آر پار فوجی مریں یا شہری،ہیں تو انسان ہی

 سرینگر//حریت (گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے لائن آف کنٹرول پر جاری گولہ باری اور اس کے نتیجے میں دونوں طرف ہورہی انسانی زندگیوں کے اتلاف پر گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تنازعہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ کا خطرہ بدستور قائم رہے گا اور دونوں ممالک کے ایٹمی پاور ہونے کی وجہ سے یہ جنگ انتہائی تباہ کُن اور خطرناک ثابت ہوگی۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کنٹرول لائین پر کشیدگی جاری رکھ کر کشمیر مسئلے کی اصل حقیقت کو پسِ منظر میں دھکیلا جارہا ہے تاکہ اس کو ایک سرحدی تنازعے کے طور پر پیش کرکے عالمی برادری کو گمراہ کرکے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں سے توجہ ہٹائی جاسکے۔ گیلانی نے اس بات پر افسوس اور رنج وغم کا اظہار کیا کہ گولہ باری کے نتیجے میں دونوں طرف سے انسانی جانوں کا ہی زیاں ہوتا ہے چاہے وہ نہتے عام انسان ہوں یا فوجی اہلکار۔ یہ سلسلہ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں ،ایک معمولی چنگاری ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا گیا تو ایک تباہ کُن جنگ کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔