آخری انتخابی معرکہ پر توجہ مرکوز اننت ناگ-راجوری پارلیمانی حلقہ میں200سیکورٹی فورسز کمپنیاں تعینات

۔  18.30لاکھ رائے دہندگان،81,000 سے زیادہ پہلی بار شامل،20امیدوار میدان میں

سرینگر//جموں و کشمیر کی 5 میں سے4 پارلیمانی نشستوں پر پولنگ پرامن طریقے سے ختم ہو گئی ہے، اب توجہ اننت ناگ-راجوری حلقے کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔ پیر پنجال کے دونوں طرف پھیلے ہوئے اس حلقے میں اصل میں 7 مئی کو انتخابات ہونے والے تھے لیکن موسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے اسے 25 مئی تک موخر کر دیا گیا۔فریقین نے مغل روڈ کی بندش کا بھی حوالہ دیا جو جموں کو کشمیر سے جوڑنے والا ایک متبادل رابطہ ہے۔اس حلقے میں18.30 لاکھ سے زیادہ اہل رائے دہندگان ہیں،جن میں 8.99 لاکھ خواتین اور 81,000 سے زیادہ پہلی بار شامل ہورہے ہیں، جو 20 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے، جن میں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی ،نیشنل کانفرنس کے بااثر گجر لیڈر میاں الطاف اور اپنی پارٹی کے ظفر اقبال خان منہاس بھی شامل ہیں۔2022 میں حد بندی کمیشن کی سفارشات پر اننت ناگ-راجوری حلقہ کی تشکیل نو کی گئی، جس میں پلوامہ اور شوپیان کے کچھ حصوں کو چھوڑ کر اور راجوری اور پونچھ اضلاع کے بیشتر حصے کو شامل کیا گیا۔ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے محمد سلیم پرے اور 10 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔بالترتیب 13 اور 20 مئی کو سرینگر اور بارہمولہ لوک سبھا سیٹوں پر ریکارڈ توڑ ٹرن آئوٹ دیکھنے کے بعد اب انتخابی مہم میں تیزی آئی ہے، جیسا کہ ووٹروں نے ماضی کی علیحدگی پسندوں کی حمایت یافتہ بائیکاٹ کالوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ سرینگر کے حلقے میں تقریباً 38 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔بارہمولہ میں 58.17 فیصد ووٹروں کا ٹرن آوٹ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ گزشتہ تین دہائیوں میں دوسری سب سے زیادہ شرح ہے۔جموں صوبے کا ادھم پور لوک سبھا حلقہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پہلا حلقہ تھا جس نے 19 اپریل کو انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اس نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد یونین کے زیر انتظام علاقے میں پہلی بڑی انتخابی لڑائی میں 68 فیصد ٹرن آئوٹ درج کیا تھا۔ دوسرے مرحلے میں جموں پارلیمانی حلقہ میں 26 اپریل کو ہوئی پولنگ میں 69.01 فیصد ووٹ ڈالے گئے، جو اس الیکشن میں جموں و کشمیر میں اب تک کی سب سے زیادہ شرح ہے۔18 اسمبلی حلقوں میں پھیلے ہوئے ضلع اننت ناگ میں 7، راجوری میں 4، کولگام اور پونچھ میں 3 تین اور شوپیان میں ایک حلقہ شامل ہے۔ حلقے میں کل 2338 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں جن میں سے 2,113 دیہی اور 225 شہری علاقوں میں ہیں۔ انتخابی مہم آج یعنی جمعرات کی شام ختم ہونے والی ہے۔پولنگ والے اضلاع میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، عہدیداروں نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسطی اور شمالی کشمیر میں ریکارڈ توڑ ووٹنگ کا رجحان جنوبی کشمیر میں بھی جاری رہے گا۔
سیکورٹی فورسز تعیناتی
نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر آرمڈ پولیس کی تقریباً 200 اضافی کمپنیاں یا تو پہنچ چکی ہیں یا راجوری اور پونچھ جانے والی ہیں جو 25 مئی کو چھٹے مرحلے کی پولنگ میں جنوبی کشمیر کے ساتھ ساتھ انتخابات میں تعینات رہیں گی۔ سرنکوٹ میں دہشت گردانہ حملے کے بعد جڑواں سرحدی اضلاع میں نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔افسران نے بتایا کہ سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز(سی اے پی ایف)اور مسلح پولیس کی اضافی کمپنیوں کی تعیناتی راجوری اور پونچھ اضلاع میں تقریباً برابر ہے، ہر ضلع کو نیم فوجی دستوں اور مسلح پولیس کی تقریباً 100 کمپنیاں ملیں گی۔ یہ تعیناتی نیم فوجی دستوں اور پولیس کے علاوہ ہے جو دونوں اضلاع میں پہلے سے دستیاب ہے۔انہوں نے کہا، “اضافی کمپنیاں دونوں اضلاع میں منگل اور بدھ کو پہنچ گئی ہیں۔ انہیں بارہمولہ پارلیمانی حلقہ کے ان حصوں سے بھیجا گیا جہاںپانچویں مرحلے میں پولنگ ختم ہوئی تھی۔فوجی دستے پہلے ہی پیر پنجال کے جنگلات میں عسکریت پسندی مخالف تلاشی کارروائیوں میں مصروف ہیں اس کے علاوہ لائن آف کنٹرول کی موثر حفاظتکی جارہی ہے۔، راجوری اور پونچھ دونوں اضلاع پاکستان کے ساتھ ایل او سی کا اشتراک کرتے ہیں اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ایل او سی سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش کر سکتا ہے۔ راجوری اور پونچھ اضلاع میں آٹھ اسمبلی حلقے ہیں لیکن ایک حلقہ (سندربنی-کالا کوٹ) جموں لوک سبھا سیٹ کا حصہ ہے۔ دونوں اضلاع کی باقی سات اسمبلی سیٹیں اننت ناگ-پونچھ-راجوری پارلیمانی حلقہ میں آتی ہیں۔