہ برطانیہ اور اس کے شراکت داروں کی طرف سے اٹھائے گئے قدم کی حمایت کرتے ہوئے آسٹریلیا نے روس کے دو سفارت کاروں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے .مسٹر ٹرنبل نے کہا کہ دو روسی سفارت کاروں کی شناخت غیر اعلانیہ انٹیلی جنس حکام کے طور پر کی گئی ہے اور آسٹریلیا کی حکومت نے ویانا معاہدہ کے مطابق ان دو سفارتکاروں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سے قبل پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی نرو ایجنٹ کے استعمال کے معاملے میں 60 روسی سفارتکاروں کو نکالنے کا حکم دیا۔قابل غور ہے کہ چار مارچ کو جنوبی انگلینڈ کے سیلسبري میں روس کے ایک سابق جاسوس سرگئی اسکرپل اور ان کی بیٹی یولیا کو زہر دے کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ برطانیہ نے الزام عائد کیا کہ ان کو مارنے کے لئے روس میں تیارے نرو ایجنٹ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ روس مسلسل اپنے اوپر لگ رہے الزامات کو مسترد کر رہا ہے ۔رائٹر