آبی بحران کی عرضی میں خامیاں | سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کی سرزنش کی

یو این آئی

نئی دہلی//سپریم کورٹ نے قومی راجدھانی دہلی میں پانی کی اضافی فراہمی کے لئے ہدایت مانگنے والی عرضی میں کوتاہیوں کو دور کرنے کے لئے دی گئی توسیع کو نظر انداز کرنے پر دہلی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے عرضی کو خارج کر دیا ۔ وہ اخباری رپورٹس کی بنیاد پر احکامات جاری نہیں کر سکتا۔جسٹس پرشانت کمار مشرا اور پی بی ورلے کی تعطیلاتی بنچ نے درخواست گزار دہلی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ آخری سماعت کی تاریخ پر یقین دہانی کے باوجود خامیوں کو دور کرنے میں ناکامی کی بنیاد پر رٹ پٹیشن کو خارج کر تی ہے ۔بنچ کے سامنے بحث کرتے ہوئے ہریانہ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ شیام دیوان نے کہا کہ وہ حلف نامہ اور اسٹیٹس رپورٹ کو ای فائل نہیں کر سکتی کیونکہ دہلی حکومت کی رٹ پٹیشن میں ابھی بھی خامیاں ہیں۔اس پر بنچ نے دہلی حکومت کے وکیل سے کہا “آپ نے کوتاہیوں کو دور نہیں کیا ہے۔ اس کی نشاندہی پچھلی تاریخ پر کی گئی تھی۔ عدالتی کارروائی کو ہلکے میں نہ لیں۔ ہم اس بنیاد پر درخواست کو خارج کر دیں گے، چاہے کتنی ہی دیر ہو جائے۔ بنچ نے مزید کہا کہ جب یہ بیان دیا جاتا ہے کہ آپ کوتاہیاں دور کریں گے تو ہم اسے مسترد کرتے ہیں کہ آپ پانی کی قلت کا شکار ہیں، آخری تاریخ پر ہی حکم جاری کریں گے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ حلف نامہ اور اسٹیٹس رپورٹ کو ریکارڈ پر نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ رٹ پٹیشن میں موجود نقائص کو دور نہیں کیا گیا ہے، بنچ نے یہ بھی کہا کہ “بہت سی چیزیں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں، اگر ہم فائلیں ، جواب اور اسٹیٹس رپورٹ نہیں پڑھیں گے تو ہم اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں سے متاثر ہوں گے، یہ کسی پارٹی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ بنچ نے کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت بدھ کو ہوگی۔عدالت عظمیٰ نے 6 جون کو ہماچل پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ موجودہ موسم گرما کے دوران قومی راجدھانی دہلی میں پینے کے پانی کے شدید بحران کے پیش نظر 7 جون کو اس کے پاس دستیاب 137 کیوسک اضافی پانی دہلی کو جاری کیا جائے۔حکم جاری کرتے ہوئے جسٹس پرشانت کمار مشرا اور کے وی وشواناتھن کی تعطیلاتی بنچ نے اپر یمنا ریور واٹر بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ ہریانہ کے ہتھینی کنڈ میں اضافی سپلائی کی پیمائش کرے تاکہ دہلی کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بنچ نے ہریانہ کو ہدایت دی کہ وہ نہروں کے ذریعے پانی کا راستہ فراہم کرے۔جسٹس مشرا کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا “چونکہ ہماچل پردیش دہلی کو اضافی پانی فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اس لیے ہم ریاست کو ہدایت دیتے ہیں کہ جب بھی ہماچل پردیش کو ہتھینی کنڈ کے ذریعے اضافی پانی چھوڑا جائے گا، اپ اسٹریم سے 137 کیوسک اضافی پانی چھوڑے”۔ ہریانہ کے ہتھینی کنڈ کے ذریعے اضافی پانی کے بہاؤ کو آسان بنایا جائے تاکہ اسے دہلی کو پینے کے لئے پانی دستیاب کرایا جا سکے۔”بنچ نے یہ بھی کہا ’’ہم اس حقیقت سے واقف ہیں کہ سنگین بحران کے پیش نظر پانی کا ضیاع نہیں ہونا چاہیے۔‘‘