آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں ناقابل قبول:حریت(ع)

 سرینگر// حریت (ع)کے ترجمان نے جموںوکشمیر کے تشخص اور اس ریاست میںآبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہر لحاظ سے قابل تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سطح پر اس طرح کی کوئی بھی کوشش جموںوکشمیر میںپہلے سے ابتر حالات کو اور زیادہ ابتر بنانے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ ترجمان نے 35A کی فائل کے گم ہوجانے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فائل کی گمشدگی یا موجودگی سے اس حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ ریاست جموںوکشمیر کو مخصوص آئینی پوزیشن حاصل ہے جس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا چھیڑ چھاڑ کا جموںوکشمیر کے عوام بھر پور مزاحمت کریں گے۔ترجمان نے کہا کہ ہندوستان کے حکمران جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے مخصوص ایجنڈے پر عمل پیرا ہےں، اس قسم کی کوششیں ماضی میں کی گئی ہےں اور اب عدالتی نظام کا استعمال کرکے یہاں کے عوام کو حاصل حقوق چھیننے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ جموںوکشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے سیاسی مستقبل کے تعین کا فیصلہ یہاں کے عوام کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے نے کئی قراردادیں بھی پاس کی ہیں۔ترجمان نے کہا کہ دفعہ35A کے تحت ریاست جموںوکشمیر کو جو خصوصی درجہ حاصل ہے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا کوئی بھی عمل پوری کشمیری قوم کیلئے باعث فکر و تشویش ہے اورحکمرانوں کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی حیثیت اور ہیئت کو بگاڑنے کے کسی بھی عمل سے گریز کریں۔ترجمان نے کہا کہ یہاں کے عوام اپنے جائز حقوق کیلئے گزشتہ ۰۷ برسوں سے قربانیاں دے رہے ہیں اور وہ اپنے جائز حقوق کے دفاع کیلئے آئندہ بھی کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔