’’آؤ چلیں گاؤں کی اور‘‘ درد کی دَوا یا زخموں پر نمک پاشی؟

ایم شفیع میر

سرکاری پروگرام ،بیک ٹو ولیج یعنی’’آؤچلیںگاؤںکی اور‘‘ اسکیم کا بنیادی مقصدیہ تھاکہ اعلیٰ سطحی آفیسرا ن تمام اضلاع کے دور اُفتادہ گائوں جات کادور ہ کریںگے ،ازخود عوامی مسائل کا بغورجائزہ لیں،لوگوں کی شکایات سنیںگے اوراس دوران وہ جن عوامی مسائل سے آگاہ ہونگے پھرترتیب واران مسائل کاازالہ کریںگے ۔ابتدامیںمذکورہ اسکیم کی اس پہل پر لوگوںمیںکافی جوش و خروش نظر آرہا تھا ،عوام کی اُمیدیںجاگ اٹھیںتھیںکہ اب اُنکو درپیش مسائل کاکسی حد تک ازالہ ہو پائےگا۔چنانچہ اکثر لوگوںکا یہی گمان تھاکہ اُن کی آواز اعلیٰ آفیسران تک پہنچتی ہی نہیں ہے ۔تحصیل یا سب ڈویژن سطح کےآفیسران جان بوجھ کر عوامی مسائل کواعلیٰ حکام تک پہنچانےمیںلیت ولعل سےکام لےرہےہیں۔یہی وجہ ہےکہ عوام کی’’بیک ٹو ولیج ‘‘پروگرام سے اُن کی اُمیدیںوابستہ ہوچکی تھیں۔
عوام نےاس سرکاری پروگرا م کوابتدائی دورمیںکافی سراہا،اس آس و اُمید کے ساتھ کہ اب اعلیٰ سطحی حکام ازخودعوام کو درپیش مسائل کاآنکھوں دیکھا حال جانیں گے ،پھرجن خامیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے عوامی مسائل جنم لیتے ہیں، اُن کامحاسبہ کرکےعوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریںگے۔لیکن آج جب اس سرکاری پروگرام کا بخوبی جائزہ لیا جاتا ہے تو سرکار کی ’’آؤ چلیں گاؤں کی اور‘‘ اسکیم صرف گاؤں کے سیر کرنے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔گائوں جات میں باشندگان کو درپیش مسائل و مصائب کا ازالہ کیسے اور کب کرنا ہے، یہ سب مذکورہ پروگرام کا حصہ نہیں رہا۔دیہی آبادی کے مسائل کا سِد باب کیا ہوگا یہ ابھی بھی ایک چیلنج بنا ہوا ہے ۔عوا م حیران و پریشان ہوکر اظہار کر رہےہیںکہ سرکار کی جانب سےشروع کیاگیا پروگرام’’آؤچلیںگاؤںکی اور‘‘اب ایک فضو ل مشق ہے۔محض آفیسران کیلئےتفریح کاایک موقعہ ہے۔دیہاتوںمیںآفیسران کاظہرانہ یعنی ’’لنچ‘‘پروگرام ہے، جس سےعوامی مسائل کا کوئی سدِباب نہیں ہوتابلکہ عوام کےساتھ ایک مذاق ہورہا ہے۔بیشترلوگوںکی شکایا ت ہیںکہ آفیسران بیک ٹو ولیج میںعوام کےساتھ اس طرح کےوعدےکرتےہیں،جس طرح سیاستدان ووٹ بٹورنےکی خاطر رائےدہندگان کے ساتھ کرتے ہیں اور انہیں طرح طرح کےحیلوںاوربہانوںسےلبھاتےہیں۔قابل ِ ذکر ہے کہ پروگرام کی شروعات بھی کسی سیاسی جلسے کے طرزپر ہی کی جاتی ہے۔آفیسر موصوف جب اسٹیج پر اپنے قدم رکھتےہیںتو اسکولی بچے اور عام لوگوں کو اُسکےسواگت کیلئےکھڑاکر دیاجاتا ہے،تالیوںکی گونج کیساتھ آفیسرموصوف اسٹیج پر آدھمکتےہیں، پھر آدھ ایک گھنٹہ پھول مالائیںپہنانےمیںگزر جاتاہے، پھر کوئی سرپنچ یاکھڑپنچ آفیسرموصو ف کی قصدہ گوئی کیساتھ پروگرا م کا آغاز کرتا ہے ۔اس کے بعد ایک دو گھنٹے اسکولی بچوںکےذریعہ’’ناچ گانے‘‘کا سیشن کروایاجاتاہے،پھر ایک ڈیڑھ گھنٹہ مقامی گیت کاروں کی سُرتال کا سرور حاصل کیاجاتاہے ۔اسکےبعد گزشتہ ’’بیک ٹو ولیج پروگرام ‘‘میںسُنائےگئےمسائل سمیت کچھ نئےمسائل کویاد کیا جاتا ہے۔گولڈن کارڈکی تقسیم کاری یا تعریفی اسناد کی تقسیم کاری کیساتھ پروگرام کااختتام کیاجاتاہےاور آفیسرموصوف پرانےو نئے تازے عوامی مسائل کا تھیلااُٹھاکرچل پڑتےہیںاور پھرسےآنےکاوعدہ کرتے ہیں۔
عوامی حلقوں میں ’’بیک ٹو ولیج ‘‘ پروگرام سے متعلق زبردست بد ظُنی پائی جا رہی ہے۔لوگوں میں زبان زد عام یہ ہے کہ بیک ٹو ولیج کا سرکار ی پروگرام’’نشستاً، گفتاً ، برخاستاً‘‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بیشتر گاؤں جات سے لوگوں نے بیک ٹو ولیج کے بارے میں کہنا ہے کہ اگر سرکارکی منشاء یہی ہے کہ ’’آؤ چلیں گاؤں کی اور‘‘ پروگرام کی آڑ میں اعلیٰ آفیسران کوایکسکرشن کرانا ہے یا علاقے میں میوزیکل پروگرام کرانے سے محظوظ ہونا ہے، تو پھر یہ پروگرام گائوں کے ایک سرپنچ کی صدارت میں بھی کرائے جا سکتے ہیں ۔ سرکاری امداد کی بنیاد پر ایک سرپنچ بڑی آسانی سے اس طرح کے پروگرام کو بحوبی انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر KASیا IASآفیسر کو گائوں میں محض اس لئے بھیجناہے کہ وہ جا کر گائوں کے لوگوں میں گولڈن کارڈز تقسیم کرے یا پھر گیت کاروں کی دُھن میں مسرور ہونے کا شرف حاصل کرے، تو ہمارے خیال میں یہ نہ صرف عوام کیساتھ مذاق ہے ،بلکہ اُس آفیسر کی عزت اور وقار کیلئے بھی بھدا مذاق ہے۔ اعلیٰ آفیسران کوگائوں بھیجنے کیلئے اُن کا خرچہ اُٹھاناسرکاری خزانہ عامرہ کی مزید لوٹ کھسوٹ کے مترادف ہے ۔ غور طلب ہے کہ جس آفیسر کے تئیں لوگوں نے اپنی اُمیدیں باندھ رکھی ہوتی ہیں کہ کوئی اعلیٰ آفیسر مسائل سننے کیلئے گائوں تشریف لائیں گے اور پھر ہمارے مسائل کا ازالہ بھی کروائیں گے، لیکن جب وہی آفیسر کسی سیاسی بابو کی مانند گائوں میں آئے گا اور لوگوں کے مسائل سننے کے بجائے اپنی تفریح کو اہمیت دے گا تو پھر گاؤں کے اُن مکینوں کےلئے وشواس گھات نہیں تو اور کیا ہوگا؟لوگوں کا ماننا ہے محض میوزیکل پروگرامز یا گولڈن کارڈز کی تقسیم کاری کیلئے سرکار جتنے پیسے اپنے اعلیٰ افسر بابوؤں کی سیر و تفریح پر صرف کرتی ہے اس سے بہتر ہے کہ سرکار اُن گائوں جات میںاُن آفیسران کی تعیناتی کو یقینی بنائے، جہاں مہینوں یا برسوں سے اعلیٰ آفیسران کی کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور لوگوں کے بیشمار کام رُکے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر سرکار گائوں کے بیشتر محکمہ جات میں خالی پڑی اعلیٰ آفیسران کی اسامیوں کو پُر کرے اور پھر اُن ہی آفیسران ’’بیک ٹو ولیج ‘‘ پروگرام کا کام سونپ دیں تو اطمنان بخش نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔کیونکہ عوام کو جن آفیسران کیساتھ روزانہ کا واسطہ ہے، وہ آفیسران لازمی طور عوام کیساتھ کسی قسم کا ٹال مٹول نہیں کر سکتے ہیں جبکہ عوام کو بھی مسائل کے ازالہ کےلئے ’’بیک ٹو ولیج ‘‘کے اگلے مرحلے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
قابلِ غور ہے کہ اکثر گاؤں جات میں اعلیٰ آفیسران کے عہدوں کی کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور آئے روز لوگ یہ احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیںکہ خالی پڑی اسامیوں کو پورا کیا جائے لیکن احتجاج کے اس نہ تھمنے والے سلسلے پر سرکار کی کوئی واضح پالیسی یا اس جانب کو ئی سنجیدگی یا دلچسپی سامنے نہیں آرہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ’’بیک ٹو ولیج‘‘‘پروگرام عوام کے درد کی دوا نہیں بلکہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔یہاں اگر ضلع رام بن کی مثال لی جائے تو شائد ہی کوئی ہفتہ ہو ،جب ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول کی عوام سراپا احتجاج نہیں ہوتی ۔ عوام بار ہا یہ مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے کہ سب ڈویژن میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ SDMکی کرسی خالی،زونل ایجوکیشن کی کرسی خالی، کئی اسکولوں میں ہیڈماسڑ کی کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں، یہاں تک کہ جس علاقے میںخود منصف کی کرسی انصاف کی بھیک مانگ رہی ہو،اُس علاقے کی عوام کیساتھ انصاف کب ہوگا؟ وہیں دوسری جانب حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ضلع رام بن کی انتظامیہ کو عوام کے درپیش مسائل کا ازالہ کرنے کے عوض ’سلورمیڈل ‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔اگر سرکار ایسی صورتحال پر بھی سلور، ،تانبے،کانسے اور سونے کے میڈل بطورِ اعزاز بانٹتی رہی تو پھر عوام کا کیا حشر ہو تا رہے گا ، اور آنے والے وقت میں عوام کو کس طرح مزید مسائل و مصائب سے دوچار ہونا پڑے گا، ایک کھلی کتاب کی طرح نمایاں ہورہا ہے۔
(رابطہ۔7780918848, 9797110175)
[email protected]