آدھارکارڈوں کیلئے ریاست میں 104 لاکھ افرادکا اندراج

 سرینگر//چیف سیکرٹری بی بی ویاس نے کل یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں ریاست میں آدھار کے اندراج کے لئے جاری عمل کا جائیزہ لیا۔میٹنگ میں یو آئی ڈی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریجنل آفس چنڈی گڑھ رام سبہاگ سنگھ، کمشنر سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیکرٹری سوشل ویلفیئر،صوبائی کمشنر جموں( بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ) ، صوبائی کمشنر کشمیر، پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ایس اے، جوائنٹ ڈائریکٹر سینسس اپریشنز کے علاوہ سکولی تعلیم محکمہ،جموں وکشمیر بنک کے نمائندے اور دیگر متعلقہ افسران و اہلکار موجود تھے۔اس بڑے اصلاحی اقدام کی جانب توجہ دلاتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے24 جولائی2017 ءکو جموں خطہ کے ترقیاتی منظر نامے کا جائیزہ لینے کے لئے طلب کی گئی میٹنگ میں آدھار کے بارے میں عام لوگوں کو بڑے پیمانے پر جانکاری فراہم کرنے کی تلقین کی ہے تا کہ لوگ ڈی بی ٹی کے ذریعے سرکار کی جانب سے شروع کی گئی سکیموں سے استفادہ کرسکیں۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ مرکزی معاونت والی تمام سکیموں کو آدھار کے ساتھ جوڑنے کے مرکز کے فیصلے کے بعد آدھار کے اندراج کا صد فیصد ہدف حاصل کرنا لازمی بن گیا ہے تا کہ ہر فرد ان سکیموں سے فائدہ حاصل کرسکے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ ریاست جموں وکشمیر میں اب تک104 لاکھ افراد کے اندراج کا عمل مکمل کیا گیا ہے جبکہ 92 لاکھ آدھار کارڈ تیار کئے گئے ہیں۔میٹنگ میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ گذشتہ3 ماہ( مئی، جون، جولائی2017 ئ) کے دوران3.53 لاکھ بی ایم ای اندراج عمل میں لائے گئے ہیں جبکہ 1.84 لاکھ آدھار کارڈ جاری کئے گئے۔چنانچہ باقی ماندہ آبادی کو اب آدھار کے زمرے میں بھی لانا ہے جس کا بہت بڑا حصہ18 سال سے کم عمر کے افراد پر مشتمل ہے لہذا سکولوں اور آنگن واڑی مراکز میں آدھار کے سہولیت مراکز قائم کرنے پر زور دیاجارہا ہے۔اسی طرح سی ڈی پی او اور ڈی پی او کے دفاتر میں بھی آدھار سہولیت مراکز قائم کئے جائیں گے اور ریاست میں کام کر رہے بنکوں کی دس فیصد شاخوں میں بھی اسی طرح کے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں منتخب افراد کو یو آئی ڈی اے آئی کی جانب سے مطلوبہ تربیت فراہم کی جائے گی۔یو آئی ڈی اے آئی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے بعدریاست کے مختلف حصوں میں قائم294 ڈاک خانوں میں آدھار اپڈیشن سہولیات دستیاب رکھی جائیں گی۔چیف سیکرٹری نے ہدایات دیں کہ ریاست کے ہر ضلع میں تعینات اے ڈی ڈی سی آدھار کے اندراج کے عمل پر نگاہ رکھنے کا ذمہ دار ہوگا۔عوامی نمائندوں اورممبران اسمبلی کو اس سلسلے میں ضروری جانکاری دینے کے علاوہ اے ڈی ڈی سی ہر پندرہ دن کے بعد متعلقہ صوبائی کمشنر کی وساطت سے چیف سیکرٹری کے دفترمیں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔اے ڈی ڈی سیز اپنے متعلقہ اضلاع میں پندرھواڑہ بنیادوں پر آنگن واڑی ورکروں، اساتذہ اور آدھار کے عمل سے جڑے نجی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔اے ڈی ڈی سیز سماجی بہبود محکمہ سے اُن آنگن واڑی ورکروں اور محکمہ تعلیم سے اُن اساتذہ کی فہرست حاصل کریں گے جن کو آدھار کے اندراج کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔اے ڈی ڈی سیزکے دفاتر میں بھی جدید سہولیات سے لیس ایک دفتر قائم کیا جائے گا جس میںلوگوں کو آدھار کے اندراج سے متعلق ضروری جانکاری دی جائے گی۔اس سلسلے میں جموں اور کشمیر کے صوبائی کمشنر اے ڈی ڈی سیز کی فہرست انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ کو پیش کریں گے تا کہ یہ فہرست یو آئی ڈی اے آئی کو بھیجی جاسکے۔چیف سیکرٹری نے دونوں صوبوں کے صوبائی کمشنروں کو متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنروں اور اے ڈی ڈی سیز کے علاوہ یو آئی ڈی اے آئی کے حکام اور ادھار کے اندراج سے جڑے نجی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ متواتر میٹنگیں کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے شیڈول بنک بشمول جے کے بنک کے نمائندوں کو ہدایت دی کہ وہ اگلے دو ہفتوں کے اندر اندر اپنے بنک کی دس فیصد شاخوں میں آدھار سہولت مرکز قائم کرنے کو یقینی بنائیں۔ چیف سیکرٹری نے انفارمیشن ٹیکنالوجی محکمہ کو آدھار کے بارے میں جانکاری عام کرنے کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے وسیع تشہیری مہم شروع کرنے کی ہدایت دی تا کہ دسمبر2017 تک اہداف کو حاصل کیا جاسکے۔