آخری ملاقات کہانی

ہلال بخاری

جب بھی میں اسکے حسین و جمیل چہرے کا دیدار کرتا ہوں، اس کے دلکش عارض، دلفریب آنکھیں اور دل میں سما جانے والے لب دیکھ کر اپنے دل کو جیسے خوابوں کی کسی سنہری وادی میں پاتا ہو۔
وہ اس دن ایک عرصہ دراز کے بعد مجھ سے ملی۔ اگرچہ محبت میں لمحوں کی مسافت بھی صدیوں کی معلوم ہوتی ہے۔
اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ اسکا دل کس کرب سے گزر رہا ہوگا۔ مسکراہٹ اکثر دل کی آواز کو اشاروں میں بیان کرتی ہے۔ جب مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ آنکھیں متواتر جھکی رہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ لاچارگی کی ایک علامت ہے۔
وہ جب میرے قریب آئی تو ہم دونوں میں اتنا فاصلہ رہنا ضروری تھا جتنا وقت اور موقعے کا تقاضا تھا۔ ہمارا رشتہ ایسا تھا کہ ہم ایک دوسرے کے دل میں تو رہتے تھے مگر گلے لگانا تو دور ہم ایک دوسرے کے ہاتھ کو محبت کے جذبے سے تھامنے کو بھی ایفورڈ نہیں کرسکتے تھے۔
اس نے اپنی دل موہ لینے والی آواز میں مجھ سے مخاطب ہو کر بس اتنا پوچھا،
” تو ؟ ”
یہ مختصر لفظ اگر غور کریں تو لاکھوں الفاظ سے زیادہ تھا، ہزاروں سوالوں کا ایک ہی سوال تھا اور سب سے بوجھل غموں سے بھی بھاری بوجھ تھا۔ مگر میں اسکا جواب جانتا تھا کیونکہ میں نے سالہا سال سے اس سوال کے جواب کو تلاش کر کے تیار کیا ہوا تھا، بڑی دلیری کے ساتھ کیونکہ میں اب میچور ہو چکا تھا۔ مجھے اس بات کا علم تھا کہ ہمارے دل کے رشتے میں کبھی نہ کبھی یہ گھڑی آئے گی۔ کسی دانا شخص سے میں نے ایک بار سنا تھا کہ سچی محبت کے دوران آپکو مسرت کے بجائے درد و الم کی امید رکھنی چاہیئے۔ محبت سے صرف مزے کی امید وہ لوگ رکھتے ہیں جو ہوس کے پجاری ہوں۔
آج سے کچھ سال پہلے اگر ایسا سوال کیا جاتا تو شاید میں اسکا جواب دینے میں ناکام ہوجاتا۔
مگر اب میں سیکھ چکا تھا کہ محبت جیت کے ہار جانے کا نام ہے، پاکر تیاگ دینے کا نام ہے اور جدا ہوکر جی لینے کا نام ہے۔
سو میں نے کہدیا،
” میں تمہارے درد و کرب سے واقف ہوں۔ میں بھی شاید اسی حال سے گزر رہا ہوں۔ مگر ہمارے پاس اور کوئی اوپشن نہیں جدائی کے سوا۔”
یہ سن کر اسکی وہ دلفریب پلکیں دھیرے سے دلخراش انداز میں اٹھیں، پھر جھکیں۔۔۔۔یہ بے بسی کی علامت تھی مگر اس بے بسی کا میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ میں خود بے بس تھا۔
پھر آخری بار جانے سے پہلے اس نے میری طرف اس انداز سے دیکھا جیسے پھر سے وہی سوال دہرا رہی ہو۔
میں شاید کچھ نہ کہہ پاتا اگر مجھ میں ہمت نہ ہوتی مگر مجھ کو معلوم ہوچکا تھا کہ محبت بہادر لوگوں کا کام ہے۔
میں نے کہا،
“میرے لیے یہی کافی ہے کہ تم نے مجھے اپنے دل میں جگہ دی اور ہم نے اس رشتے کے جذبات میں بہہ کر کوئی ایسی بھول نہیں کی جس کی وجہ سے ہمارا یہ رشتہ داغدار ہوجاتا۔ میں تم کو مستقبل میں صرف آزاد اور خوش دیکھنا چاہتا ہوں، یہاں تک کہ اپنی ان دلخراش یادوں سے بھی آزاد۔”
پھر ہماری وہ آخری ملاقات ختم ہوئی۔ اس پر شاید میری وہ باتیں اس وقت گراں بھی گزری ہوں گی مگر میں جان گیا تھا کہ محبت جب پختہ اور میچور ہوجاتی ہے تو ایک کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت بن جاتی ہے۔

����
ہردوشورہ کنزر ، ٹنگمرگ
[email protected]